بہار کے غیر سرکاری منظور شدہ مدارس کی جانچ؛ گرانٹ صرف اہل اداروں کو ملے گی
بہار میں غیر سرکاری منظور شدہ مدارس کو بہار اسٹیٹ مدرسہ استحکام اسکیم کے تحت اب مشروط گرانٹ دی جائے گی۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے یہ فیصلہ پٹنہ ہائی کورٹ کے 24 جنوری 2024ء کے فیصلے کے تناظر میں لیا ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ریاست کے مدارس کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا، ضروری سہولتیں فراہم کرنا اور بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرنا ہے۔
محکمۂ تعلیم سے ملی سرکاری اطلاع کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم کے بعد متعلقہ مدارس کی زمینی جانچ کے لیے تین سطحی ضلعی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے تمام منظور شدہ مدارس کا فیلڈ معائنہ کیا، جس کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ محکمۂ تعلیم کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے لیا۔
رپورٹ کے مطابق 125 مدارس مقررہ شرائط پر پورا نہیں اترے، جس کے بعد ان کی منظوری منسوخ کر دی گئی اور انہیں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بعد ازاں مدارس کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات کی دوبارہ جانچ میں صرف 17 مدارس کو مکمل طور پر اہل پایا گیا اور انہیں گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اس سے پہلے 86 مدارس کو گرانٹ جاری ہو چکی تھی۔
محکمۂ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ غیر سرکاری منظور شدہ مدارس کو یہ گرانٹ صرف تب دی جائے گی جب وہ استحکام اسکیم کے تمام معیار، ضوابط اور ضروری شرائط پوری کریں گے۔ محکمے کے مطابق یہ گرانٹ ’’معیار کے ساتھ مشروط‘‘ ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں امداد روک دی جائے گی۔
اس سلسلے میں سیکنڈری ایجوکیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کُش کمار نے مدھوبنی، بھاگلپور، کشن گنج، دربھنگہ، ویشالی، سمستی پور اور شیوہر کے ڈی ای اوز کو باضابطہ ہدایات جاری کی ہیں۔ تمام اضلاع کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ مدارس کے کاغذات، بنیادی سہولتیں، اساتذہ کی دستیابی، عمارت کی حالت اور دیگر شرائط کی مکمل جانچ کر کے ہی گرانٹ کی سفارش آگے بھیجیں۔
محکمۂ تعلیم کے مطابق غیر سرکاری مدارس کی گرانٹ مدرسہ بورڈ کی سفارش کے بغیر جاری نہیں کی جائے گی۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو مدارس کے الحاق کی منظوری، ضوابط بنانے، معیار پر پورا نہ اترنے والے مدارس کی منظوری واپس لینے اور گرانٹ کے لیے سفارش کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مدرسہ نظام میں شفافیت لانا، تعلیم کا معیار بہتر کرنا اور ریاست کے مدارس کو معیاری بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مضبوط بنانا ہے۔

مدارس میں شفافیت بہت ضروری ہے کیونکہ اراکین من مانا طور پر اپنے رشتے داروں/پیسے والوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔