بہ شکریہ ایکس ہینڈل
ارسلان صدیقی
مغربی بنگال کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی جانب سے ریاست کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کے ساتھ ساتھ مدارس میں بھی ‘وندے ماترم’ کو پڑھنے کا لازمی قرار دینے کا فیصلہ ایک نئی بحث کا نقطہ آغاز بن گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، اب تمام تعلیمی اداروں میں صبح کی اسمبلی کے دوران قومی نغمے کے تمام بند پڑھنا لازمی ہوگا۔
اس فیصلے کے سامنے آتے ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک پریس بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو اس نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ بورڈ کا موقف ہے کہ اگر یہ حکم برقرار رہتا ہے تو مسلم طلبہ کو اس کی تلاوت سے استثنیٰ دیا جانا چاہیے، کیونکہ کسی بھی طالب علم کو ایسے الفاظ یا ترانے گانے پر مجبور کرنا جو اس کے مذہبی عقائد کے منافی ہوں، آئین کی جانب سے فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی یکجہتی سے جوڑا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں رہنے والے ہر فرد کے لیے قومی نغموں کا احترام ضروری ہے اور یہ ‘سناتن’ اور ہندوستانی ثقافت کا حصہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے اقدامات ملک کی تہذیبی شناخت کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ مرکزی وزیر کرن ریجیجو نے بھی اس حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی نغمہ کسی خاص مذہب یا طبقے سے تعلق نہیں رکھتا، اس لیے اسے سیاسی بحث کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اس معاملے پر قومی سطح پر آرا منقسم نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے سرکاری تقریبات میں ‘وندے ماترم’ کے تمام پانچوں بند پڑھنے کو “غیر ضروری بوجھ” قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر پہلا یا دوسرا بند ہی پڑھا جاتا ہے اور مکمل ورژن کی تلاوت کو ہر تقریب میں لازمی بنانا ایک غیر ضروری اقدام ہے۔ تھرور کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں گرما گرمی دیکھی گئی اور کیرالہ بی جے پی کے صدر راجیو چندر شیکھر نے اسے کانگریس کی جانب سے مسلم تنظیموں کی حمایت قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ ‘وندے ماترم’ 1870 کی دہائی میں بنکم چندر چٹرجی نے تحریر کیا تھا اور 1950 میں اسے آئین ساز اسمبلی نے قومی نغمے کا درجہ دیا تھا۔ اس سے قبل، رواں سال کے اوائل میں مرکزی وزارت داخلہ نے بھی تمام سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ کے چھ بندوں کی تلاوت کو لازمی قرار دیا تھا، جس کے دوران حاضرین کے لیے تادیباً (Attention) کھڑے ہونے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تعلیمی اداروں میں قومی شناخت، مذہبی آزادی اور حب الوطنی کے اظہار کے طریقوں پر ملک گیر بحث جاری ہے۔ ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں حکومت اور اقلیتی تنظیموں کے درمیان باہمی مذاکرات ہی کسی درمیانی راستے کا تعین کر سکتے ہیں۔
