نئی دہلی، 2 اپریل 2026:
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے تعلیمی سال 2025-26 کے لیے 1199 طلبہ کو ایک کروڑ اسی لاکھ روپے کے وظائف جاری کر دیے ہیں۔ ان میں 65 غیر مسلم طلبہ بھی شامل ہیں، جنہیں میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔
وظائف کی رقم براہ راست طلبہ کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہے۔ یہ اسکیم 2012 سے جاری ہے، جس کا مقصد مالی طور پر کمزور مگر ذہین طلبہ کو اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے لیے مولانا حسین احمد مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ، دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند ارشد مدنی پبلک ٹرسٹ کے تحت ایک باقاعدہ تعلیمی امدادی فنڈ قائم کیا گیا ہے، جبکہ ماہرین تعلیم پر مشتمل کمیٹی ہر سال میرٹ کی بنیاد پر طلبہ کا انتخاب کرتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ وظائف کے لیے مذہب کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ اسی بنیاد پر اس سال بھی 65 غیر مسلم طلبہ کو شامل کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق مقصد صرف یہ ہے کہ مالی رکاوٹوں کے باعث ذہین طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
اس موقع پر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی تاریخ تعلیم کے ذریعے مرتب کرتی ہیں، اور وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جن کی نئی نسل تعلیم یافتہ ہو۔ انہوں نے موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کو مختلف مسائل میں الجھایا جا رہا ہے اور ان کی تعلیمی و سماجی ترقی کی راہیں محدود کی جا رہی ہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ قوم خود اپنے تعلیمی ادارے قائم کرے۔
انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر بچوں اور بچیوں کے لیے معیاری تعلیمی ادارے قائم کریں، جہاں وہ اپنی شناخت اور اقدار کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق ایسے ادارے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر طبقات کے لیے بھی کشش رکھتے ہوں تاکہ باہمی اعتماد اور ہم آہنگی میں اضافہ ہو۔
مولانا مدنی نے یوپی ایس سی 2025 میں 53 مسلم امیدواروں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود مسلم نوجوان مسابقتی امتحانات میں اپنی صلاحیت ثابت کر رہے ہیں، جو ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اقتصادی پسماندگی کا شکار ہے، جس کے باعث کئی بچے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں تعلیمی وظائف اور ادارہ جاتی مدد نہایت اہم ہو جاتی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اتحاد، تعلیم اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ یہی راستہ بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
