وضاحت: یہ تصویر علامتی اور تخیلاتی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
لکھنؤ: اتر پردیش کے ضلع مرزا پور میں مدارس کی منظوری اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق ایک بڑے گھوٹالے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ نے محکمہ اقلیتی بہبود کے کام کاج پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ میں 89 مدارس کی منظوری میں بے ضابطگی اور کروڑوں روپے کی خرد برد کے شواہد ملے ہیں۔
ایس آئی ٹی نے مرزا پور میں مجموعی طور پر 143 مدارس کی جانچ کی۔ جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مدرسہ جدید کاری اسکیم کے تحت کئی مدارس کو عارضی منظوری دی گئی، مگر نہ ریکارڈ کی درست جانچ ہوئی اور نہ ہی موقع پر جا کر معائنہ کیا گیا۔ اس کے باوجود اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے بجٹ طلب کیا گیا اور بعض ایسے مدارس کو بھی رقم جاری کر دی گئی جن کے لیے کوئی بجٹ منظور نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق مدرسہ جدید کاری اسکیم میں تعینات اساتذہ اور اسسٹنٹس کو بغیر کسی دستاویزی یا فزیکل تصدیق کے غیر قانونی طور پر اعزازیہ ادا کیا گیا۔ اس پورے عمل میں افسران، ملازمین اور مدرسہ منتظمین کی ملی بھگت پائی گئی ہے، جو سرکاری احکامات اور اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل ایکٹ 2004 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایس آئی ٹی نے محکمہ اقلیتی بہبود کے متعدد افسران، ملازمین اور 42 مدرسہ منیجروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں نیرج کمار اگروال (موجودہ ضلع اقلیتی بہبود افسر، سدھارتھ نگر)، وشنو کمار مشرا (موجودہ ضلع اقلیتی بہبود افسر، سون بھدر)، وجے پرتاپ یادو (موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر، اعظم گڑھ)، شیو شنکر مالویہ (ریٹائرڈ کلرک)، سراجیش گری (کمپیوٹر آپریٹر) اور 42 مدرسہ منتظمین کے نام شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 409 اور 120-B کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اُس وقت کے ضلع اقلیتی بہبود افسر ونود کمار جیسوال، جو اب ڈپٹی ڈائریکٹر گورکھپور ہیں، نے سال 2017 میں بغیر مناسب تصدیق کے ڈیجیٹل دستخط کے ذریعے مدارس کو لاگ اِن کیا اور تقریباً 1 کروڑ 19 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی۔ ان کے خلاف محکمانہ جانچ پہلے سے جاری ہے، تاہم رپورٹ میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔
ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق اس پورے معاملے میں تقریباً 2 کروڑ روپے کے سرکاری فنڈ کی خرد برد کے شواہد ملے ہیں۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ریاستی سطح پر سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے کہ جو واقعی قصوروار ہیں، وہی قانون کے دائرے میں آئیں، اور جو حق دار اور بے قصور ہیں، انہیں نشانہ نہ بنایا جائے۔
واضح رہے کہ 26 جون 2020 کو ڈائریکٹر اقلیتی بہبود کی سفارش پر 12 نومبر 2020 کو اس معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دستاویزی اور زبانی شواہد کے تفصیلی تجزیے کے بعد بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس انکشاف کے بعد اتر پردیش میں مدرسہ نظام کی شفافیت اور نگرانی کے نظام پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
