مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تخیلاتی و علامتی تصویر ۔
(روایت نیوز ڈیسک):
مغربی بنگال میں ’تعلیمی یکجہتی‘ اور ’حب الوطنی‘ کے نام پر مسلم اقلیت کے تعلیمی حقوق کو سلب کرنے اور ریاستی تعلیمی نظام کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریات کے تابع کرنے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، شوبھندو ادھیکاری کی زیرِ قیادت ریاستی حکومت ایک طرف آر ایس ایس کے تعلیمی ونگ ’ودیا بھارتی‘ سے ملحق کم از کم ایک ہزار نئے اسکول قائم کرنے جا رہی ہے، تو دوسری جانب مدارس کی انفرادیت اور خودمختاری ختم کرنے کے لیے تمام تعلیمی محکموں کو یکجا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اقلیتی اداروں کو مرکزی دھارے کے نام پر ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوشش کا حصہ ہے، جس کی راہ ہموار کرنے کے لیے رواں سال مدرسہ بورڈز کے بجٹ میں پہلے ہی 40 فیصد تک کی بھاری کٹوتی کی جا چکی ہے۔
مسلم اکثریتی علاقے ہدف
وزیر اعلیٰ نے آر ایس ایس کے ذیلی ادارے ودیا بھارتی، جو اس وقت ریاست میں محض 300 کے قریب اسکول چلا رہا ہے، پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست کے ہر ضلع اور میونسپل علاقے میں اپنے ادارے قائم کرے۔ خاص طور پر 68 فیصد مسلم آبادی والے ضلع مرشد آباد اور جنوبی 24 پرگنہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مبینہ ’ملک دشمن سرگرمیوں‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ان علاقوں کے طلبہ میں حب الوطنی اور قوم پرستی کا جذبہ بیدار کرنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ مرشد آباد گزشتہ برس ان شدید فرقہ وارانہ فسادات کا مرکز رہا تھا جس میں ہزاروں افراد کو پڑوسی ضلع مالدہ کی جانب نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔ اس وقت اپوزیشن نے اس وقت کی ممتا بنرجی حکومت پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے شدید تنقید کی تھی کہ اس نے مبینہ طور پر ہندو آبادی پر حملوں کی کھلی چھوٹ دی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
آئینی حقوق پر وار
اقلیتوں کے لیے الگ تعلیمی ادارے چلانے والے محکمے کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اپنے نظریاتی ایجنڈے کو صریحاً واضح کیا۔ انہوں نے شیاما پرساد مکھرجی کے نظریے “ایک آئین، ایک نشان، ایک رہنما” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اسی نظریے پر کاربند ہے اور تمام یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک ہی نظام ہونا چاہیے۔
دوسری جانب، اس حکومتی ایجنڈے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما کنال گھوش نے اسے اقلیتی اداروں کے خلاف بی جے پی کی غیر آئینی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقلیتوں کے الگ تعلیمی ادارے قطعی غیر قانونی نہیں ہیں بلکہ آئینِ ہند کے تحت انہیں اپنے مذہب کی پیروی کرنے اور اپنے تعلیمی و مذہبی ادارے چلانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت محض اپنے سیاسی مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ تفریق پیدا کر رہی ہے۔
مدارس کے خلاف اس حکومتی بیانیے کو جواز فراہم کرنے کے لیے سابقہ حکومتوں کے بیانات کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بائیں بازو کے سابق وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹاچاریہ نے بھی ریاست کے غیر الحاق شدہ مدارس میں مبینہ خفیہ سرگرمیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں ملک دشمن عناصر کی آماجگاہ قرار دیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کے حالیہ اقدامات، بجٹ میں کٹوتیاں اور آر ایس ایس کی براہِ راست تعلیمی سرپرستی اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ریاست میں اقلیتی تعلیمی ڈھانچے کو منظم اور ادارہ جاتی سطح پر ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
