دیوبند میں طلبۂ علومِ نبوت کا جمِ غفیر، داخلہ امتحانات سے قبل روح پرور منظر
دیوبند: شوال کی آمد کے ساتھ ہی دیوبند ایک بار پھر علمی و روحانی رونق سے بھر گیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے ہزاروں طلبہ، جو علومِ نبوت کے حصول کے خواہش مند ہیں، داخلہ امتحانات میں شرکت کے لیے یہاں پہنچ چکے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اور شہر کے دیگر بڑے مدارس میں اس وقت ایک غیر معمولی تعلیمی ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دارالعلوم دیوبند میں اس سال داخلہ کے نظام میں جدت لاتے ہوئے آن لائن فارم جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، جو 19 مارچ کو مکمل ہوا۔ اس کے بعد 24 سے 28 مارچ کے درمیان امیدواروں کو ایڈمٹ کارڈ جاری کیے گئے، جبکہ باقاعدہ داخلہ امتحانات کا آغاز 31 مارچ سے ہونا ہے۔ ادارہ کی جانب سے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امسال ابتدائی درجات میں نئے داخلے نہیں لیے جا رہے، تاہم دورۂ حدیث میں طلبہ کی تعداد بڑھاتے ہوئے 1200 سے زائد طلبہ کو داخلہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اضافہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے علاوہ دارالعلوم وقف، جامعہ نام محمد انور شاہ، دارالعلوم زکریا، جامعہ الشیخ حسین احمد مدنی، جامعہ قاسمیہ اور دیگر مدارس میں بھی داخلہ کا عمل جاری ہے۔ مجموعی طور پر ہزاروں طلبہ اس وقت دیوبند میں قیام پذیر ہیں۔
بین الاقوامی حالات کے سبب ملک میں گیس کی قلت اور مہنگائی کے اثرات یہاں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے طلبہ کو اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود دارالعلوم دیوبند کا مطبخ حسبِ معمول روزانہ ہزاروں طلبہ کے لیے کھانے کا انتظام کر رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ روزانہ آٹھ سے نو ہزار طلبہ کے لیے دونوں وقت کھانا تیار کیا جا رہا ہے۔
محدود وسائل کے باوجود دیگر مدارس بھی اپنے نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں دیوبند کے سماجی نوجوانوں نے ایک قابلِ قدر مثال پیش کی ہے۔ محلہ بُڑھ ضیاء الحق میں داخلہ کے لیے آنے والے طلبہ کے لیے مفت کھانے کا انتظام کیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ یہ سلسلہ تقریباً 15 سے 20 دن تک چلتا ہے اور اس میں زکوٰۃ کی رقم بھی شامل ہوتی ہے، جس سے مستحق طلبہ کو خاص طور پر فائدہ پہنچ رہا ہے۔
دیوبند میں اس وقت علم کی طلب، سادگی اور باہمی تعاون کا ایک خوبصورت منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہزاروں طلبہ کا یہ اجتماع اس بات کی علامت ہے کہ دینی تعلیم کی روایت آج بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے، اور ہر مشکل کے باوجود اس کا سلسلہ جاری ہے۔
