فوٹو: Patna Press
ارسلان صدیقی
پٹنہ: مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ رجسٹرار محمد ثناء اللہ خان کو ڈھائی لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ وائس چانسلر پروفیسر عالمگیر پر سنگین الزامات کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
بہار کی اینٹی کرپشن بیورو (وجیلنس) نے منگل کے روز پٹنہ کے مٹھا پور علاقے میں واقع مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے دفتر میں کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ رجسٹرار محمد ثناء اللہ خان کو ڈھائی لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے حراست میں لیا۔ وجیلنس بیورو کے مطابق، یہ کارروائی سمستی پور کے رہائشی رام آنند مہتو کی شکایت پر عمل میں آئی، جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار طلبہ کے نتائج میں پریکٹیکل نمبر شامل کرنے اور رکے ہوئے نتائج جاری کرنے کے عوض رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے فوری بعد دورانِ تفتیش محمد ثناء اللہ خان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے یہ رقم وائس چانسلر پروفیسر عالمگیر کے ایما پر وصول کی تھی۔ اس بیان کے بعد کیس کی سمت وائس چانسلر کی جانب مڑ گئی ہے، جو مبینہ طور پر گرفتاری کے ڈر سے پٹنہ چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ بیورو کے حکام نے بتایا کہ وائس چانسلر کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ بدعنوانی کے اس نیٹ ورک کی مکمل پردہ پوشی کی جا سکے۔
وجیلنس کے ڈائریکٹر جنرل جتیندر سنگھ گنگوار کی ہدایت پر ڈی ایس پی شیام بابو پرساد کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ٹیم نے اس وقت جال بچھا کر خان کو گرفتار کیا جب وہ یونیورسٹی سینٹرز (KRC 402 اور 403) کے طلبہ کے معاملات حل کرنے کے نام پر رشوت وصول کر رہے تھے۔ بیورو نے کارروائی سے قبل الزامات کی خفیہ تصدیق کی تھی، جس میں شکایت درست پائی گئی۔
یونیورسٹی کے ذرائع اور عوامی حلقوں میں اس گرفتاری کے بعد شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور یہ مطالبات زور پکڑ رہے ہیں کہ صرف ایک افسر کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ پورے انتظامی نظام کی جانچ ہونی چاہیے۔ محمد ثناء اللہ خان کو ضابطے کی کارروائی کے بعد خصوصی وجیلنس عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں بیورو ان کی ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ یونیورسٹی میں جاری مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی مزید تفصیلات سامنے لائی جا سکیں۔
