فائل فوٹو
ارسلان صدیقی
مغربی بنگال میں محکمہ تعلیماتِ مدرسہ و اقلیتی امور نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت ریاست کے تمام سرکاری، منظور شدہ اور غیر امداد یافتہ مدارس پر صبح کی اسمبلی میں ‘وندے ماترم’ پڑھنا لازم کر دیا گیا ہے۔ 19 مئی کی تاریخ سے جاری ہونے والے اس حکم نامے کے بعد تعلیمی اداروں کی اس حوالے سے تمام سابقہ روایات منسوخ تصور ہوں گی۔ واضح رہے کہ اس سے محض ایک ہفتہ قبل، وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی زیرِ قیادت ریاستی حکومت نے تمام سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں کے لیے بھی بعینہٖ یہی احکامات جاری کیے تھے۔
اس انتظامی پیش رفت کو بنیادی طور پر مرکزی حکومت کی اس مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جو بنکم چندر چٹرجی کے لکھے گئے اس ترانے کی 150 سالہ تقریبات کے تناظر میں شروع کی گئی ہے۔ محکمے کے نگران عہدیدار کھودی رام ٹوڈو نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مختلف تعلیمی اداروں کے مابین ضوابط کا کوئی امتیازی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ جب دیگر زبانیں پڑھانے والے تعلیمی ادارے اس ترانے کو معمول کا حصہ بنا سکتے ہیں، تو مدارس کو اس اصول سے مستثنیٰ قرار دینے کی کوئی منطق موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب، اس اچانک فیصلے نے نچلی سطح پر انتظامی پیچیدگیاں اور سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اسکول منتظمین اس تذبذب کا شکار ہیں کہ قومی ترانے کی لازمی موجودگی کے ساتھ اب ‘وندے ماترم’ اور پہلے سے رائج ریاستی گیت ‘بانگلار ماٹی بانگلار جل’ میں ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے۔ بعض منتظمین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صبح کی اسمبلی میں ایک اور گیت کے اضافے سے روزمرہ کا تدریسی وقت متاثر ہوگا۔ تاہم، محکمہ تعلیم کے حکام نے موقف اپنایا ہے کہ حالیہ سرکاری مراسلے میں صرف ‘وندے ماترم’ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ریاست کے متعدد اداروں میں اس نئے ضابطے پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے اور کسی بھی ابہام کی صورت میں بوقتِ ضرورت مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔
