مدارس کو نشانہ بنانے کی کوشش پر سپریم کورٹ برہم، این جی او پر ایک لاکھ روپے جرمانہ
نئی دہلی | 12 دسمبر 2025
سپریم کورٹ نے مدارس اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کو حقِ تعلیم قانون (آر ٹی ای) کے دائرے میں لانے کی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے ایک این جی او کی مفادِ عامہ کی عرضی خارج کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور واضح کیا کہ طے شدہ آئینی فیصلوں کو دوبارہ چیلنج کرنا عدلیہ کے وقار اور آئینی نظام کے خلاف ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ عدالت نے کہا کہ 2014 میں آئینی بنچ اس معاملے پر صاف فیصلہ دے چکا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق اقلیتی تعلیمی ادارے، جن میں مسلم مدارس بھی شامل ہیں، حقِ تعلیم قانون کے دائرے میں نہیں آتے۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے کو آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت چیلنج کرنا عدالتی عمل کا سنگین غلط استعمال ہے۔
سماعت کے دوران بنچ نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی عرضیاں عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کے مقدمات نہ صرف نظامِ انصاف پر سوال کھڑے کرتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جب عرضی گزار کے وکیل نے درخواست واپس لینے کی اجازت مانگی تو عدالت نے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ دوسروں کے لیے سبق ہونا چاہیے۔
آر ٹی ای، اقلیتی ادارے اور آئینی تحفظ
حقِ تعلیم قانون 2009 کے تحت 6 سے 14 سال کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس قانون کی ایک شق کے مطابق نجی اسکولوں میں غریب بچوں کے لیے 25 فیصد نشستیں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ تاہم آئین کا آرٹیکل 30 اقلیتی برادریوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلائیں۔ اسی آئینی تحفظ کے تحت سپریم کورٹ نے 2014 میں واضح کر دیا تھا کہ آر ٹی ای قانون اقلیتی اداروں، خصوصاً مدارس، پر لاگو نہیں ہوگا۔
زیرِ بحث عرضی میں این جی او نے دعویٰ کیا تھا کہ اقلیتی اداروں کو آر ٹی ای سے مستثنیٰ رکھنا آئین کے آرٹیکل 14، 15، 16، 21 اور 21-اے کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آر ٹی ای قانون کی دفعہ 12(1)(c) اقلیتی اداروں پر بھی نافذ کی جائے اور اس مقصد کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی جائے۔ عدالت نے ان تمام دلائل کو یکسر مسترد کر دیا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پرگامی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ بنام یونین آف انڈیا (2014) کیس میں آئینی بنچ کا فیصلہ پابند حیثیت رکھتا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا، بطور ماسٹر آف روسٹر، اس نوعیت کے معاملات کو پہلے ہی بڑی بنچ کے ذریعے طے کر چکے ہیں، اس لیے دوبارہ سماعت کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ عدالت نے ان وکلاء کو بھی تنبیہ کی جو ایسی عرضیوں کا مشورہ دیتے ہیں اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کلیریئن ڈاٹ نیٹ اور دیگر آزاد میڈیا پلیٹ فارمز کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں مدارس کے خلاف دباؤ، قانونی کارروائیوں اور مہمات کا سلسلہ جاری ہے۔ کہیں مدارس کو سیل کیا جا رہا ہے، کہیں ان پر غیر قانونی ہونے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، اور کہیں انہیں زبردستی عام تعلیمی نظام میں ضم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان تمام کوششوں کے لیے واضح پیغام ہے جو آئینی تحفظ کے باوجود مدارس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
تعلیمی اور مذہبی حلقوں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے ایک بار پھر آئین کی بالادستی کو برقرار رکھا ہے۔ ایک مدرسہ ذمہ دار کے مطابق، جب معاملہ آئینی بنچ طے کر چکا ہو تو اسے بار بار اٹھانا بدنیتی کے سوا کچھ نہیں۔
ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر کے سپریم کورٹ نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ اقلیتی حقوق سے متعلق طے شدہ آئینی فیصلوں میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف مدارس کے آئینی تحفظ کی توثیق ہے بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ قانون کی بالادستی ہر طرح کے دباؤ، مہم اور سیاسی شور سے بالاتر ہے۔
