مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی اور تخیلاتی تصویر
ابو عبادہ
اتراکھنڈ کی پشکر سنگھ دھامی حکومت نے ریاست کے منظور شدہ مدارس میں جمعہ کی ہفتہ وار تعطیل ختم کر دی ہے۔ ریاستی محکمہ تعلیم نے ‘اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی’ (ایس ایم ای اے) کی ہدایت پر مدارس کو اتوار کی چھٹی کا پابند کیا ہے۔ اقلیتی حلقوں میں اس فیصلے کو مسلمانوں کے مذہبی شعار اور مدارس کے روایتی تعلیمی ڈھانچے پر حملہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
علماء اور مدرسہ منتظمین کے لیے یہ فیصلہ تکلیف دہ ہے کیونکہ اسلام میں جمعہ کا دن محض آرام کے لیے نہیں، بلکہ نمازِ جمعہ اور ہفتہ وار مذہبی اجتماع کا دن ہے۔ صدیوں سے مدارس کا نظام الاوقات اسی بنیاد پر استوار ہے، تاکہ جمعہ کو تدریسی سرگرمیاں موقوف کر کے عبادات کا اہتمام کیا جا سکے۔ مسلم کمیونٹی کا مؤقف ہے کہ اس روایتی نظام الاوقات کو زبردستی تبدیل کرنا اقلیتی اداروں کی انفرادیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب، محکمہ تعلیم اور ایس ایم ای اے حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلی مدارس کو ریاست کے مرکزی تعلیمی فریم ورک اور عام اسکولوں کے برابر لانے کے لیے کی گئی ہے۔ نئے حکم نامے کا اطلاق ریاست کے ان تقریباً 206 مدارس پر ہوگا جو محکمہ تعلیم سے منظوری حاصل کر چکے ہیں یا الحاق کے منتظر ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، محکمہ تعلیم اب تک 76 مدارس کو باقاعدہ منظوری دے چکا ہے (ہردوار: 44، ادھم سنگھ نگر: 24، دہرادون: 6، نینیتال: 2)، جبکہ 114 مدارس کی درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔
ایس ایم ای اے کے چیئرمین ڈاکٹر سرجیت سنگھ گاندھی اور اسٹیٹ ایلیمنٹری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر کنور سنگھ راوت نے واضح کیا ہے کہ منظوری ملنے کے بعد مدارس کو سرکاری اسکولوں کے قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔ اب جمعہ کی چھٹی برقرار رکھنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
