محمد حارٹ
اترپردیش کے غازی آباد میں بدھ، 3 جون کو ضلعی انتظامیہ نے تجاوزات اور ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک مدرسے کو بلڈوزر سے مسمار اور مزید دو کو سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ایک حالیہ قتل کے واقعے کے بعد شروع کی گئی ہے، جس نے اقلیتی تعلیمی اور مذہبی اداروں کو نشانہ بنانے کے منظم رجحان پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انتظامیہ نے مسوری کے علاقے میں ایک مدرسے کو مسمار کیا۔ اس سے قبل ایک بلڈوزر کھوڑا کے علاقے میں بھی پہنچا تھا۔ کھوڑا کے تین مدارس کو نوٹس جاری کیے گئے اور منگل کو ان میں سے دو کو سیل کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رویندر کمار مندر اور پولیس کمشنر جے رویندر گوڑ نے اس کارروائی کی براہ راست نگرانی کی۔ علاقے میں امن و امان کے نام پر پولیس اور ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف) کے 850 اہلکار تعینات کیے گئے۔ اب تک 1600 سے زائد افراد کی تصدیق کی جا چکی ہے اور مشکوک افراد پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ مہم 28 مئی کو عید کے روز ہونے والے سوریا چوہان نامی نوجوان کے قتل کے بعد شروع کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے قتل کے مرکزی ملزم اسد کے گھر پر نوٹس چسپاں کیا تھا۔ بعد ازاں اسد کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اب ایک فرد کے مبینہ جرم کو بنیاد بنا کر علاقے کے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ڈی ایم رویندر کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف پیر سے ‘آپریشن کلین سویپ’ شروع کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھوڑا میں تین مدارس مدرسہ بورڈ یا محکمہ اقلیتی امور میں رجسٹرڈ نہیں پائے گئے۔ انتظامیہ کا الزام ہے کہ مسمار کیا گیا مدرسہ سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، مدرسہ رحمانیہ عربیہ قاسم العلوم کے سیکریٹری حاجی رفیق ملک نے انتظامی دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مدرسہ سال 2000ء میں میرٹھ سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہوا اور اس کے تمام قانونی دستاویزات مکمل اور درست ہیں۔ حاجی رفیق ملک کے مطابق مدرسے میں چھٹیوں کے باوجود بیرون شہر کے غریب طلبہ مقیم تھے، جنہیں اس اچانک کارروائی سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انتظامیہ کی جانب سے ضوابط کی آڑ میں کی جانے والی اس کارروائی نے امتیازی سلوک کے شکوک کو تقویت دی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے واضح کیا تھا کہ اقلیتی مدارس کسی تعلیمی بورڈ سے منظوری کے بغیر بھی چلائے جا سکتے ہیں اور محض اس بنیاد پر انہیں بند نہیں کیا جا سکتا۔ اس قانونی وضاحت کے باوجود سرکاری مشینری اور بلڈوزر کا رخ عموماً اقلیتی عبادت گاہوں اور مدارس کی جانب ہی موڑا جا رہا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک میں دیگر طبقات کے غیر رجسٹرڈ یا سرکاری زمین پر قائم تعلیمی و مذہبی ادارے موجود نہیں ہیں؟
ڈی سی پی دھول جیسوال نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ بنا کر نہیں کی جا رہیں۔ تاہم، ایک قتل کے واقعے کو جواز بنا کر مدارس کی مسماری اور سیلنگ کا یہ تسلسل زمینی حقائق کے برعکس ریاستی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔ قانون کے یکساں نفاذ اور ادارہ جاتی ہراسانی کے اس فرق کو واضح کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
