اے آئی سے تیار کردہ تصویر
ارسلان صدیقی
ریاست بہار میں ضلع دربھنگہ کے اے پی ایم تھانہ حدود میں واقع مدرسہ اسلامیہ نگر بلواہا سے چار نابالغ طلبہ کے فرار اور بہادر پور تھانہ کے سنوارا گاؤں میں ان کے پکڑے جانے کے واقعے کو مین اسٹریم میڈیا میں غیر معمولی کوریج مل رہی ہے۔ مدھوبنی سے تعلق رکھنے والے 12 سے 14 سال کی عمر کے یہ طلبہ پیروں میں زنجیریں اور تالے لگی حالت میں سنوارا گاؤں پہنچے تھے۔ وہاں کے مقامی مکھیا اور باشندوں نے انہیں روک کر پولیس کو طلب کیا اور واقعے کی ویڈیو وائرل کر دی۔
ابتدائی خبروں اور بچوں کے بیانات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہیں مدرسے میں یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ قرآن کی تعلیم کے بجائے ان سے بیت الخلا کی صفائی اور لکڑیاں کاٹنے کا کام لیا جاتا تھا، اور مخالفت کرنے پر انہیں پائپ سے پیٹا جاتا تھا۔
اس کے برعکس، ‘روایت’ کی جانب سے مقامی سطح پر کی گئی تحقیق میں مختلف حقائق سامنے آئے۔ بلواہا گاؤں کے رہائشی حافظ جاوید نے مار پیٹ اور جبری مشقت کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بچے عادتاً بار بار مدرسے سے بھاگ جاتے تھے۔ اس صورتحال سے ان کے والدین اور سرپرست سخت پریشان تھے، اور ان ہی کی صریح ہدایت اور رضامندی پر بچوں کو زنجیروں سے باندھا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق، جمعرات کی چھٹی کے موقع پر یہ بچے چپکے سے نکل کر ملحقہ بستیوں کی طرف چلے گئے تھے۔ سنوارا گاؤں پہنچنے پر وہاں کے مکھیا نے انہیں پکڑ لیا، پولیس کو مطلع کیا اور ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ بچوں نے معاملے کی نزاکت کو سمجھے بغیر محض خوف کے مارے پولیس کے سامنے وہ باتیں کہہ دیں جو ان کے ذہن میں آئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تمام تر واقعے میں بچوں کے والدین مدرسہ انتظامیہ کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق، میڈیا کے مختلف ادارے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور عام آدمیوں کی باتوں کو بریکنگ نیوز بنا کر معاملے کو ایک نیا رخ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، تادمِ تحریر پولیس نے بچوں کو اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے اور انہیں تاحال چھوڑا نہیں گیا ہے۔ اس کے علاوہ مدرسے کے ایک استاد پر کارروائی کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر مقامی سنجیدہ حلقوں کا اصرار ہے کہ قبل اس کے کہ معاملہ مزید طول پکڑے اور میڈیا اسے مزید ہوا دے، بڑی ملی تنظیموں کو فوری طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
