اے آئی سے تیار کردہ تصویر
بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کے تمام مدارس کے جائزے کی مہم شروع کیے جانے کے ایک ماہ بعد، انتظامیہ کو جلپائی گوڑی اور علی پور دوار اضلاع کے ضلعی مجسٹریٹس (ڈی ایمز) کی رپورٹیں موصول ہو گئی ہیں۔ ‘دی ٹائمز آف انڈیا’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ریاستی حکومت نے جون کے پہلے ہفتے میں تمام اضلاع کے مجسٹریٹس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے علاقوں کے مدارس سے متعلق جامع رپورٹ 5 جولائی تک ریاستی سیکریٹریٹ ‘نبان’ کو ارسال کریں۔ ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ تاحال صرف ان دو اضلاع کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں، جبکہ دیگر اضلاع میں کام جاری ہے اور کام کی کثرت کے باعث رپورٹ جمع کرانے کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے، لیکن اس کا اب تک کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ اہلکار کے مطابق، جائزے کے دوران جن مدارس میں بے ضابطگیاں پائی جائیں گی، ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔
اس مہم کے تحت بلاک سطح پر بلاک ڈولپمنٹ افسران (بی ڈی اوز) کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ تمام منظور شدہ اور غیر منظور شدہ مدارس کا زمینی دورہ کر کے ڈیٹا اکٹھا کریں۔ اس ڈیٹا میں مدارس کے قیام کا سال، رجسٹریشن کی حیثیت، فنڈز کے ذرائع، طلبہ کی تعداد، اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تفصیلات شامل ہیں۔ شہری علاقوں میں یہ کام میونسپلٹی کے ایگزیکٹو افسران انجام دے رہے ہیں، جو دو حصوں پر مشتمل رپورٹ تیار کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے پہلے حصے میں سرکاری امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ منظور شدہ مدارس کا ڈیٹا شامل ہے، جبکہ دوسرے حصے میں غیر منظور شدہ مدارس، جنہیں مکتب یا خارجی مدارس کہا جاتا ہے، کی معلومات یکجا کی جا رہی ہیں۔ ڈی ایمز کو یہ بھی واضح کرنے کو کہا گیا ہے کہ آیا مدرسہ رہائشی ہے، نجی امداد پر چلتا ہے، اور وہاں کون سا نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال میں اس وقت حکومت کی جانب سے مالی امداد حاصل کرنے والے مدارس کی تعداد 614 اور غیر امداد یافتہ منظور شدہ مدارس کی تعداد 601 ہے، جب کہ 14 انگریزی میڈیم سرکاری امداد یافتہ مدارس بھی فعال ہیں۔ دوسری جانب، غیر منظور شدہ مکاتب یا خارجی مدارس، جو نجی افراد، برادریوں یا تنظیموں کے زیر انتظام ہیں، ان کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے، لیکن ان کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جنوری 2002 میں، اس وقت کے وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹاچاریہ نے بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر قائم غیر منظور شدہ خارجی مدارس کی نگرانی یا انہیں بند کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا، لیکن مذہبی تنظیموں اور بائیں بازو کے اتحادیوں کے شدید احتجاج کے بعد حکومت کو یہ فیصلہ چند ہی روز میں واپس لینا پڑا تھا۔
