شاداں فاروقی: متھلا اور دربھنگہ کا محقق
غالب شمس
مجھے بچپن ہی سے بہار کی تاریخ سے دل چسپی رہی ہے۔ میری پرانی ڈائریاں، منتشر نوٹس اور وقتاً فوقتاً لکھے گئے مضامین اس بات کے گواہ ہیں کہ تاریخ میرے لیے ہمیشہ شناخت، تہذیب اور اجتماعی حافظے کی بازیافت کا ذریعہ رہی ہے۔ دربھنگہ کی تاریخ پر نگاہ ڈالوں تو چند نام ایسے سامنے آتے ہیں جو مورخ تو تھے ہی، اصل میں تاریخ کو اس کی اصل صورت میں بازیافت کرنے والے بھی تھے۔ الیاس رحمانی نے دربھنگہ کی گم ہوتی تاریخ کو جس محنت سے سامنے لایا، وہ اپنی جگہ ایک بڑا اور قابلِ قدر کام ہے۔ اسی طرح متھلانچل کی تاریخ کو اگر کسی نے باقاعدہ دستاویز کی شکل دینے کی کوشش کی تو وہ شاداں فاروقی ہیں۔
شاداں فاروقی ان شخصیات میں سے ہیں جن کی زیادہ تر علمی و تحقیقی محنت غیر مطبوعہ رہ گئی، مگر اس کے باوجود ان کے کام کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے۔ ’’تذکرہ بزم شمال‘‘ ہی ان کی علمی بصیرت، تحقیقی دیانت اور تاریخی شعور کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان کی زندگی اور خدمات پر جس درجے کا کام ہونا چاہیے تھا، وہ اب تک نہیں ہو سکا۔ مجیر احمد آزاد کی کتاب ’’شاداں فاروقی: حیات و خدمات‘‘ ایک مستند اور تفصیلی حوالہ ضرور ہے، لیکن شاداں فاروقی کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے علمی دائرے کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے۔ دلی دعا ہے کہ آئندہ کوئی صاحبِ نظر محقق ان پر وہ کام کرے جس کے وہ واقعی مستحق ہیں۔
شاداں فاروقی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ تاریخ، تحقیق، تنقید، شعر و ادب اور خاص طور پر غزل ان سب میدانوں میں ان کی گرفت مضبوط تھی۔ ان کا اصل نام محمد بشیر فاروقی تھا اور شاداں تخلص۔ علمی اور ادبی حلقوں میں وہ شاداں فاروقی ہی کے نام سے جانے پہچانے گئے۔
ان کی ولادت ۲ جون ۱۹۲۵ء کو علی نگر، ضلع دربھنگہ میں ہوئی۔ تاریخِ پیدائش کے سلسلے میں کسی طرح کا ابہام نہیں ہے۔ ان کے تعلیمی اسناد، ذاتی بیانات اور معتبر تذکروں میں یہی تاریخ درج ہے۔ عبدالمنان طرزی نے ’’رفتگاں و قائماں‘‘ میں بھی اسی تاریخ کی توثیق کی ہے، اس لیے اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
شاداں فاروقی ایک معزز، دیندار اور صاحبِ حیثیت زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ علی نگر اور اس کے نواح میں ان کے خاندان کی سماجی حیثیت مسلم تھی۔ ان کے اسلاف زمینداری کی شان و شوکت کے باوجود علم و ادب کے قدر دان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دولت اور رعب کے ماحول میں پرورش پانے کے باوجود ان کی شخصیت میں علم دوستی اور تہذیبی شائستگی نمایاں رہی۔
ان کے آباؤ اجداد کا تعلق اتر پردیش کے الہ آباد کے قصبہ ملاواں سے تھا۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً دو سو سال قبل ان کا خاندان علی نگر آ کر آباد ہوا اور یہاں بڑی زمینداری حاصل کی۔ خود شاداں فاروقی نے ’’تذکرہ بزمِ شمال‘‘ میں اس کی تصدیق کی ہے۔ پروفیسر مرتضیٰ اظہر رضوی نے بھی اپنے مضمون میں اس ہجرت اور قیام کی توثیق کی ہے۔ خاندانی روایت کے مطابق ان کا سلسلۂ نسب حضرت عمر فاروقؓ سے ملتا ہے، اسی نسبت سے وہ خود کو فاروقی کہتے تھے۔
تعلیم کا آغاز خاندانی روایت کے مطابق گھر ہی پر ہوا۔ رسمِ بسم اللّٰہ مکتب میں ادا کی گئی اور ابتدائی تعلیم مولوی منظور حسن فاروقی، المعروف منظور علی نگری، سے حاصل کی۔ شاداں فاروقی خود ان کی علمی عظمت اور خوش نویسی میں مہارت کا اعتراف کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تکمیل کے بعد اردو اور پھر فارسی کی طرف توجہ ہوئی۔ گلستاں، بوستان، دیوانِ حافظ اور دیگر کلاسیکی متون سے اسی دور میں شغف پیدا ہوا۔ خطِ نستعلیق میں بھی انہیں خاصی مہارت حاصل ہوئی، جس میں ان کے چچا حافظ شہاب الدین فاروقی احقر کی تربیت کا بڑا دخل تھا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد بدلتے ہوئے حالات نے انہیں انگریزی تعلیم کی طرف مائل کیا۔ ۱۹۳۷ء میں وہ کورونیشن ہائی اسکول، مدھے پور (موجودہ جواہر ہائی اسکول) میں داخل ہوئے اور ۱۹۴۲ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد سی ایم کالج دربھنگہ سے آئی اے کیا۔ حالات کے سبب اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ وقتی طور پر منقطع ہو گیا، لیکن علم سے ان کا رشتہ کبھی ٹوٹا نہیں۔ بالآخر دورانِ ملازمت بہار یونیورسٹی مظفرپور سے ۱۹۷۱ء میں اردو میں بی اے آنرز امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔
جنوری ۱۹۵۰ء میں شفیع مسلم ہائی انگلش اسکول، لہیریا سرائے میں ان کی تقرری ہوئی۔ وہ شوسل سائنس کے استاد تھے، مگر اردو اور انگریزی بھی پڑھاتے تھے۔ نظم و ضبط کے سخت قائل تھے، مگر دل کے نرم۔ ضرورت مند طلبہ کی چپکے سے مدد کرتے اور شاگردوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ اسی لگن اور دیانت کے باعث انہیں اسکول کا سپرنٹنڈنٹ بنایا گیا۔ تینتیس سال کی تدریسی خدمات کے بعد ۳۰ جون ۱۹۸۳ء کو وہ سبکدوش ہوئے۔
۱۹۴۶ء میں ان کی شادی مستعمل پور اسٹیٹ کے رئیس محمد افضل الدین کی دختر نفیسہ خاتون سے ہوئی۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور وفا شعار شریکِ حیات تھیں۔ ۱۹۸۷ء میں ان کے انتقال نے شاداں فاروقی کو اندر سے توڑ دیا۔ ان کی چار اولادیں ہوئیں، جن میں سے دو کم عمری میں انتقال کر گئیں، جبکہ دو بیٹیاں بقیدِ حیات ہیں۔
ان کی ادبی زندگی کا آغاز عملی طور پر ۱۹۵۰ء کے آس پاس ہوا۔ علی نگر کا ادبی ماحول، محرم کی مجالس، مرثیہ اور سلام کی روایت اور خاندانی شاعرانہ فضا نے ان کے ذوق کو جلا بخشی۔ شاعری میں انہوں نے پروفیسر اختر قادری کو اپنا استاد مانا اور بعد میں محسن دربھنگوی سے اصلاح لیتے رہے۔
ان کی تصانیف میں ’’تذکرہ بزمِ شمال‘‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جب کہ تاریخِ متھلانچل، تاریخُ المساجد اور متعدد تحقیقی و شعری مجموعے غیر مطبوعہ رہ گئے۔ انہوں نے کئی شعری مجموعے مرتب بھی کیے، جو ان کی ادبی بصیرت کا ثبوت ہیں۔ انہیں مختلف اعزازات سے بھی نوازا گیا، مگر ان کے لیے اصل اعزاز وہ علمی سرمایہ تھا جو انہوں نے اپنے بعد والوں کے لیے چھوڑا، جو آج بھی تحقیق کے طالب علموں کے لیے رہنما حیثیت رکھتا ہے۔
شاداں فاروقی کا انتقال ۵ مئی ۲۰۰۴ء کو علی نگر، دربھنگہ میں ہوا، اور وہیں ان کی تدفین ہوئی۔ ان کے انتقال کے ساتھ دربھنگہ اور متھلانچل کی ایک ایسی روایت کمزور پڑ گئی جو نمود و نمائش سے دور رہ کر مسلسل محنت پر یقین رکھتی تھی۔
شاداں فاروقی نے خاموشی سے تاریخ کے بکھرے ہوئے اوراق سمیٹے۔ نہ خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کی، نہ بڑے دعوے کیے۔ ان کا کام ہی ان کی اصل پہچان ہے۔ متھلا اور دربھنگہ کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
