علامتی و تمثیلی تشکیل / ڈیجیٹل الیوسٹریشن
ارسلان صدیقی
اتر پردیش کے ضلع بلرام پور میں پولیس نے ایک ایسے گروہ کے تین ارکان کو گرفتار کیا ہے جو خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کر کے مدارس اور نجی اداروں سے غیر قانونی وصولی میں ملوث تھے۔ دیہات کوتوالی پولیس کے مطابق، یہ ملزمان فائر ایکسٹنگویشر (آگ بجھانے والے آلات) کی تنصیب کو لازمی قرار دینے کا جھوٹا سرکاری حوالہ دیتے اور منتظمین کو تادیبی کارروائی کا خوف دلا کر رقوم اینٹھتے تھے۔
اس واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب اگیا خورد گاؤں کے رہائشی یوسف نے پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی۔ گاؤں کے ایک مدرسے کے خزانچی معین الدین کے بیان کے مطابق، 12 مئی کی دوپہر تقریباً ایک بجے تین افراد مدرسے آئے اور دعویٰ کیا کہ محکمہ فائر کی جانب سے تمام مدارس میں فائر ایکسٹنگویشر لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ملزمان نے دھمکی دی کہ اسی دن آلات نصب نہ کیے جانے کی صورت میں مدرسے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ معین الدین کی جانب سے رقم کی عدم دستیابی کا بتانے پر ملزمان وہاں سے چلے گئے۔ تاہم، بعد ازاں وہ قریبی علاقے دیوریا مبارک پور کے ایک مدرسے میں پہنچے، جہاں انہوں نے منتظمین کو ڈرا دھمکا کر 6,000 روپے آن لائن منتقل کروائے اور زبردستی دو فائر ایکسٹنگویشر نصب کر دیے۔
شکایت موصول ہونے پر دیہات کوتوالی پولیس نے مقدمہ نمبر 185/2026 کے تحت بی این ایس (BNS) کی دفعات 308(2) اور 351(2) میں کیس درج کر کے تفتیش شروع کی۔ 16 مئی کو پولیس نے مخبر کی اطلاع پر پھلوریا بائی پاس کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن کی شناخت دنیش کمار دوبے (امبیڈکر نگر)، دیویش کمار پانڈے (گونڈہ) اور نکھل کمار دوبے (امبیڈکر نگر) کے طور پر ہوئی ہے۔ دورانِ حراست پوچھ گچھ میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ ان کا اصل کام فائر ایکسٹنگویشر فروخت کرنا ہے، لیکن زیادہ منافع کمانے کے لیے وہ مدارس اور دیگر نجی اداروں میں جا کر سرکاری احکامات کا جھوٹا حوالہ دیتے اور بلیک میلنگ کے ذریعے وصولی کرتے تھے۔ پولیس کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس گروہ نے ضلع کے اور کتنے اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔
