اقدس عارف
حضرت مولانا عبدالستار صاحب مفتاحی بوڑیوی آج مرجع خلائق بنے ہوئے ہیں، علماء و طلباء کے لیے منبع صافی اور عوام کے لیے مشعل راہ ہیں، ہر طبقہ کے لوگ کشاں کشاں ان کی طرف کھنچ رہے ہیں، اور اس شمع متاع آخر شب سے اپنے حصہ کی ضیاء سمیٹ رہے ہیں۔ مولانا اپنے عہد کی ایک صدی سے کچھ کم مدت جی چکے ہیں، مولانا کی حیثیت اس یکتائے روزگار شخصیت کی ہے جو ایک عہد کو دوسرے عہد سے جوڑنے کا مرکز ثابت ہوتی ہے، جن کے اعمال و کردار رفتگان کے طور و طریقوں، ادب و آداب اور رکھ رکھاؤ کی منظر کشی کرتے ہیں۔ ایسی شخصیات کے ذریعے بعد کی نسل پچھلوں سے عملا جڑ جاتی ہیں۔
آپ کی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے، مولانا کی افادیت اور فیض رسانی کے سلسلے میں میرے والد مرحوم قاری محمد عارف مرزاپوری کا یہ تبصرہ حقیقت پر مبنی ہوا کرتا تھا، جس کو میں ایک مدت تک مبالغہ آمیز فقرہ سمجھتا تھا کہ “مغربی یوپی کا سہارنپور اور اس سے متصل خطہ، ہریانہ، پنجاب اور اتراکھنڈ کا شاید ہی کوئی گاؤں یا گاؤں کی کوئی گلی ایسی بچی ہوگی جہاں آپ کا بلا واسطہ یا بالواسطہ فیض نہ پہنچ سکا ہوگا” ، وقت گزرنے کے ساتھ اس کا مشاہدہ بھی ہوتا گیا۔
مولانا اپنی عمر کی نو دھائیوں سے تجاوز کر چکے ہیں، انہوں نے پچھلے صدی کے عباقرہ کی علمی میراث سے سیرابی حاصل کی، وہیں تھانوی اور رائے پوری مشرب کے بزرگوں سے تصوف کے جام پیے۔ پھر ان اکابر کی صف میں شامل ہوگئے جنہوں نے دن میں درسگاہیں اور رات میں خانقاہیں آباد رکھیں، آج ملک کے تقریباً ہر خطے میں آپ کے متوسلین و مستفیدین پھیلے ہوئے ہیں، بہت سے مدرسوں میں آپ کے شاگرد قرآن و حدیث کی خدمات انجام دے رہے ہیں، مولانا فی الوقت ایک سے زائد نسلوں کے استاذ ہیں، یہ سعادت بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتی ہے۔ آپ کی زندگی کے روشن نقوش یقیناً ہم ایسوں کے لیے قابلِ تقلید ہوں گے۔
خاندانی پس منظر
مولانا عبدالستار مفتاحی مدظلہ ضلع سہارنپور کا تعلق ایک گمنام اور دور افتادہ گاؤں ‘شیر پور’ سے ہے، آپ کے والد ماجد قاری عبدالکریم صاحب حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی مجالس کے خوشہ چیں تھے، اور آپ کے دادا حضرت الحاج محب النبی کا اصلاحی تعلق حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ سے تھا، اسی طرح آپ کے ماموں حضرت قاری عبد الرحیم صاحب مظفرآبادی حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ کے ہم درس تھے، اسی قابلِ قدر اور با فیض خاندان میں آپ کی ولادت با سعادت سال ۱۹۳۳ عیسوی میں ہوئی، اور اس دینی ماحول اور خالص فضا میں آپ نے نشو و نما پائی، بچپن ہی سے ان پر علم و فکر اور تدیّن و ذکر کی غیر معمولی چھاپ تھی، اور یہی خاندانی وجاہت آپ کی فطرت بن گئی، اسی خاندانی پسِ منظر نے علم و معرفت کا سفر طے کرنے کی تشویق پیدا کی۔
ابتدائی تعلیم:
مولانا نے اپنے گاؤں کے مکتب سے دینی تعلیم کا آغاز کیا، قاری عبدالرشید صاحب آپ کے نورانی قاعدہ کے استاذ تھے، حفظ قرآن کی تکمیل کے لیے اپنے گاؤں سے دور، معروف ادارے مدرسہ یوسفیہ (موجودہ نام: فیضِ ہدایت رحیمی رائے پور) گیے، لیکن 1945ء کے شورش زدہ حالات کے باعث اپنے مامو حضرت قاری عبد الرحیم صاحب مظفرآبادی کے ہمراہ گاؤں سے قریب مدرسہ انوار القرآن نعمت پور چلے گیے، اور اسی مدرسہ میں حضرت مولانا عبدالمجید صاحب جلالیہ کے پاس حفظ قرآن مکمل کیا۔ آپ نے ابتدائی دینی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی۔
درس نظامی کی تعلیم:
درسِ نظامی کی تعلیم کے لیے مولانا کے سر پرستوں نے آپ کے لیے مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد کا انتخاب کیا، اور فارسی تا دورہ درسِ نظامی کی تکمیل اسی مدرسہ میں حاصل کی، یہاں انہوں نے اکابر استاذہ سے علم دین حاصل کیا، مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادیؒ، حضرت علامہ رفیق احمد صاحب بھیسانویؒ، حضرت مولانا احمد حسن صاحب دیوبندیؒ، حضرت مولانا واجد حسین صاحب دیوبندیؒ اور حضرت مولانا عقیل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم (شیخ الحدیث: مفتاح العلوم جلال آباد) کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ ان حضرات سے مولانا بوڑیوی نے قرآن و حدیث پر مشتمل علوم و فنون میں درک حاصل کیا۔
علاوہ ازیں آپ کو اس دور کی نابغۂ روزگار شخصیات حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ سابق مہتمم: دارالعلوم دیوبند، علامہ ابراہیم صاحب بلیاویؒ سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا فخر الدین صاحب مرادآبادی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ سے بھی شرف تلمذ حاصل ہے۔ یہ وہ فحول علم ہیں جو پچھلی صدی میں علم و معرفت کی شمع روشن کیے ہوئے تھے، اور جن کے فیض سے آج بھی ایک جہان آباد ہے۔
علم تجوید و قرات:
مولانا عبدالستار صاحب بوڑیوی کو فن تجوید و قراءت سے بھئ دلچسپی رہی ہے، انہوں نے بہت محنت اور جانفشانی سے اس فن میں مہارت حاصل کی ہے، اور تصحیح قرآن کریم کو اپنی دینی خدمت کا مشغلہ بنایا ہے۔ اس میں فن میں ان کے بہت سے اساتذہ رہے، بالخصوص ان کو حضرت امام المجودین، شیخ القراء، حضرت مولانا قاری المقری فتح محمد پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، اور اس فن میں آپ سے اکتساب فیض کیا۔ اس کے علاؤہ حضرت قاری صاحب کے جلیل القدر شاگرد حضرت مولانا قاری المقری طاہر صاحب مدنی رحمہ اللہ سے بھی استفادہ کیا، اور اس میدان مہارتِ تامہ حاصل کی۔ مولانا کی تجوید کی سند بہت عالی ہے۔ اور پھر ایک مدت تک آپ شعبۂ تجوید میں طلبہ کی تربیت کرتے رہے ہیں۔
زمانہ تدریس:
اپنے دیار سے قریب مدرسہ انوار القرآن نعمت پور سے مولانا نے تدریسی سفر کا آغاز کیا، اس وقت یہ مدرسہ حفظ و ناظرہ اور ضروری دینیات کی تعلیم پر ہی مشتمل تھا، آپ نے حفظ و ناظرہ کے طلبہ کو پڑھایا، پھر آپ کی کوششوں اور علمی ذوق کی بنا یہاں عربی درجات کی تعلیم کا آغاز ہوا، مولانا درس نظامی کی کتابوں کا درس دینے لگے، اور کثیر تعداد میں طلبہ نے آپ سے یہاں استفادہ کیا، جو آج دینی مدارس اسلامیہ میں اعلی خدمات انجام دے رہے ہیں، یہاں کے شاگردوں میں حضرت مولانا محمد طاہر صاحب (شیخ الحدیث: مدرسہ فیض ہدایت رائے) وغیرہ حضرات شامل ہیں، اس دور میں یہاں شرح جامی تک تعلیم تھی۔
بوڑیہ (ہریانہ) میں ہجرت:
1387ھ میں مولانا عبد الستار صاحب ملاجی عبد الکریم بوڑیوی کے اصرار پر بوڑیہ (ہریانہ) منتقل ہوگئے، اور ملاجی کے مکتب ‘فیض العلوم بوڑیہ’ تدریسی خدمات انجام دینے لگے، پنجاب سے متصل یہ علاقہ تقسیم کے بعد ویران ہوگیا تھا، لہذا سہارنپور کی بنسبت یہاں کام کی زیادہ ضرورت تھی، چنانچہ آپ کے بقول بوڑیہ ہجرت کرجانے کے سلسلے میں بزرگوں کی تائید حاصل رہی۔
بس پھر تو مولانا بوڑیہ کے ہی ہوکر رہ گیے، یہاں آپ نے شبانہ روز محنت کی، مکتب میں بچوں کو تعلیم دیتے، اور مساجد میں اصلاحی حلقے لگا کر لوگوں کو دین سے قریب کرنے کی کوششیں کرتے، انہیں محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج الحمد للّہ یہ علاقہ مساجد و مدارس طلبہ و علماء اور دیندار لوگوں سے آباد ہے۔
ضیاء القرآن کا قیام:
ملاجی عبد الکریم کی وفات کے بعد آپ نے حضرت مسیح الامت کے مشورہ سے ١٤٠٧ه میں ایک دینی ادارے کی بنا ڈالی، حضرت مسیح الامت نے اس ادارہ کا نام مدرسہ ضیاءالقرآن تجویز فرمایا۔ یہاں بالخصوص آپ نے تصحیح قرآن کریم کا شعبہ قائم کیا، جہاں دور دراز سے طلبہ اس شعبہ میں شرکت کے لیے آیا کرتے تھے۔ آپ اس شعبہ میں قرآن کریم کی تصحیح کراتے، اور تجوید و قرات کی کتابیں پڑھاتے، اللہ تعالیٰ نے بہت اعلی پیمانے آپ سے یہ خدمت لی، اور اس کے دور رس نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔
اجل تلامذہ
مولانا عبد الستار صاحب بوڑیوی ایک عہد کے استاذ اور استاذ الاساتذہ ہیں، نصف صدی سے بھی مولانا درس و تدریس اور تعلیم و تعلم سے وابستہ رہے، ایک مدت تک نعمت پور ضلع سہارنپور اور پھر دراز عرصے تک آپ بوڑیہ میں تدریسی و تعلیمی خدمات انجام دیتے رہے ہیں، ایسے میں آپ کے شاگردوں کا شمار نا ممکن ہے، اتراکھنڈ، ہریانہ اور سہارنپور میں شاید کوئی مدرسہ ایسا ہو جہاں آپ کے تلامذہ موجود نہ ہوں، وہ حضرات قرآن کے حلقوں اور مسند حدیث کی زینت بنے ہوئے ہیں، مدرسہ فیض ہدایت رائے پور کے شیخ الحدیث مولانا محمد طاہر صاحب مظاہری، مولانا انور صاحب مظاہری (استاذ حدیث: فیض ہدایت رائے پور) مولانا محمد شوقین مظاہری (استاذ عربی: جامع العلوم دہرادون) مولانا شریف صاحب استاذ حدیث بیت العلوم پپلی مزرعہ، مولانا گلزار صاحب مظاہری (استاذ مدرسہ فیض العلوم بوڑیہ) پیر جی حافظ حسین احمد بوڑیوی (مہتمم مدرسہ فیض العلوم بوڑیہ یمنانگر) اور قاری محمد عارف مرحوم (سابق استاذ: مدرسہ فیض العلوم مرزاپور پول) وغیرہ حضرات شامل ہیں۔
اجازت و خلافت:
آپ کے گھرانے میں تصوف و سلوک کوئی اجنبی چیز نہ تھی، آپ کے والد گرامی خود ایک سالک تھے، چنانچہ تزکیہ نفس کی مجالس میں حضرت مولانا بچپن سے ہی شریک ہوتے رہے تھے، زمانۂ علمی میں مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان جلال آبادی میں کی مجلس میں حاضر ہوتے رہے، اور وہاں جرعہ نوشی کرتے رہے، اور پھر آخر زمانے تک انہیں سے اصلاحاحی تعلق رہا، زندگی کے امور میں حضرت ہی کی رہنمائی پر عمل کرتے، آخر دور میں حضرت نے آپ کو اجازت بھی مرحمت فرمائی، جس کا تحریری عکس حضرت کے پاس موجود ہے۔
حضرت مسیح الامت کی وفات کے بعد آپ نے ایک صادق سالک کی طرح تربیت نفس کا سلسہ جاری رکھا، اور بزرگوں کی مجالس میں شریک ہوتے رہے، چنانچہ وہ حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ،حضرت مولانا شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری اور حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب رائے پوریؒ مفتی اعظم حضرت مفتی محمّد شفیع صاحب عثمانی، حضرت مفتی عبد الغنی پھولپوری حضرت جی مولانا یوسف کاندھلوی وغیرہ متعدد شیوخ و اہل اللہ کی خدمت میں بھی بار بار حاضری دیتے رہے۔
آپ کی اعلی تربیت اور عالی مرتبت کو پرکھ کر حضرت مولانا سید مکرم حسین صاحب سنسارپوریؒ، حاجی فتح محمد صاحب دہلویؒ، حضرت حافظ عبدالرشید صاحب رائے پوریؒ (خلفاء: حضرت مولانا شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری) حضرت مولانا صفی اللہ خان صاحب جلال آبادیؒ اور حضرت مولانا سیّد محمود صاحب پٹھیڑوی (خلیفہ اجل حضرت شیخ الاسلام مدنی) حیسے اکابر نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔
اولاد و احفاد:
مولانا کے یہاں تین بڑی صاحب زادیوں کے بعد آپ کے بیٹوں میں سب سے بڑے بیٹے عبدالمنان بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ دوسرے صاحب زادے قاری عبدالحنان صاحب ہیں، جو اپنے والد کے قائم کردہ ادارے میں عرصۂ دراز تک مستقل مدرس رہے اور آج کل کاروباری کام کے ساتھ ساتھ مدرسہ ضیاء القرآن سے جڑے ہوئے ہیں، تیسرے صاحب زادے مولانا عبدالجبار صاحب قاسمی دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں اور فی الوقت مدرسہ ضیاءالقرآن بوڑیہ کے ناظم ہیں۔ چوتھے صاحب زادے مولانا عبدالغفار صاحب مظاہری ہیں، اور مدرسہ ضیاءالقرآن ہی میں مدرس ہیں۔ پانچویں صاحب زادے عبدالقہار پیدائش کے کچھ روز بعد انتقال کر گئے تھے۔ آپ کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی علم و تعلیم اور دینی خدمات میں مشغول ہیں۔
صفات و خصوصیات:
چہرے پر نورانی جھریاں، اور وہ بولیں تو انسان ان جھریوں کے ہر نقش کا گرویدہ ہو جائے۔ گھنی داڑھی، کشادہ پیشانی، ابھری ہوئی ناک اور دراز قد۔ عمر کے اس پڑاؤ پر پیرانہ سالی کے سبب جسم نہایت کمزور و لاغر ہو چکا ہے، لیکن روح بالکل ہشاش بشاش اور تر و تازہ ہے، حافظے پر بڑھاپا کسی طرح اثر انداز نہ ہوسکا، وہ بولیں تو مجلس سراپا سماعت بن جائے، مسکرا جائیں تو محفل بقعۂ نور ہو جائے، ملنساری، خوش اخلاقی ایسی کہ طبیعت یک دم مانوس ہو جائے، آنے والا بار بار ملاقات کی تمنا کرے، ان کے پاس جو بھی جائے، ان سے دیر تک شفقت بھری باتیں اور نصیحتیں کرتے ہیں، اور اس گفتگو میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ بسا اوقات خادمین کو متوجہ کرنا پڑتا ہے کہ حضرت! متوسلین کی قطار طویل ہے۔ یہ ہیں ہمارے ممدوح، حضرت مولانا عبد الستار صاحب مفتاحی دامت برکاتہم العالیہ!
مولانا پچھلوں کا بہترین نمونہ ہیں، خالص دینی مزاج اور علمی ذوق کے مالک ہیں، سنن و آداب کے حد درجہ پابند ہیں، مرجعیت حاصل ہونے کے بعد بھی عادات و اخلاق طور و اطوار میں ترشی نام کی کوئی چیز پیدا نہ ہوسکی، اپنے لباس اور وضع قطع میں وہ آج بھی اپنے شیخ، حضرت مسیح الامت کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔
اندازِ گفتگو اتنا سادہ کہ قربان ہونے کو دل چاہتا ہے، باتوں سے پھول جھڑتے ہوئے کسی کو دیکھنے ہوں تو مولانا کی بات سنے، بیٹا بیٹا کر کے وہ جو نصیحتیں کرتے ہیں، وہ سیدھی دل کے نہاں خانے میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں، وہ سامنے والے کو اپنی گفتگو کے سحر میں جکڑ لیتے ہیں، ان کی باتیں آدمی کے لیے یاد گار بن جاتی ہیں۔
عمر کی تقریبا 93 بہاریں دیکھ چکے ہیں، لیکن آج بھی آپ ہزاروں کی دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں، اور دربار جماکر دن رات وہ بڑی ہمت اور شگفتگی کے ساتھ سلطان بن کر وہ سرمایہ لٹا رہے ہیں جو انہوں نے اپنے بزرگوں سے اخذ کیا ہے۔ لوگ اپنے اپنے ظرف کے مطابق سمیٹ رہے ہیں، جسے ان اوصاف کے حامل بزرگ کے دیدار کی تمنا ہو، وہ خود جاکر دلی تسکین کرسکتا ہے۔
ذاتی تاثرات:
گھر میں لاشعوری کی عمر سے ہی حضرت مولانا کا نام بہت عقیدت اور محبت کے ساتھ سنا تھا، جب کبھی ان کا تذکرہ آتا تو ابا کی نگاہیں غایت عقیدت سے ان کو سلام پیش کرنے لگتی تھیں، جب تک مولانا سفر کے قابل رہے تو ہر مدرسے والے کی خواہش ہوتی کہ سالانہ جلسے میں حفاظ کی دستار بندی انہیں کے ہاتھوں عمل میں آئے، مولانا بقدر استطاعت تشریف لاتے، علاقے میں وہ جہاں کہیں بھی آتے ابا اس مجلس میں ضرور شریک ہوتے، اور دیدہ و دل فرش راہ کر دیتے، ہمارے مدرسے میں تشریف لاتے تو مولانا کا تعارف ابا ہی کے ذمہ ہوتا تھا۔
بعد میں معلوم پڑا کہ حضرت ابا کے استاذ و شیخ ہیں، اور ابا کی زندگی میں سب سے متاثر کن شخصیت ہیں۔ جب بھی کسی مسئلہ میں الجھتے، یا کارو بار زندگی میں کوئی افتاد آن پڑتی، یا زندگی کے کسی موڑ رہنمائی کی ضرورت ہوتی، تو ابا سیدھے بوڑیہ میں اپنے استاذ و شیخ کا رخ کرتے، ابا کے ہمراہ متعدد مرتبہ آپ کے پاس جانا ہوا، مولانا بہت پیار کرتے، سبق بھی سنتے، انعام سے بھی نوازتے، اور حوصلہ افزائی کے کلمات کہتے، حفظ قرآن کے موقع میرے سر پر دستار فضیلت آپ ہی دست مبارک سے بندھی، آپ کی عقیدت گویا مجھے ورثے میں ملی تھی۔
اب مولانا کے پاس جاتا ہوں، تو بہت دیر تک سینے سے لگاتے ہیں اور میری تعلیم کا سن کر بہت خوش ہوتے ہیں، ابا کی یاد میں آبدیدہ ہو جاتے ہیں، بسا اوقات بے ضبط ہو جاتے ہیں، اور آنکھوں سے آنسوں بہہ پڑتے ہیں، پورے مجمع میں ابا کا تعارف کراتے ہیں، اور کہتے ہیں: عارف میرا بیٹا تھا۔ گزشتہ سال جب میں مدرس ہوا، تو مولانا اس خبر سے پھولے نہ سمائے، پھر میں نے ان کو اپنی کتاب دکھلائی، تو ان کی خوشی دیدنی تھی، انہوں نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ اس پر دعائیہ کلمات تحریر فرمائے اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔ آپ کے پاس جا کر دادا جیسی شفقت ملتی ہے اور زندگی جینے کا ایک نیا حوصلہ پیدا ہوتا ہے، اللہ آپ کا سایہ عاطفت باقی رکھے اور آپ کے فیضان کو عام فرمائے! آمین یارب العالمین

