مصنوعی ذہانت سے تخیلاتی تصویر ۔
دہرادون (روایت نیوز ڈیسک):
بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمانوں اور ان کے تعلیمی اداروں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جاری ظلم و ستم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ’تعلیمی اصلاحات‘ اور ’ریگولیشن‘ کا لبادہ اوڑھ کر ریاستی حکومت منظم انداز میں مدارس کو نشانہ بنا رہی ہے، جس کے تحت دہرادون اور ہلدوانی میں مزید 5 مدارس کو زبردستی بند کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس تازہ ترین مسلم کش اقدام کے بعد ریاست بھر میں بند کیے جانے والے مدارس کی مجموعی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 17 مدارس کو ریاستی مشینری نے بے دردی سے سیل کر دیا ہے، جبکہ 3 مدارس کی انتظامیہ کو مبینہ طور پر دباؤ میں لا کر ان سے تحریری حلف نامے لیے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔

اس کریک ڈاؤن کے دوران دہرادون کی آزاد کالونی میں واقع مدرسہ جامعۃ السلام الاسلامیہ کو سیل کر کے سینکڑوں غریب طلبا کا تعلیمی مستقبل تاریک کر دیا گیا۔ اسی طرح ماجرا کی آزاد کالونی کے مدرسہ دارِ ارقم اور مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ کی انتظامیہ سے جبراً کام بند کرنے کی تحریری یقین دہانی حاصل کی گئی۔ دوسری جانب ہلدوانی میں بھی ریاستی تعصب کا یہی نمونہ دیکھنے کو ملا، جہاں سٹی مجسٹریٹ اے بی واجپئی کے احکامات پر گوجا جالی نارتھ کے شنی بازار روڈ پر واقع مدرسہ جامعہ نوریہ برکاتِ آمنہ اور بن بھول پورہ کے اندرا نگر میں قائم ایک مدرسے کو محض اس بنیاد پر سیل کر دیا گیا کہ وہ مبینہ طور پر مطلوبہ دستاویزات اور منظوری کے کاغذات پیش نہیں کر سکے۔
مسلم اداروں پر اس کھلے حملے کو جائز قرار دینے کے لیے اتراکھنڈ کے اقلیتی امور کے سیکریٹری ڈاکٹر پراگ مدھوکر ڈھاکتے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقررہ شرائط پر پورا نہ اترنے والے مدارس کے خلاف ریاستی حکومت کی کارروائی جاری ہے۔ اسی طرح، وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی سخت لہجے میں انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں کسی بھی تعلیمی ادارے کو ضوابط اور منظوری کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاستی حکومت قوانین کو ہتھیار بنا کر مسلم اداروں کو کچلنے پر تلی ہوئی ہے۔
یہ انتقامی کارروائیاں اچانک نہیں ہو رہیں، بلکہ یہ اتراکھنڈ کے اقلیتی تعلیمی نظام اور مسلم تشخص کے مکمل خاتمے کی ایک وسیع تر سازش کا تسلسل ہیں۔ رواں برس جولائی میں اتراکھنڈ حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی خود مختاری پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ریاست کے قانونی حیثیت رکھنے والے ’مدرسہ بورڈ‘ کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا، جو ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اس بورڈ کی جگہ ’اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائنارٹی ایجوکیشن (USAME)‘ مسلط کر دی گئی، جس میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو دیگر پانچ اقلیتوں (عیسائی، سکھ، پارسی، جین اور بدھ مت) کے اداروں کے ساتھ ملا کر ان کی انفرادیت کو ختم کر دیا گیا۔ اس سازش کی تکمیل کے لیے ’اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2016‘ اور ’غیر سرکاری عربی و فارسی مدارس کی منظوری کے قواعد 2019‘ کو منسوخ کر کے نئے اور سخت قوانین ’مائنارٹی ایجوکیشن ایکٹ 2025‘ اور ’اتراکھنڈ مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریکگنیشن رولز 2026‘ نافذ کیے گئے ہیں تاکہ مدارس کا قانونی گھیراؤ کیا جا سکے۔
نئے فریم ورک کے نفاذ سے قبل ریاست میں مدرسہ بورڈ کے تحت 452 مدارس باقاعدہ رجسٹرڈ تھے۔ تاہم حکومت نے منظوری نہ لینے کے بہانے ایک ظالمانہ کریک ڈاؤن شروع کیا جس کے دوران 200 سے زائد مدارس کو سیل کر دیا گیا۔ یہ تمام تر کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب اتراکھنڈ، مسلمانوں کے عائلی قوانین کو نشانہ بنانے والے مسلم کش ’یکساں سول کوڈ (UCC)‘ کو نافذ کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن چکی ہے، جس کے نفاذ کو اب ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتراکھنڈ حکومت ضوابط کی آڑ میں مدارس کو کچل رہی ہے، جبکہ خود سپریم کورٹ آف انڈیا 2024 کے ایک فیصلے میں مدارس کی اہمیت اور ان کے آئینی حقوق کو تسلیم کر چکی ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ’اتر پردیش بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004‘ کو آئینی قرار دینے سے متعلق تھا، لیکن اس میں دیے گئے اصول اتراکھنڈ حکومت کے موجودہ آمرانہ رویے کو بے نقاب کرتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے اس فیصلے میں واضح کیا تھا کہ آئین کی دفعہ 21A اور رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) ایکٹ کو مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے اپنی مرضی کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے حق کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پڑھا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے صراحت کی تھی کہ اقلیتوں کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق آئین کے ’آرٹیکل 30‘ کے تحت محفوظ ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریاست کے پاس مدارس کے معیار کو ریگولیٹ کرنے کے اختیارات موجود ہیں، اور اگرچہ مدارس مذہبی تعلیم دیتے ہیں، لیکن “ان کا بنیادی مقصد تعلیم ہے”۔ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق مطلق نہیں ہیں اور ریاست امداد یا منظوری کے بدلے ریگولیشن نافذ کر سکتی ہے تاکہ اقلیتوں کے حقوق اور تعلیمی معیار میں توازن قائم کیا جا سکے۔ تاہم، اتراکھنڈ حکومت اس ’توازن‘ اور ’ریگولیشن‘ کے پردے میں اقلیتی اداروں کی بہتری کے بجائے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
