Credit: Aqdas Arif
اقدس عارف
اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں شوالک کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع 360 ایکڑ پر پھیلا ایک وسیع و عریض تعلیمی کیمپس۔ شاندار عمارتیں، 300 بستروں کا اسپتال اور دو سو سے زائد جدید تعلیمی کورسز۔ یہ ‘گلوکل یونیورسٹی’ ہے، جسے کبھی اقلیتی تعلیم کے ایک شاندار اور جدید ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ لیکن آج اس کی کہانی کسی تعلیمی کامیابی سے زیادہ ایک سنسنی خیز کرائم تھرلر اور سیاسی کشمکش کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے کھڑا کیا گیا یہ ادارہ آج انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ریڈار پر ہے، اس کا بانی ملک سے مفرور ہے جس کے سر پر ایک لاکھ روپے کا انعام ہے، اور اس کا خاندان سلاخوں کے پیچھے ہے۔ ایک ادارہ جس نے خطے کے غریبوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کا خواب دکھایا تھا، آج شدید انتظامی اور قانونی دباؤ کے سائے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ہندوستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں اقلیتی اداروں کے خلاف ریاستی کارروائیوں کو ایک خاص زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین اور مسلم قیادت کا ماننا ہے کہ اقلیتی تعلیمی ادارے اکثر سیاسی عداوتوں کا آسان نشانہ بنتے ہیں۔ اسی تلخ حقیقت کی طرف جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے 21 نومبر 2025 کو نئی دہلی کے ایک سیمینار میں اشارہ کیا تھا۔ انہوں نے انتہائی دردمندی اور قدرے تلخی سے مسلم اداروں کی بے بسی کا نوحہ پڑھتے ہوئے کہا: “آج دنیا یہ سمجھتی ہے کہ مسلمان اپاہج ہو گیا، بانجھ ہو گیا ہے، میں یہ نہیں سمجھتا ہوں۔ کیا بات ہے کہ آج دنیا کا ایک مسلم آدمی ‘ممدانی’ نیویارک کا میئر بن سکتا ہے، لندن میں سرکاری عہدہ حاصل کرسکتا ہے، ہندوستان کے اندر کسی مسلم یونیورسٹی کا کوئی مسلمان وائس چانسلر نہیں بن سکتا۔ اور اگر بنے گا تو اعظم خان کی طرح جیل کے اندر جائے گا، حاجی اقبال کی طرح اولاد جیل میں ڈال دی جائے گی۔ آج دیکھ لیجیے الفلاح یونیورسٹی کا کیا حال ہو رہا ہے۔” مولانا مدنی کا یہ بیان اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ ہندوستان میں مسلم زیرِ انتظام تعلیمی ادارے اپنے بانیوں کے سیاسی پس منظر یا ان کی مذہبی شناخت کی قیمت چکا رہے ہیں۔
گلوکل یونیورسٹی کی بنیاد 2011 میں ایک مقامی سیاست دان اور تاجر حاجی اقبال عرف ‘بالا’ نے رکھی تھی۔ مغربی اتر پردیش کا یہ علاقہ روایتی طور پر دینی مدارس اور خانقاہوں کا مرکز رہا ہے، لیکن اقبال نے مرزاپور پول کے اس پتھریلے اور پسماندہ علاقے میں ایک ماڈرن یونیورسٹی کا خاکہ کھینچا۔ 5 جولائی 2012 کو اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ مقاصد بظاہر بہت واضح تھے: غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کو نہایت کم فیس پر اعلیٰ عصری تعلیم تک رسائی دینا۔ یہ خواب کافی حد تک شرمندہ تعبیر بھی ہوا۔ یو جی سی (UGC) سے باقاعدہ منظور شدہ اس پرائیویٹ یونیورسٹی میں انجینئرنگ، لاء، فارمیسی، اور نرسنگ سمیت 55 سے زائد پروفیشنل کورسز شروع کیے گئے۔ مقامی باشندوں کے مطابق، یونیورسٹی بننے سے علاقے میں معاشی خوشحالی آئی، زمینوں کی قیمتیں بڑھیں اور مقامی لوگوں کو چھوٹے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع ملے۔
لیکن اس تعلیمی عروج کے پیچھے اس کے بانی کی متنازعہ کاروباری اور سیاسی زندگی کا سایہ ہمیشہ موجود رہا۔ حاجی اقبال نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک معمولی پرچون کی دکان اور شہد کی تجارت سے کیا تھا۔ تاہم، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی حکومت میں ان کا سیاسی رسوخ تیزی سے بڑھا۔ وہ 2009 سے 2016 تک ایم ایل سی رہے۔ ان کی دولت میں بے پناہ اضافے کا بنیادی سبب مبینہ طور پر کان کنی (کھنن) کے ٹھیکے اور شوگر ملوں کی خریداری تھا۔ سرکاری ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 2010 سے 2011 کے درمیان مروجہ قیمتوں سے انتہائی کم نرخ پر 11 سرکاری شوگر ملیں خریدیں، جس سے مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ واضح رہے کہ ان مالی دعووں اور الزامات کی آزادانہ ذرائع سے آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہے، تاہم یہ پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کی چارج شیٹس کا باقاعدہ حصہ ہیں۔
2016 کے بعد ریاست میں جب سیاسی ہوائیں بدلیں تو حاجی اقبال پر قانونی گھیرا تیزی سے تنگ ہونے لگا۔ ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف زمینوں پر غیر قانونی قبضے، دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے جیسی درجنوں ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ان پر تقریباً 50 مقدمات درج ہیں۔ 2022 تک آتے آتے، ضلعی انتظامیہ نے حاجی اقبال پر گینگسٹر ایکٹ نافذ کر کے انہیں ایک ‘منظم گینگ کا لیڈر’ قرار دے دیا۔ حکومتی کارروائی کے تحت ان کی لکھنؤ، نوئیڈا اور سہارنپور میں مبینہ طور پر سینکڑوں کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔ ان کے چاروں بیٹوں اور بھائی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا، جبکہ حاجی اقبال خود روپوش ہو گئے۔ ان کی گرفتاری پر ایک لاکھ روپے کا انعام ہے اور تفتیشی ایجنسیوں کو شک ہے کہ وہ بیرونِ ملک فرار ہو چکے ہیں۔
اس قانونی جنگ کی آنچ بالآخر گلوکل یونیورسٹی کے احاطے تک پہنچ گئی۔ 2021 میں ہریانہ کے ایک شخص کی شکایت پر یونیورسٹی پر پچھلی تاریخوں میں مبینہ طور پر جعلی ڈگریاں جاری کرنے کا الزام لگا۔ اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ اسے بیرونی عناصر کی سازش قرار دیتی ہے، لیکن اس سے تفتیشی اداروں کو کیمپس میں داخل ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔ مارچ 2021 میں ای ڈی نے اتر پردیش شوگر مل اور کان کنی گھوٹالے میں کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی پر شکنجہ کسا۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ حاجی اقبال نے غیر قانونی کان کنی سے کمائے گئے 500 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ‘عبدالواحد ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ’ کے ذریعے اس یونیورسٹی کی تعمیر میں لگائی ہے۔ آج اس پراپرٹی کی مالیت حکومتی اندازوں کے مطابق 4,439 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ فروری 2026 کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، گینگسٹر ایکٹ کے تحت حاجی اقبال کی 2 ارب 76 کروڑ روپے کی جائیدادیں مستقل طور پر سیل کی جا چکی ہیں۔
حاجی اقبال کے وکلاء کا موقف ہے کہ یہ تمام کارروائیاں سراسر سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں۔ ان کے وکیل سنجے سنگھ کے مطابق، ان کے موکل کو گینگ ریپ اور ڈکیتی جیسے فرضی اور سنگین مقدمات میں سیاسی کیریئر تباہ کرنے کے لیے پھنسایا گیا ہے۔ وہ یہ قانونی دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ 2018 سے اب تک درج پانچ ایف آئی آرز کو منسوخ کر چکی ہے، جو پولیس اور انتظامیہ کی کارروائیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ بقیہ مقدمات کو بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
ان تمام سنگین طوفانوں کے باوجود اس کہانی کا سب سے حیران کن پہلو گلوکل یونیورسٹی کی موجودہ بقا ہے۔ بانی کے مفرور ہونے، اربوں کی جائیدادیں ضبط ہونے اور ای ڈی کی کارروائیوں کے باوجود، کیمپس کے دروازے طلبہ کے لیے بند نہیں ہوئے۔ ‘روایت’ کی تحقیقات اور اندرونی ذرائع کے مطابق، ادارہ فی الحال ایک آزاد انتظامی بورڈ کے ماتحت مکمل طور پر فعال ہے۔ سید نظام الدین اے پی سی کی سربراہی اور ڈاکٹر جان فنبے کی وائس چانسلر شپ میں چلنے والی اس یونیورسٹی کی یو جی سی منظوری اب بھی برقرار ہے۔ کیمپس میں دس ہزار کے قریب طلبہ مختلف شعبوں میں زیرِ تعلیم ہیں اور سو سے زائد اساتذہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ امتحانات، ہاسٹل کی سہولیات اور کلاسز معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ای ڈی اور پولیس کی تفتیش خالصتاً بانیوں کے ذاتی مالی معاملات اور ٹرسٹ سے متعلق ہے، اس کا یونیورسٹی کے تدریسی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC)، فارمیسی کونسل یا بار کونسل جیسے کسی بھی نگراں ادارے نے تاحال تعلیمی سرگرمیوں پر کوئی عمومی پابندی عائد نہیں کی ہے۔
گلوکل یونیورسٹی کی یہ پوری صورتحال ہندوستان میں اقلیتی تعلیمی اداروں کو درپیش انتہائی پیچیدہ چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف تعلیمی پسماندگی دور کرنے کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف مالیاتی بے ضابطگیوں کے سنگین حکومتی الزامات۔ ان دونوں کے بیچ پس رہے ہیں وہ ہزاروں طلبہ جن کا مستقبل اس ادارے سے وابستہ ہے۔ اگر یہ واقعی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے تو قانون کو شفاف انداز میں اپنا راستہ بنانا چاہیے، لیکن اگر اس کے پیچھے کوئی سیاسی عداوت اور مسلم اقلیتی اداروں کو کچلنے کی منظم کارروائی کارفرما ہے جیسا کہ مولانا ارشد مدنی نے خدشہ ظاہر کیا تو یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے اور تعلیمی مستقبل کے لیے ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔

