مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تخیلاتی تصویر
(دہرادون – روایت نیوز ڈیسک): 18 ستمبر کی ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اتراکھنڈ میں ریاستی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے اور پیچیدہ ضوابط کے نتیجے میں پرانے ریکارڈ میں شامل تقریباً 40 فیصد مدارس بند ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کے سابقہ مدرسہ بورڈ کے تحت 452 مدارس باقاعدہ رجسٹرڈ تھے۔ تاہم، نئے حکومتی فریم ورک اور کڑی شرائط کے نفاذ کے بعد ان میں سے 179 مدارس اب بند ہو چکے ہیں، جبکہ 19 مدارس کو انتظامیہ کی جانب سے مختلف بہانوں سے سیل کر دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ جب مسلم کمیونٹی اپنے سرمائے سے اپنے تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کا آزادانہ انتظام کر رہی ہے، تو ریاستی حکومت ان کے لیے اتنی رکاوٹیں اور پیچیدگیاں کیوں پیدا کر رہی ہے؟
نئے نظام کے تحت قانونی منظوری حاصل کرنے کا عمل مدارس کے لیے انتہائی دشوار اور سست روی کا شکار بنا دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، محکمہ تعلیم کی جانب سے اب تک صرف 30 مدارس کو ہی باقاعدہ منظوری مل سکی ہے۔ اس وقت 134 مدارس کی درخواستیں محکمے کے پاس لٹکی ہوئی ہیں، جبکہ 54 ادارے پیچیدہ ضوابط کے باعث ابھی تک درخواست ہی جمع نہیں کرا سکے۔
دوسری جانب، مدرسہ بورڈ کے خاتمے کے بعد قائم کی گئی نئی اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی’ اب تک صرف 35 اقلیتی اداروں (جن میں 33 مدارس شامل ہیں) کو منظوری دے سکی ہے۔ اس پورے انتظامی اور قانونی بحران نے ریاست میں مسلمانوں کے آزادانہ تعلیمی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔
