مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی و تخیلاتی تصویر
ڈاکٹر راکیش چودھری
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک حالیہ اور اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اتر پردیش حکومت ان امداد یافتہ مدارس کے عملے کو گریجویٹی دینے سے محض اس بنیاد پر انکار نہیں کر سکتی کہ انہوں نے 60 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا اختیار (آپشن) استعمال نہیں کیا اور 62 سال کی عمر تک اپنی خدمات انجام دیں۔ عدالت نے نہ صرف محکمے کے اس جواز کو مسترد کیا ہے بلکہ ہدایت دی ہے کہ متعلقہ ملازم کو ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے اب تک 6 فیصد سالانہ سود کے ساتھ گریجویٹی ادا کی جائے۔
پس منظر اور محکمے کا استدلال
یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ میں زیرِ سماعت آیا، جس نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط قانونی نظیر قائم کی ہے۔ یہ مقدمہ فیض آباد کے ایک امداد یافتہ مدرسے کی ایک خاتون اسسٹنٹ ٹیچر کا ہے، جن کا تقرر 16 اگست 1992 کو ہوا تھا اور وہ اپنی طویل خدمات کے بعد 31 مارچ 2019 کو ریٹائر ہوئیں۔ ان کی جانب سے بار بار درخواستیں دیے جانے کے باوجود یوپی کے محکمہ اقلیتی بہبود نے ان کی گریجویٹی ادا نہیں کی۔
محکمے نے ادائیگی روکنے کا یہ جواز پیش کیا کہ متعلقہ ٹیچر نے 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کا آپشن استعمال کرنے کے بجائے 62 سال کی عمر تک ملازمت جاری رکھی تھی۔ محکمے کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ انہیں ‘سیشن کے فوائد’ اور دیگر ریٹائرمنٹ واجبات پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں، اس لیے وہ گریجویٹی کی حقدار نہیں ہیں۔
عدالتی فیصلہ اور قانونی نکات
ہائی کورٹ نے محکمے کی اس دلیل اور منطق کو یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت کا صریح موقف تھا کہ دیگر ریٹائرمنٹ یا سروس واجبات کی ادائیگی کو بنیاد بنا کر گریجویٹی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ گریجویٹی ملازم کا ایک بالکل الگ اور جداگانہ حق ہے۔ مزید برآں، عدالت نے اس بات پر بھی گرفت کی کہ جب محکمے نے خود ملازمہ کو 62 سال تک ملازمت میں توسیع کی اجازت دی تھی، تو اب اسی قانونی توسیع کو ان کی گریجویٹی روکنے کا جواز کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
اس فیصلے کی بنیاد عدالت کے اپنے 2024 کے ایک سابقہ حکم پر رکھی گئی ہے، جس میں یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے دیگر ملازمین کے لیے محکمے کا یہ جواز قانونی طور پر ناکافی ہے۔ چونکہ محکمے کے پاس گریجویٹی روکنے کی کوئی دوسری قانونی یا معقول وجہ نہیں تھی، اس لیے عدالت نے یوپی کے محکمہ اقلیتی بہبود کے پرنسپل سکریٹری کے 13 ستمبر 2023 کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت یہ ادائیگی روکی گئی تھی۔
ادائیگی کا حکم اور سود کا تعین
اگرچہ مدعیہ کی جانب سے تاخیر پر 18 فیصد سالانہ سود کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے محکمے کو حکم دیا ہے کہ وہ 31 مارچ 2019 (یعنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ) سے لے کر اصل ادائیگی کے دن تک 6 فیصد سالانہ سود کے ساتھ گریجویٹی ادا کرے۔ اس شرح کے حساب سے، ہر ایک لاکھ روپے کی گریجویٹی پر سالانہ 6,000 روپے کا سود ادا کیا جائے گا۔
عدالت نے گریجویٹی کی حتمی رقم خود طے نہیں کی ہے، بلکہ یہ ذمہ داری محکمے پر ڈالی ہے کہ وہ فیصلے کی مصدقہ کاپی پیش کیے جانے کے تین ماہ کے اندر، خاتون کے سروس ریکارڈ اور نافذ العمل قوانین کی روشنی میں اس کا درست حساب لگائے اور ادائیگی کو یقینی بنائے۔
فیصلے کے اثرات اور آئندہ کا لائحہ عمل
بظاہر یہ عدالتی حکم نامہ براہ راست محکمہ اقلیتی بہبود کے خلاف صرف اسی ٹیچر کے دعوے کو حل کرتا ہے۔ فیصلے میں صراحتاً یہ نہیں کہا گیا کہ آیا اسی طرح کے غیر منصفانہ انکار کا سامنا کرنے والے دیگر مدارس یا امداد یافتہ اداروں کے عملے کو خود عدالت جائے بغیر ادائیگی مل جائے گی یا نہیں۔
تاہم، یہ فیصلہ اس قانونی اصول کو ضرور تقویت بخشتا ہے کہ ’60 سال پر ریٹائر ہونے کا آپشن نہ چننے‘ کی بنیاد پر گریجویٹی روکنا غیر قانونی ہے۔ ایسے تمام ملازمین، جو اسی صورتحال سے دوچار ہیں، وہ اس فیصلے (حوالہ: محترمہ رئیسہ خان بمقابلہ ریاست یوپی اور دیگر، رٹ-اے نمبر 8255 آف 2023، نیوٹرل سائٹیشن 2026:AHC-LKO:70249، مؤرخہ 30 ستمبر 2026) کو ایک مضبوط قانونی نظیر کے طور پر پیش کر کے اپنے روکے گئے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔
قارئین کی افادیت کے لیے اصل انگریزی متن کا اردو ترجمہ ‘روایت’ پر پیش ہے۔
