بہار مدرسہ بورڈ نتائج: 70 فیصد کی حد، ٹاپرس لسٹ غائب، طلبہ کے مستقبل پر سوال
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے 2026 کے فوقانیہ اور مولوی کے نتائج جاری ہونے کے بعد ریاست بھر میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ مدارس سے وابستہ افراد اور تنظیمیں نتائج پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہیں اور اسے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی قرار دے رہی ہیں۔
سیتا مڑھی سے موصول اطلاعات کے مطابق نتائج میں نمایاں فرق نے تشویش کو اور بڑھا دیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن پٹنہ کے صدر عبدالقدوس نے کہا کہ اگر میٹرک اور انٹر 2026 کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو واضح فرق سامنے آتا ہے۔ اسکول اور انٹر میڈیٹ بورڈ کے طلبہ کو جہاں 98 فیصد تک نمبر دیے جا رہے ہیں، وہیں مدرسہ بورڈ کے طلبہ 70 فیصد سے اوپر نمبر حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ فرق پورے امتحانی نظام پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ اگر مدرسہ امتحانات کا پیٹرن اسکول اور انٹر میڈیٹ کونسل کے مطابق نہیں ہوگا تو اسی طرح کے مایوس کن نتائج سامنے آتے رہیں گے۔ اس صورتحال میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ نظام طلبہ کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے یا ان کے کیریئر کو متاثر کر رہا ہے۔
نتائج کے اعلان کو کئی دن گزر جانے کے باوجود اب تک ٹاپرس کی فہرست جاری نہیں کی گئی ہے، جس سے شفافیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر معمولی نہیں بلکہ نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
ادھر بہار مدرسہ بورڈ پہلے ہی کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ برسوں سے اساتذہ اور عملہ کی بحالی نہیں ہوئی ہے اور انتظامی سطح پر بھی خامیاں موجود ہیں۔ ان حالات میں طلبہ کے نتائج اور مستقبل دونوں متاثر ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی واضح سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔
عبدالقدوس نے مدارس سے وابستہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور طلبہ کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بورڈ کی ذمہ داری صرف فارم بھروا کر فیس لینے تک محدود ہو گئی ہے تو یہ نظام طلبہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
