کریڈٹ:مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر
(دہرادون – روایت نیوز ڈیسک): اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے ریاستی مدرسہ بورڈ کو ختم کر کے مدارس کو نئی ‘مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی’ کے ماتحت کرنے کے فیصلے نے ایک نیا انتظامی بحران پیدا کر دیا ہے۔ نئے نظام کے نفاذ اور محکماتی الجھنوں کے سبب، مدارس میں زیرِ تعلیم ہزاروں غریب طلبہ حکومت کی جانب سے ملنے والے دوپہر کے کھانے (مڈ ڈے میل) سے محروم ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، اس سے قبل محکمہ تعلیم مدرسہ بورڈ کے تحت رجسٹرڈ 452 مدارس کے طلبہ کو باقاعدگی سے مڈ ڈے میل فراہم کرتا تھا۔ یکم جولائی کو جب مدرسہ بورڈ ختم کر کے نئی اتھارٹی قائم کی گئی، تو محکمہ تعلیم نے یہ سہولت منقطع کر دی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اتراکھنڈ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی خود اس صورتحال پر تشویش کا شکار ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو بارہا خطوط لکھ کر اقلیتی برادری کے بچوں کے لیے مڈ ڈے میل بحال کرنے کی تاکید کی ہے۔
مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کے چیئرمین سرجیت گاندھی نے اس صورتحال پر واضح کیا: “ہمارے بار بار خطوط لکھنے کے باوجود محکمہ تعلیم مدارس کے طلبہ کو مڈ ڈے میل فراہم نہیں کر رہا۔ ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ محکمے کے ساتھ میٹنگ کر کے جلد از جلد اس مسئلے کا حل نکالے۔”
دوسری جانب، محکمہ تعلیم کا موقف ہے کہ انتظامی تبدیلی کے بعد یہ مدارس تکنیکی طور پر پرائیویٹ اسکولوں کے زمرے میں آ گئے ہیں۔ پرائمری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر انچارج کنور سنگھ راوت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: “پہلے یہ مدارس مدرسہ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ تھے اور حکومتِ ہند کے ایک خط کی روشنی میں انہیں مڈ ڈے میل دیا جاتا تھا۔ نئے نظام کے تحت چونکہ یہ اب نجی اسکول بن گئے ہیں، اس لیے مڈ ڈے میل دینا فی الحال ممکن نہیں رہا۔ تاہم، اس مسئلے پر بات چیت جاری ہے۔”
اس نئے تعلیمی فریم ورک کو نافذ ہوئے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن مدارس کی رجسٹریشن اور انضمام کا عمل تاحال الجھن کا شکار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نئے نظام کے نفاذ کے بعد سے اب تک 245 مدارس بند ہو چکے ہیں جن میں سے 17 کو انتظامیہ نے سیل کر دیا ہے۔ مزید 130 مدارس کی رجسٹریشن کی فائلیں تاحال محکمہ تعلیم کے پاس زیرِ التوا ہیں۔
اس دفتری تاخیر اور بیوروکریسی کے الجھاؤ کا سب سے زیادہ نقصان غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ان بچوں کو ہو رہا ہے جن کی غذائی ضروریات کا ایک بڑا حصہ مڈ ڈے میل سے پورا ہوتا تھا۔ ذرائع کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کے حل کے لیے اب مرکزی حکومت یا اعلیٰ ریاستی حکام کی فوری مداخلت کی ضرورت ہے تاکہ مستحق بچوں کا یہ حق بحال ہو سکے۔
