الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: بغیر منظوری بھی مدارس چل سکتے ہیں۔
لکھنؤ:
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم اور واضح فیصلے میں کہا ہے کہ اقلیتی مدارس کو کسی تعلیمی یا امتحانی بورڈ سے منظوری حاصل کیے بغیر بھی چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے شراوستی ضلع میں واقع مدرسہ اہلِ سنت امام احمد رضا کو بند کرنے سے متعلق ضلع اقلیتی بہبود افسر کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ مدرسے پر لگائی گئی سیل 24 گھنٹوں کے اندر کھول دی جائے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی صاف کیا ہے کہ غیر منظور شدہ مدرسہ سرکاری گرانٹ، مدرسہ بورڈ کے امتحانات اور ریاستی سطح پر اسناد کے فوائد کا حق دار نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ رِٹ نمبر 307/2026 میں سنایا گیا، جس میں درخواست گزار نے شراوستی کے ضلع اقلیتی بہبود افسر کے یکم مئی 2025 کے اس حکم نامے کو چیلنج کیا تھا، جس کے ذریعے بغیر منظوری کے چلنے والے مدرسہ اہلِ سنت امام احمد رضا کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
مدرسے کے منیجر عبدالرحمن کی جانب سے داخل عرضی میں ان کے وکلاء سید فاروق احمد اور دیویندر موہن شکلا نے سپریم کورٹ کے فیصلے انجم قادری بنام یونین آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل نہ تو مدرسے کے لیے سرکاری امداد چاہتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی منظوری، اس لیے وہ آئین ہند کے آرٹیکل 30(1) کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہے۔
وکلاء نے کیرالہ ایجوکیشن بل 1957-58 سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں اقلیتی تعلیمی اداروں کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک وہ ادارے جو نہ ریاستی امداد چاہتے ہیں اور نہ منظوری، دوسرے وہ جو منظوری اور مالی امداد دونوں چاہتے ہیں، اور تیسرے وہ ادارے جو مالی امداد کے بغیر صرف ریاستی منظوری کے خواہاں ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ پہلے زمرے میں آنے والے اقلیتی تعلیمی ادارے آئین کے آرٹیکل 30(1) کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کے قیام و انتظام میں ریاست غیر ضروری مداخلت نہیں کر سکتی۔
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے جسٹس سبھاش ودیارتھی نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ اتر پردیش غیر سرکاری عربی و فارسی مدارس منظوری، ایڈمنسٹریشن اینڈ سروسز ریگولیشن 2016 میں غیر منظور شدہ مدرسے کو بند کرنے کی کوئی واضح شق موجود نہیں ہے۔ ضابطے کے مطابق صرف یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ ایسا مدرسہ ریاستی حکومت سے کسی بھی قسم کی گرانٹ کا حق دار نہیں ہوگا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کاؤنسل نے غیر منظور شدہ مدرسہ چلانے پر اعتراض تو کیا، لیکن وہ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ کس قانون کے تحت ایسے مدرسے کو بند کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مدرسہ چلانے کی اجازت ہوگی، لیکن جب تک منظوری حاصل نہیں کی جاتی، اسے نہ تو کوئی سرکاری گرانٹ ملے گی، نہ مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں طلبہ کو شامل ہونے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی وہاں سے حاصل کردہ اسناد کو سرکاری مقاصد کے لیے تسلیم کیا جائے گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ شراوستی کے مدرسے پر لگائی گئی سیل فیصلے کی مصدقہ نقل پیش کرنے کے 24 گھنٹوں کے اندر کھول دی جائے۔
فیصلے کے بعد اہلِ مدارس نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ روزنامہ انقلاب سے بات کرتے ہوئے آل انڈیا ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ کے نائب صدر مولانا طارق شمسی نے کہا کہ عدالت نے مدارس اسلامیہ کے اس بنیادی دستوری اور آئینی حق کو تسلیم کیا ہے کہ مدرسہ چلانے کے لیے سرکاری منظوری لازمی نہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مدارس اور اقلیتی اداروں کے حق میں ایک بڑی آئینی جیت ہے اور اس انتظامیہ کے لیے واضح انتباہ بھی، جو مخصوص نظریے کے تحت مدارس کے نظام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
اسی طرح ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ، اتر پردیش کے جنرل سیکریٹری دیوان صاحب زمان خاں نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کا یہ فیصلہ قابلِ تعریف ہے۔ ان کے مطابق رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کی دفعہ 2 مدارس اور پاٹھ شالاؤں پر لاگو نہیں ہوتی، لیکن اس ایکٹ کی غلط تشریح کر کے افسران مدارس کو بند کر رہے تھے۔ اب اس فیصلے کے بعد قانون کی من مانی تشریح کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔
اتر پردیش ہی نہیں بلکہ بی جے پی اقتدار والی دیگر ریاستوں میں بھی جس طرح اقلیتی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایسے میں الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ واقعی بڑی راحت کا باعث بنا ہے۔
حوالہ:
یہ مضمون حمید اللہ صدیقی کی رپورٹ پر مبنی ہے، جو روزنامہ انقلاب میں شائع ہوئی۔
