وضاحت: یہ تصویر علامتی اور تخیلاتی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
لکھنؤ:
مرزاپور ضلع کے مدارس کی جانچ سے متعلق خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 143 مدارس کی جانچ کی گئی۔ ان میں 89 مدارس کی منظوری غیر قانونی پائی گئی۔ مدرسہ جدیدکاری اسکیم کے تحت اساتذہ کو غیر قانونی واجبات کی ادائیگی کے معاملات میں کئی ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم الزام ہے کہ رپورٹ میں اہم نکات نظر انداز کیے گئے اور بعض ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔
باوثوق ذرائع کے مطابق رپورٹ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ 189 مدارس میں سے 69 میں 2017 سے 2020 کے درمیان غیر قانونی ادائیگیوں کے ذمہ دار مبینہ طور پر اس وقت کے ضلع اقلیتی بہبود افسر ونود کمار جیسوال تھے، مگر ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔ اس سے رپورٹ کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔
ایس آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر قانونی مدارس کو مدرسہ جدیدکاری اسکیم میں شامل کرنے کے پروپوزل، ڈائریکٹوریٹ مصلح کی کمیٹی کی سفارش کے بعد آگے بڑھائے گئے۔ مگر کمیٹی کی ذمہ داری اور اس کے ارکان کے کردار کی جانچ نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 15 مدارس نے این ایس سی کے معیار کی خلاف ورزی کی۔ 35 مدارس کو دوسرے مدارس کی این ایس سی کی بنیاد پر منظوری دی گئی۔ ان میں سے کئی مدارس رجسٹرار آفس سے منظور ہوئے، لیکن رجسٹرار آفس کے افسران اور ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی تجویز نہیں کی گئی۔
سب سے سنگین الزام 2017 میں بنائے گئے مدرسہ پورٹل سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ کئی مدارس کا ڈیٹا دوسری سوسائٹی، دوسرے منتظم اور دوسرے مقام کے نام پر ڈیجیٹل طور پر لاک کیا گیا۔ اسی بنیاد پر غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس عمل کے ذریعے پرانے مدارس کے وجود کو ختم کرنے اور نئے جعلی مدارس قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ایس آئی ٹی نے اس پہلو پر کوئی واضح وضاحت نہیں دی۔
ان تمام نکات کی روشنی میں کہا جا رہا ہے کہ ایس آئی ٹی کی جانچ نہ مکمل ہے اور نہ ہی شفاف۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اعلیٰ سطح پر اس رپورٹ کو اطمینان بخش نہیں مانا گیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اتر پردیش کے محکمہ داخلہ کی جانب سے دوبارہ جانچ کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔
مدارس سے وابستہ افراد کا بھی کہنا ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدار اور جامع دوبارہ جانچ ضروری ہے، تاکہ اصل ذمہ داران کی شناخت ہو سکے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
