کتاب اور غفلت زدہ انسان
اقدس عارف
فطری طور پر ہر باشعور آدمی کی دیرینہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں ایک سے زائد زندگی جئے، لا محدود افراد سے ملاقات کا لطف اٹھائے، علماء و صلحاء کی مجالس سے فیض یاب ہوں، محققین کی علمی نشستوں سے بہرہ مند ہو، دور دراز ملکوں میں سیر وتفریح کرتا پھرے، مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کا جائزہ لے، جہاں بھر کی حسین وادیوں، دل افروز مناظر سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے، قلیل وقت میں معلومات کے سمندر میں غوطہ زنی کرے اور روح کی تسکین کا سامان مہیا کرے، کیا ایک ہی زندگی میں انسان یہ سارے کام انجام دے سکتا ہے؟ یا حیاتِ مستعار کی اس مختصر مدت میں یہ نعمتیں اس کو میسر ہوسکتی ہیں؟ اپنے ان خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے اس کے پاس ایک ہی راستہ ہوسکتا ہے اور وہ مطالعہ اور کتابوں سے دوستی، کتابوں کے مطالعے سے انسان کئی زندگیوں کا لطف لے سکتا ہے، رفتگان کی مجلسوں سے فیض یاب ہوسکتا ہے، اور آئندہ نسلوں کے لیے لائحہ عمل متعین کرسکتا ہے، عہدِ رفتہ کی مخفی باتیں اور مسقبل کے امکانات ورجحانات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، مطالعے کے ذریعے انسان گھنٹوں میں صدیوں کا سفر طے کرلیتا ہے۔ علاوہ ازیں مطالعہ انسان کی روحانی غذا ہے، مطالعہ سے آدمی کو کیف و سرور کی کیفیت حاصل ہوتی ہے، قلبی اطمینان اور روح کو تسکین میسر ہوتی ہے۔ مطالعہ عقل کو جلا بخشتا ہے، فکر ونظر میں غیر معمولی وسعت پیدا کرتا ہے، اور راہ عمل کی جستجو پیدا کرتا ہے، کتاب سے دوستی بہترین مشغلہ ہے، جبکہ مطالعے کے بغیر انسان کی افکار کے فرسودہ اور عزائم سست ہو جاتے ہیں۔
مطالعہ روح کی غذا ہے، اس لیے اسلام میں مطالعہ مستقل عبادت کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ علماء کرام نے مطالعہ کو فرض کے سوا ہر عبادت سے مقدم رکھا ہے، تاریخ ایسی روایات سے بھری پڑی ہے کہ علماء کرام نے مطالعہ اور علمی اشتغال کو شب بیداری سے افضل قرار دیا ہے، مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے امام احمد بن حنبل کا یہ قول نقل کیا ہے: علمی اشتغال میں رات کے کسی حصہ کو بسر کرنا میرے نزدیک احیاء شب (یعنی نماز پڑھنے سے) زیادہ بہتر ہے۔ سائل نے دریافت کیا کہ علم سے آپ کی مراد کیا ہے؟ فرمایا کہ اپنے دین کے معلومات کو بڑھانا۔ (تدوین حدیث: 158) یہ تنہا امام احمد ہی کا قول نہیں تھا، بلکہ اکثر اہل علم کا قول وعمل اسی پر تھا، امام شافعی رحمہ اللّٰہ کا تو عام فتویٰ تھا کہ علم کا حاصل کرنا نفلی نمازوں سے بہتر ہے۔ (مذکورہ حوالہ) بلکہ اس سے بڑھ کر مشہور صحابی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تو تھوڑی بیٹھ کر پڑھنے اور غور وفکر کرنے کو بھی رات بھر جاگ کر نفل عبادت میں مشغول رہنے سے بھی افضل قرار دیا ہے، فرمایا کرتے تھے: تھوڑی دیر بیٹھ کر دین کے سمجھنے (یعنی تفقہ) میں بسر کرنا میرے نزدیک رات بھر (نمازوں میں) جاگنے سے بہتر ہے۔
کتاب دوستی میں قدرت نے یہ لطف ودیعت رکھا ہے کہ جو آدمی مطالعے میں مستغرق ہو وہ جہاں سے بے گانہ ہوجاتا ہے، مطالعے کی لت جس کو پڑجاتی ہے وہ اس کو کتاب کے سوا کوئی دوسری نظر نہیں آتی، ایک عالم سے پوچھا گیا: آپ کو سب سے زیادہ سکون کس چیز سے ملتا ہے؟ انہوں نے کتابوں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: ان سے! سائل نے کہا: لوگوں میں سب سے زیادہ لگاؤ آپ کو کس سے ہے؟ عالم پھر کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں سے مجھے سب سے زیادہ محبت ہے جو ان کتابوں میں ہیں۔ (کتاب سے دوستی کا فن ص 8) مشہور تابعی حضرت عبد اللہ ابن مبارک فرماتے ہیں: میں اپنے گھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پاس بیٹھتا ہوں، یعنی کتابوں میں صحابہ کرام کے حالات اور ان کے اقوال وافعال کا مطالعہ کرتا ہوں تو گویا ان کی صحبت کی لذت محسوس کرتا ہوں۔
جن لوگوں کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے اتنی گفتگو میں ایک خاص قسم کی چاشنی ہوتی ہے، وہ اپنی معلومات افزا باتوں سے سامنے والے کا دل موہ لیتے ہیں، ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی ندوی لکھتے ہیں: وسیع المطالعہ آدمی اپنے خاص موضوع پر اپنے پس منظر کے ساتھ گفتگو کرسکتا ہے، جس شخص کا مطالعہ محدود ہو وہ ایک تنگ دائرہ میں رہ کر سوچے گا، اور اظہار خیال کرے گا۔ ( میرا مطالعہ بحوالہ رہنمائے مطالعہ ص 84) جو لوگ مطالعہ سے کتراتے ہیں وہ معاشرے میں خالی ڈھول کے مانند ہوتے ہیں، ان کی معلومات بوسیدہ، گفتگو بے جان، تقریر پھس پھسی اور تحریر انتہائی کمزور، غیر دلچسپ ہوتی ہے۔
افسوس کہ آج معاشرہ میں مادی آلات کی بھرمار نے انسان کو علم وکتاب مطالعہ وکتب بینی سے کوسوں دور کردیا ہے، آدمی جدید سہولیات اور مادی مصنوعات میں کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے، جس سے وہ اپنی روح کو علمی غذا فراہم نہیں کر پا رہا ہے، جس سے عام طور پر طبیعت بجھی بجھی اور ذہن ودماغ منتشر رہتا ہے، کیونکہ مطالعہ نہ صرف معلومات میں اضافہ کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط اور ذہن ودماغ کو ترو تازگی بخشتا ہے جو ذہنی سکون کا باعث ہوتا ہے۔
مدارس کے فضلا کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی رسمی فراغت کے بعد کتاب سے قطع تعلقی کرلیتے ہیں، اور مطالعہ سے صرف نظر کرتے ہیں، یا تو وہ اپنے آپ کامل مکمل جاننے لگتے ہیں اور اپنے نصابی تعلیم مکمل سمجھتے ہیں یا سستی اور کاہلی ان پر سوار ہوا جاتی ہے، دونوں ہی صورتیں انتہائی مضر ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چند ہی دنوں میں ان کا علم ضائع ہو جاتا ہے، علمی اصطلاحات حتی کہ ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ ضروری اور لازمی مسائل تک ذہن سے محو ہو جاتے ہیں، شیخ صالح المنجد لکھتے ہیں: بہت سارے فضلا رسمی تعلیم مکمل ہونے کے بعد پڑھنا لکھنا چھوڑ دیتے ہیں اور مطالعہ بالکل ترک کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سارے مدرسین و معلمین مطالعے سے رو گردانی کے سبب چند ہی سالوں میں علمی کم مائیگی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ (کتاب سے دوستی کا فن، مترجَم ص 23 )
ہر عام و خاص مسلمان کو دینی دنیوی اور سماجی معلومات حاصل کرنا از حد ضروری ہے، لہذا ہر مسلمان کو اس کا التزام کرنا چاہیے کہ اپنے سرہانے یا کمرے کی میز پر تفسیر، حدیث، فقہ اور سیر و تاریخ ایک ایک کتاب ضرور رکھے تاکہ وقت ملنے پر مطالعے کی رغبت ہو، بلکہ اپنے روز مرہ کی ہزار ہا ہزار مصروفیات میں سے کچھ وقت مطالعہ کے لیے ضرور مختص کرنا چاہیے، اور حتی المقدور اس وقت کی پابندی کی جائے، دور حاضر میں وسائل کی بہتات اور سہولیات کی بھر مار ہے، لہذا مارکیٹ ہر زبان میں آسان سے آسان تر ضخیم و بسیط کتاب دستیاب ہے۔
موبائل کی انسان کی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا ہے اور موبائل میں غلط و صحیح دونوں ہی طرح کے مواقع موجود ہیں، لہذا آپ کے موبائل میں ایسے گروپ اور ایسی ویب سائٹس ہوں جس پر دینی رسائل اور روز مرہ کی خبریں شیئر کی جاتی ہوں، تاکہ آپ موبائل سے مثبت طور استفادہ کریں۔
