(روایت نیوز ڈیسک): مغربی بنگال میں بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت نے مسلم تعلیمی اداروں کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 252 مدارس کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ایک طویل ریاست گیر سروے اور دائیں بازو کی ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے مدارس کے خلاف چلائی گئی منظم مہم کے بعد، مزید 100 مدارس کو شوکاز (اظہارِ وجوہ) نوٹس بھیجے گئے ہیں۔
اس کارروائی کی بنیاد اس سروے کو بنایا گیا ہے جو گزشتہ تین ماہ سے ریاست کے تمام 22 اضلاع میں جاری تھا۔ حکام کے مطابق، اس سروے میں مدارس کے بنیادی ڈھانچے، فنڈنگ، انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق حکومت کو 2,132 مدارس مکمل منظوری کے ساتھ کام کرتے ملے، جبکہ 2,396 مدارس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ متعلقہ حکومتی بورڈ کی اجازت کے بغیر چل رہے ہیں۔
حکومتی کریک ڈاؤن کا سب سے زیادہ نشانہ وہ اضلاع بنے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی نمایاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف مالدہ میں 45، اتر دیناج پور میں 37، اور جنوبی 24 پرگنہ، مرشد آباد اور نادیہ میں 25، 25 مدارس پر تالے لگائے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے وزیر کھدیرام ٹوڈو نے خبردار کیا ہے کہ جن 100 اداروں کو سنگین بے ضابطگیوں پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں، انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ضرور دیا جائے گا، لیکن جواب غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں ان کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔ بظاہر حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سروے کا مقصد ضلع وار مستند ڈیٹا جمع کرنا، بچوں کی فلاح کے لیے اقدامات کرنا اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
تاہم، اس انتظامی کارروائی کے پسِ پردہ بی جے پی اور ہندوتوا رہنماؤں کی زہر آلود بیان بازی ایک مختلف ہی بیانیہ پیش کر رہی ہے۔ ریاستی بی جے پی کے صدر سمک بھٹاچاریہ نے اس کارروائی کا جشن مناتے ہوئے اسے خلیجی فنڈنگ سے چلنے والے مدارس سے جوڑا اور پچھلی بائیں بازو کی حکومت کو اس مسئلے سے چشم پوشی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب، بی جے پی ایم ایل اے اور پنچایتی راج کے وزیر دلیپ گھوش نے بغیر کسی ثبوت کے مدارس پر دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور ملک دشمن سرگرمیوں کا مرکز ہونے کا الزام لگاتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت انہیں اندھا دھند کھلنے نہیں دے گی۔
مسلمانوں کے خلاف مہم چلانے کے لیے بدنام تنظیم وشوا ہندو پریشد (VHP) نے بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا ہے۔ تنظیم کے قومی ترجمان ونود بنسل نے اپنی ایک نفرت انگیز تقریر میں مساجد اور مدارس کو تشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں کے اڈے قرار دیتے ہوئے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے اس مسلم مخالف بیانیے پر ترنمول کانگریس (TMC) نے سخت ردعمل دیا ہے۔ ٹی ایم سی کے ایم ایل اے کنال گھوش کا کہنا ہے کہ چند معاملات کی آڑ میں تمام مدارس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مدرسہ ایجوکیشن سسٹم کو بدنام کرنے کے لیے جان بوجھ کر گمراہ کن بیانیہ تراش رہی ہے۔ اسی طرح ٹی ایم سی ترجمان رجو دتہ نے خبردار کیا کہ ان کی جماعت جعلی مدارس کے خلاف کارروائی کی تو حمایت کرے گی، لیکن اگر محض مذہب کے نام پر حقیقی اور اصلی مدارس کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال میں مدارس کے خلاف یہ کارروائی کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی کڑیاں ملک کی دیگر ریاستوں بالخصوص اتراکھنڈ سے جا ملتی ہیں، جہاں حال ہی میں 20 مدارس کو سیل یا بند کیا جا چکا ہے اور 452 مدارس کو ریگولیٹ کرنے والا سرکاری مدرسہ بورڈ ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی کے بعد سے، شوبھندو ادھیکاری سمیت دیگر بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے مبینہ گھس پیٹھیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی بیان بازی میں شدت آئی ہے، جسے ناقدین اور مبصرین اقلیتوں کے خلاف ایک کھلی امتیازی پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
(مزید مستند اور غیر جانبدارانہ خبروں کے لیے دیوار ڈاٹ کام سے جڑے رہیں)
