تصویر بہ شکریہ فیس بُک
ارسلان صدیقی
بھارت میں بی جے پی حکومت نے ریاست بہار میں 1100 سے زائد اسلامی اسکولوں (مدارس) کی از سرِ نو جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔ کمیونٹی رہنماؤں اور ماہرینِ تعلیم کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں مسلم اداروں کی کڑی نگرانی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی یہ ایک تازہ ترین کڑی ہے۔ اس سے قبل ایک اور بی جے پی زیرِ اقتدار ریاست اترپردیش میں بھی مدارس کے خلاف اسی نوعیت کی مہم چلائی جا چکی ہے۔
اس کارروائی کا ہدف بہار کے 1,128 سرکاری امداد یافتہ اور تسلیم شدہ مدارس ہیں۔ اس اقدام پر تحفظات سامنے آئے ہیں کیونکہ بیشتر ادارے دہائیوں سے سرکاری منظوری کے تحت کام کر رہے ہیں اور ماضی میں جانچ پڑتال کے تمام حکومتی مراحل کامیابی سے طے کر چکے ہیں۔
بہار قانون ساز کونسل کے رکن پروفیسر سنجے کمار سنگھ نے رواں ہفتے ریاستی وزیرِ تعلیم کو ایک خط لکھ کر اس فیصلے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے موقف پیش کیا کہ جو ادارے پہلے ہی سرکاری معیار پر پورے اتر چکے ہیں اور جن کا عملہ برسوں سے انہی منظوریوں کی بنیاد پر سرکاری تنخواہیں وصول کر رہا ہے، انہیں دوبارہ اس عمل سے گزارنا بے معنی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے مدارس کو اس نئی کارروائی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
پروفیسر سنگھ نے متنبہ کیا کہ بار بار کی جانچ پڑتال تعلیمی اداروں پر غیر ضروری انتظامی بوجھ ڈالتی ہے اور اساتذہ کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ ناقدین کی سب سے بڑی تشویش تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہے۔ انتظامی جائزوں اور فائلوں کے التوا کی وجہ سے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو بعض اوقات مہینوں اور برسوں تک تنخواہوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مدرسہ فلاح المسلمین کے مہتمم مفتی ابوذر نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قواعد و ضوابط کے تحت شفاف اور منصفانہ جائزے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم، ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد قانونی دائرے میں کام کرنے والے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے، ان کے تعلیمی اور انتظامی معیار کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
اگرچہ سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ ان معائنوں کا بنیادی مقصد محض تعلیمی معیار اور انتظامی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے، لیکن مسلم ماہرینِ تعلیم اسے مختلف نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ کارروائی ان خدشات کی تصدیق ہے کہ بی جے پی کی زیرِ قیادت ریاستوں میں اسلامی اداروں کو دانستہ طور پر ریاستی دباؤ اور مسلسل نگرانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
