مدارس کے فضلاء: تعلیم، بے روزگاری اور نئے امکانات
جنید احمد حمدانی
تعارف
ہندوستان کے تعلیمی اور سماجی منظر نامے میں مدارس اسلامیہ ایک ایسے قلعے کی مانند ہیں جو صدیوں سے نہ صرف مذہبی اقدار کا محافظ ہے بلکہ ایک وسیع تر تہذیبی وراثت کا امین بھی رہاہے۔ تاہم اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے معاشی ڈھانچے، ٹیکنالوجی کے غلبے اور عالمگیریت (Globalisation) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے روزگار کے تقاضوں نے مدارس کے فارغین کے سامنے سنگین مسائل کھڑے کردیئے ہیں، فراغت کے بعد ایک عالم دین جب عملی میدان میں قدم رکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسے پیچیدہ نظام کا حصہ پاتا ہے جہاں اس کی برسوں کی محنت اور علمی قابلیت کو جدید مارکیٹ کے پیمانے پہ ناکارہ اور نا قابل روزگار سمجھا جاتا ہے۔ وہیں، طلب و رسد (Demand & Supply) میں عدم توازن کی وجہ سے دینی خدمات کے مواقع انتہائی محدود نظر آتے ہیں، ان کی دستیابی بھی اعلی درجے کے کمپٹیشن کے چلتے شدید مشکل اور تنخواہیں روز مرہ کے گذر بسر کے لیے ناکافی ہوتی ہیں۔ یہ صورت حال نوجوان عالم دین کے لیے نہ صرف معاشی بحران کا سبب بنتی ہے بلکہ اس کے دور رس سماجی اور نفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان تمام مسائل کا تفصیلی جائزہ اور حل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
مدارس اسلامیہ کا تاریخی پس منظر اور معاشی ارتقاء
ہندوستان میں مدارس کے نظام کا سلسلہ مغلیہ سلطنت (1526ء-1857ء) اور دہلی سلطنت (1206ء- 1526ء) تک پہنچتا ہے، اس دور میں مدارس، اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ انتظامی اور سماجی قیادت کے بھی اہم مراکز اور انتظامیہ کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوا کرتے تھے، اس دور کے مدارس زمانے سے ہم آہنگ موجودہ معیاری جدید اعلی تعلیمی اداروں کے قائم مقام ہوا کرتے تھے جو ملک کی سیاست کے لیے سیاستدان اور سفراء، عدلیہ کے لیے قضاۃ، شفاخانوں کے لیے اطباء و حکماء، اور انتظامیہ کے لیے اہلکار و منصب دار مہیا کرتے تھے، اس دور میں ایک عالم بیک وقت منقولات (دینی علوم) اور معقولات ( منطق، فلسفہ، طب اور ریاضی) کا ماہر ہوتا تھا جو سماجی و انتظامی محاذ پر نمایاں مقام رکھتا تھا۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں ملا نظام الدین سہالویؒ نے درس نظامی کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اس دور کی بیوروکریسی کے لیے ماہرین تیار کرنا تھا۔ مگر 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب برطانوی نوآبادیاتی حکومت ملک پر قابض ہوئی اور اس نے فارسی کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان قرار دیا اور مغربی طرز تعلیم کو رائج کیا تو مدارس دفاعی حالت میں آگئے، ہدوستانی مسلمانوں کے عقیدے، مذہبی شناخت اور اسلامی تشخص کی حفاظت کے پیش نظر انہوں نے اپنی تمام تر توجہات دینی علوم تک محدود کرلیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے مدارس کی تعلیم اور معاشی روزگار کے درمیان خلیج پیدا ہونا شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ وسیع تر ہوتی چلی گئی۔
روزگار کے محدود مواقع اور سماجی و معاشی پہلو
مدرسے سے فراغت کے بعد علماء کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ فوری روزگار کا ہوتا ہے۔ نوجوان فضلاء کی یہ جماعت معاشی طور پہ خود مختار ہونا چاہتی ہے مگر مخصوص تعلیمی قابلیت کی وجہ سے روزگار کے مواقع نہایت محدود ہوجاتے ہیں۔ تخلیقی اور تکنیکی مہارتوں میں کمی کی وجہ سے اکثریت مسجد، مدرسہ، مکتب، اور شہروں میں خانگی تعلیم (Home Tuition) کا رخ کرتی ہے جہاں نئے علماء کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ضرورت سے زیادہ فراہمی نے اس میدان میں اتنا زیادہ کمپٹیشن پیدا کردیا کہ مقابلہ دشوار ہے اور انتہائی قلیل، گذر بسر کے لیے ناکافی اجرتوں پہ سودا کرنا پڑتا ہے، بعض علماء کاروبار شروع کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں لیکن اول تو یہ کہ کاروبار شروع کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے، دوسرے یہ کہ اس ڈجیٹل زمانے میں ہر چیز کا نظام یکسر بدل چکاہے، منافع بخش کاروبار بنانے اور اس میں ترقی کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور جدید مواصلاتی مہارتوں (Communication Skills) کا ہونا ضروری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، مدرسہ کے فارغین میں بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ تقریبا 86% فارغین کی آمدنی غیر ماہر اور تعمیراتی مزدور عملے کی ماہانہ آمدنی کے مساوی یا اس سے بھی کم ہوتی ہے جبکہ 10% سے بھی کم فضلاء کاروبار یا ایسی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں جہاں جدید تعلیمی اسناد یا ٹیکنیکل صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بے روزگاری صرف فرد پر ہی اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ اس کے گہرے سماجی و معاشی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں جیسے کہ شادی میں تاخیر، معاشرے کا دباؤ، اور سماجی شناخت کا بحران، جس کے نتیجے میں علماء نفسیاتی دباؤ، احساس کمتری، افسردگی، تشویش، اور احساس محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی خود اعتمادی میں کمی واقع ہوتی ہے جو لامحالہ ذاتی زندگی، پیشہ ورانہ کار کردگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عالم دین اپنے آپ کو ناکارہ تسلیم کر کے سماجی لاتعلقی کی راہ اختیار کرتا ہے اور امت کی دینی رہنمائی یا اصلاح معاشرہ جیسی اہم ذمہ داریوں سے بھی دست بردار ہوجاتا ہے۔
انگریزی زبان و تکنیکی مہارتوں کا فقدان اور ڈگریوں کی عدم تسلیمیت
موجودہ مدارس چوں کہ مسلم معاشرے کی اسلامی شناخت کے تحفظ کے مقصد پہ قائم ہیں، اس لیے انہوں نے احتیاط کے پیش نظر ہر ایسے نظریے سے کنارہ کشی اختیار کی جو کسی بھی پہلو سے ان کے اس بنیادی مقصد کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ اسلامی علوم اور دینی تربیت پہ مرکوز رکھی، تاکہ ایسے افراد تیار ہو سکیں جو اسلامی شعائر کو زندہ رکھیں، مسلم شناخت کی حفاظت کریں اور اسے آئندہ نسلوں تک محفوظ طور پہ منتقل کریں، اسی لیے مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب زیادہ تر مذہبی علوم تک محدود ہوتا ہے، جس کا ذریعۂ تعلیم بشمول فارسی، عربی اور اردو زبانیں ہوتی ہیں۔ اور عصری مضامین جیسے سائنس، ریاضی، انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم بہت کم یا بالکل نہیں ہوتی جس کی وجہ سے فارغین جدید دنیا کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہوپاتے۔ جدید روزگار کے بازار میں انگریزی زبان اور دیگر تکنیکی مہارتیں بنیادی شرطوں میں سے ہیں، تکنیکی مہارتوں (technical skills) کی کمی، انگریزی زبان میں کمزوری اور مؤثر جدید مواصلاتی صلاحیتوں کی عدم دستیابی ان کے کارپوریٹ دنیا اور نجی و سرکاری شعبوں میں داخلے سے مانع ہوتی ہے بلکہ ماڈرن زمانے کے سامنے اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے میں بھی رکاوٹ کا سبب بنتی ہے۔ جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان کی ڈگریوں کو عصری یونیورسٹیوں کے مساوی نہیں مانتیں، جس کی وجہ سے ایک قابل پڑھا لکھا نوجوان حکومت اور کمپنیوں کی نظر میں کاغذات کے لحاظ سے جاہل شمار ہوتا ہے۔
مسائل کا حل اور عصر حاضر سے ہم آہنگی کے راستے
عصرِ حاضر سے ہم آہنگی کے لیے سب سے زیادہ اہم اور بنیادی عنصر انگریزی زبان پہ مضبوط گرفت ہے۔ دورانِ تعلیم ہی اس پہلو پہ سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر بتدریج اور تسلسل کے ساتھ محنت کی جائے تو سات آٹھ برس کی مدت میں انگریزی زبان پہ معقول بلکہ اچھا عبور حاصل کرنا نہایت ممکن ہے۔ انگریزی سے واقفیت کے بعد اسے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پہ استعمال کرتے ہوئے تکنیکی مہارتوں کی تعمیر پہ توجہ دیں۔ گوگل، یوٹیوب اور مصنوعی ذہانت(AI) جیسے جدید وسائل کا درست استعمال سیکھیں اور ریاضی، حیاتیات، طبیعیات، اور کیمیاء کے مبادیات کا علم حاصل کریں۔ جو افراد کاروبار کرنا چاہتے ہیں وہ آن لائن اور آف لائن تجارت کے بارے میں پڑھیں اور سمجھیں۔ آپ کی یہ مسلسل اور تدریجی محنت وقت کے ساتھ بڑے نتائج پیدا کرے گی، ان شاء اللہ۔ ہمارے روایتی تعلیمی نظام کو جدید تعلیمی ڈھانچے سے مربوط کرنے کے لیے چند معاون ادارے مذکور ہیں جو مدارس کے طلبہ کو عصری اسناد، یعنی دسویں اور بارہویں کے سرٹیفکیٹس فراہم کرتے ہیں۔ ان اسناد کے حصول کے بعد طلبہ کسی بھی کالج یا یونیورسٹی میں جدید اعلیٰ تعلیم کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔ ان اداروں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (NIOS):
یہ حکومت اور مختلف سماجی تنظیموں کے اشتراک سے قائم کردہ ایک فاصلاتی تعلیمی ادارہ ہے، جو دسویں اور بارہویں کے سرٹیفکیٹس جاری کرتا ہے۔
2. جمعیت اسٹڈی سینٹر:
جمعیت علماء ہند نے مدارس کے طلبہ کے لیے خصوصی اسٹڈی سینٹرز قائم کیے ہیں، جہاں دسویں اور بارہویں کے امتحانات کی باقاعدہ تیاری کرائی جاتی ہے۔
3. برج کورس:
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جیسے معتبر ادارے مدارس کے طلبہ کے لیے ایک سالہ تربیتی پروگرام فراہم کرتے ہیں، جس کا مقصد انہیں مین اسٹریم یونیورسٹی تعلیم کے لیے تیار کرنا ہے۔
4. شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز:
یہ ادارہ حفاظِ کرام کو میڈیکل اور انجینئرنگ کے داخلہ امتحانات کی تیاری کراتا ہے۔ اس ادارے سے وابستگی کے بعد طلبہ NEET اور JEE جیسے مسابقتی امتحانات میں کامیابی کے قابل ہو جاتے ہیں۔
5. مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (MMERC):
اس ادارے کی شاخیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ مدارس کے فارغین کے لیے دو سالہ ڈپلوما کورس کراتا ہے، جس میں انگریزی زبان، کمپیوٹر، ریسرچ میتھڈولوجی اور ترجمہ نگاری کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ طلبہ جو خود سے انگریزی سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کے لیے یہ ایک نہایت مفید اور مؤثر متبادل ہے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض طلبہ مدارس سے فراغت کے بعد براہ راست مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مدرسے کی سند کی بنیاد پر ہی ایم اے میں داخلہ لے لیتے ہیں، تاہم یہ راستہ زیادہ مناسب اور پائیدار نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ باقاعدہ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ہی ایم اے میں داخلہ لیں، تاکہ مستقبل میں اسنادی اور کاغذی کارروائی کے حوالے سے کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
برصغیر کے دینی و عصری علوم کے سنگم علماء اور ان کی خدمات
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہمارے اکابر اور قائدین کبھی بھی عصری علوم کے مخالف نہیں رہے۔ ان کی اصل منشا یہ تھی کہ مدارس کا نظام اپنی خالص دینی شناخت کے ساتھ برقرار رہے، تاکہ اسلامی روایت کی روح بعینہ محفوظ رہ سکے۔ اسی تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیان میں شامل ہیں، جبکہ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ دینیات کے ڈین رہے ہیں اور تقریباً پچیس برس تک وہاں علمی خدمات انجام دیتے رہے۔ ذیل میں چند نامور علماء کا ذکر ہے جنہوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری میدانوں میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
1. سر سید احمد خان (1817ء–1898ء)
سر سید کی ابتدائی تعلیم مکمل طور پہ روایتی تھی، جس میں قرآن، حدیث، فقہ، فارسی اور عربی شامل تھے۔ تاہم 1857ء کے سانحے نے ان کے فکری زاویے کو یکسر بدل دیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ جدید علوم سے دوری ہے۔ چنانچہ 1875ء میں انہوں نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے معروف ہوا۔ یہ جنوبی ایشیا کا پہلا ادارہ تھا جہاں مغربی سائنسی علوم اور اسلامی دینیات کو یکجا پڑھانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس ادارے سے مسلم معاشرہ آج تک علمی و فکری سطح پر استفادہ کر رہا ہے۔
2. مولانا ابوالکلام آزادؒ (1888ء–1958ء)
مولانا آزادؒ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں پہ یکساں عبور رکھتے تھے اور تاریخ، فلسفہ، سائنس اور اسلامیات کے جید عالم تھے۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم (1948ء–1958ء) کی حیثیت سے انہوں نے ملک کے تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا نظریہ تھا کہ تعلیم ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ اپنے دور وزارت میں انہوں نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)، کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) اور انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (IITs) جیسے اعلیٰ سائنسی و فنی اداروں کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، تاکہ ہندوستان جدید دنیا کے تقاضوں کا مقابلہ کر سکے۔ آج ہندوستان کا آئی ٹی خدمات کے میدان میں عالمی مقام انہی اداروں کی مرہونِ منت ہے۔
3. ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ (1908ء–2002ء)
بیسویں صدی کے ممتاز محقق اور کثیراللسان عالمِ دین ڈاکٹر حمید اللہؒ حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دینی تعلیم جامعہ نظامیہ سے حاصل کی، پھر جامعہ عثمانیہ سے بین الاقوامی قانون اور اسلامی نقطۂ نظر میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ جامعہ بون (جرمنی) اور جامعہ سوربون (پیرس) سے بھی ڈاکٹریٹ کی سندیں حاصل کیں۔ ان کا نمایاں کارنامہ حدیثِ رسول ﷺ کی تاریخی حیثیت کو علمی و سائنسی بنیادوں پہ مدلل انداز میں ثابت کرنا ہے۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کے شاگرد ہمام بن منبہ کے صحیفے کو اس کی تصنیف کے تقریباً تیرہ سو سال بعد برلن کی لائبریری سے دریافت کر کے شائع کیا، اور اسی کے ساتھ یہ اعتراض بھی ختم ہوا کہ احادیث کی تدوین نبی کریم ﷺ کی وفات کے دو سو سال بعد ہوئی ہے۔ بین الاقوامی قانون پہ اسلامی نقطۂ نظر کے حوالے سے ان کی تحقیقات آج بھی عالمی سطح پر معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے متعدد کلاسیکی کتابوں کے مختلف زبانوں میں تراجم کیے، نیز قرآنِ کریم کا فرانسیسی ترجمہ کیا، جو آج بھی فرانس میں مقبول اور متداول ہے۔
4. مفتی تقی عثمانی حفظه الله (پیدائش: 1943ء)
مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ نے دارالعلوم کراچی سے عالمیت و افتاء کی تکمیل کی، پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور جامعہ کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ مفتی صاحب سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں۔ ان کی نمایاں خدمت اسلامی بینکاری اور اسلامی مالیاتی نظام کی تشکیلِ نو ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ موجودہ سودی مالی نظام سے عملی طور پہ بچنے کے لیے ایک مؤثر اور شرعی متبادل کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسلامی مالیات کا ایک جدید اور منظم ڈھانچہ پیش کیا، جسے عالمی سطح پہ روایتی سودی نظام کے متبادل کے طور پہ متعارف کرایا گیا۔ آج اسلامی بینکاری کا دائرہ اسلامی و غیر اسلامی ملکوں میں سودی نظام کے متبال کے طور پہ وسعت اختیار کر چکا ہے، دنیا کی متعدد یونیورسٹیوں میں اسلامی مالی و معاشی نظام میں ریسرچ ہورہی ہے اور مستقل نئے مالی تکنیکی پروڈکٹس (fintech products) صادر ہورہے ہیں۔ یہ سب مفتی صاحب اور ان کی جماعت کی علمی کاوشوں کا نمایاں ثمرہ ہے۔
ان شخصیات کے علاوہ درجنوں ایسے علماء ہیں جو ملک و بیرون ملک کی مایہ ناز یونیورسٹیوں میں پروفیسر، تحقیقی اداروں میں ریسرچر، پروڈکٹ مینیجر، سلسلہائے اسلامی اسکول و کالج کے بانی، ٹیچر، وکلاء، ڈاکٹر، انجینیر، سول سروینٹ اور دیگر بڑے بڑے عہدوں پہ فائز ہیں، جنہوں نے اپنی روایتی علمی بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دنیا کو پڑھا، سمجھا اور اس کے ساتھ ہم قدم ہو کر مؤثر کردار ادا کیا اور کر رہے ہیں۔ یہ حضرات اس بات کی روشن مثال ہیں کہ دینی روایت اور عصری آگہی کا امتزاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ امت کی فکری و عملی ترقی کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ جب ایک عالم زمانے سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو اس کی خدمات کا معیار بدل جاتا ہے اور اس کے لیے دیگر عمومی علماء کی بنسبت خدمت کے مواقع کے ضمن میں روزگار کے مواقع زیادہ میسر ہوتے ہیں۔
*خلاصہ*
کائنات کا یہ دستور ہے کہ تقریباً ہر چالیس سال میں نسلیں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ نئی نسلیں منظرِ عام پہ آتی ہیں جن کا طرزِ زندگی، اندازِ فکر، رہن سہن اور اسلوبِ گفتگو سابقہ نسلوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اس تغیر کے ساتھ وقت کے تقاضے اور ضروریات بھی بدل جاتی ہیں۔ جو شخص خود کو زمانے کے مطابق ڈھالتا ہے اور حالات کے مطالبات کو سمجھ کے عملی میدان میں قدم رکھتا ہے، وہی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ فضلاء مدارس اسلامیہ کے روزگار کا مسئلہ محض تعلیمی یا معاشی نوعیت کا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک علمی و ایمانی ورثے کی بقا اور عصری دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی کا مسئلہ بھی ہے۔ ایک طرف اسناد کی قانونی عدم تسلیمیت، نصاب کی محدودیت اور عملی مہارتوں کی کمی جیسے چیلنجز موجود ہیں، تو دوسری طرف روشن مثالیں اور قوم و علماء کی کاوشوں سے قائم ہونے والے جدید ادارے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اگر طلبۂ مدارس کو درست رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں، اور انہیں عربی کے ساتھ انگریزی، ڈیجیٹل مہارتوں، تحقیقی شعور اور مستند سرٹیفکیٹس سے آراستہ کر کے میدانِ عمل میں اتارا جائے، تو وہ عالمی سطح پہ علمی اور معاشی مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ مدارس اسلامیہ کی بدولت مغربی تہذیب کی دو سو سالہ یلغار کے باوجود ہندوستانی مسلمان اپنی روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں۔ اب ہندوستانی مسلم معاشرہ محض دفاعی حالت میں نہیں رہا، بلکہ عملی تیاری اور پیش قدمی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ملک بھر میں اسلامی اسکولوں اور کالجوں کے قیام کا سلسلہ اسی تبدیلی کا مظہر ہے۔ مالی اعتبار سے مضبوط مومن ضعیف مومن سے بہتر ہے لہذا قومی سطح پہ مزید محنت و جدوجہد اور کام کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالٰی ترقی پذیر سے ترقی یافتہ قوم تک کی منزل جلد طے کرائے۔
