جھارکھنڈ: غیر امدادی تعلیمی اداروں کی گرانٹ میں اضافے کی تجویز
رانچی: جھارکھنڈ حکومت نے غیر امدادی انٹر کالجوں، ہائی اسکولوں، سنسکرت اسکولوں اور مدارس کے لیے سرکاری گرانٹ میں ترمیم اور اضافہ کرنے کی تجویز دی ہے۔ حکومت کے مطابق آئندہ گرانٹ کی رقم تعلیمی معیار کی بنیاد پر طے کی جائے گی، جس کے لیے میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور دیگر امتحانات کے نتائج کو معیار بنایا جائے گا۔ یہ نظام ڈگری کالجوں کی طرز پر نافذ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
تاہم گرانٹ میں 75 فیصد اضافے کی منظوری نہ ملنے پر غیر امدادی تعلیمی اداروں نے احتجاج کیا ہے۔ اس کے تحت 515 غیر امدادی اداروں نے مالی سال 2025-26 کے لیے آن لائن درخواستیں جمع نہیں کرائیں۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 13 دسمبر کو ختم ہو چکی ہے۔ اسکول ایجوکیشن اور لٹریسی محکمہ اب آخری تاریخ میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔
ریاستی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے گرانٹ کی مد میں 100 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ عام حالات میں ہر سال 620 سے 625 ادارے درخواست دیتے ہیں، جن میں 195 انٹر کالج، 334 ہائی اسکول، 46 مدارس اور 40 سنسکرت اسکول شامل ہوتے ہیں۔
اس سال صورتحال خاصی مختلف رہی۔ صرف 10 سے 15 نئے اداروں نے منظوری کے بعد درخواست دی، جبکہ ایک بھی مدرسے یا سنسکرت اسکول نے گرانٹ کے لیے درخواست نہیں دی۔ اس سے مدرسوں کی مالی حالت اور حکومتی پالیسیوں پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔
درخواستیں روکنے کی اپیل وٹ رہت شکشا سنیکت سنگھرش مورچہ (غیر امدادی تعلیمی اداروں کی مشترکہ جدوجہد تنظیم) کی جانب سے کی گئی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ملحقہ ڈگری کالجوں کو مالی سال 2024-25 میں 75 فیصد گرانٹ اضافہ دیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود مدارس اور دیگر غیر امدادی اداروں کے مطالبات نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران متعلقہ وزیر سدیویا کمار نے یقین دہانی کرائی تھی کہ انٹر کالجوں، مدارس اور دیگر اداروں کے لیے بھی ڈگری کالجوں کی طرح معیار طے کیے جائیں گے اور گرانٹ بروقت جاری کی جائے گی۔ لیکن زمینی سطح پر اس کا اثر نظر نہیں آ رہا، جس کے باعث خاص طور پر مدارس میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
