فوٹو: بشکریہ غالب شمس
غالب شمس
فروری 2026 کی ایک سرد اور کہر آلود صبح، آسام کے ضلع گوالپارہ کے علاقے بندر ماتھا کے دورے کے دوران زمینی حقائق ریاستی دعوؤں سے یکسر مختلف نظر آئے۔ ملبے کے ڈھیر اور ٹوٹی ہوئی اینٹوں کے درمیان کھڑی ایک خاتون کی آنکھوں میں بے بسی تھی۔ “میری بیٹی یاسمین (تبدیل شدہ نام) کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے، لیکن اب اس کے پاس بیٹھ کر پڑھنے کے لیے جگہ تک نہیں بچی۔” یہ الفاظ اس بے گھر ماں کے ہیں جس کا مکان حالیہ انتظامی مہم کے دوران منہدم کر دیا گیا ہے۔ آسام کی یہ مسلم اکثریتی بستی اس وقت کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے، جہاں انتظامیہ کی جانب سے ‘تجاوزات کے خلاف مہم’ کے تحت وسیع کارروائی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر اور سیکڑوں طلبہ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔
یہ مقامی سطح کا کوئی انفرادی واقعہ نہیں ہے۔ گوالپارہ کی یہ صورتحال آسام کے اس وسیع تر سیاسی اور سماجی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے شہریت، اراضی کے حقوق اور ریاستی طاقت کے استعمال پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست ‘نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز’ (این آر سی) اور ‘ڈی ووٹر’ (مشکوک ووٹر) جیسے تنازعات سے گزر رہی ہے، زمین خالی کرانے کی ان مہمات کو انسانی حقوق کے مبصرین صرف انتظامی کارروائی نہیں مانتے۔ ان کے مطابق، ان اقدامات نے خاص طور پر ایک مخصوص برادری کے تعلیمی، سماجی اور مذہبی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے، جس کے پوری نسل کے لیے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
دوہرے معیار کے سوالات
بندر ماتھا میں قدم رکھتے ہی جو چیز سب سے زیادہ جھلک رہی تھی، وہ قانون کے نفاذ میں صریح تضاد تھا۔ بستی کے ایک حصے میں اکثریتی (ہندو) برادری کے مکانات مکمل طور پر محفوظ کھڑے تھے، جبکہ ان کے عین درمیان واقع مسلم خاندانوں کے گھروں کو اس طرح زمین بوس کر دیا گیا تھا جیسے وہ کبھی وہاں موجود ہی نہیں تھے۔
یہاں ایک عمر رسیدہ خاتون موجود تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں شہریت اور اراضی کے بوسیدہ کاغذات لرز رہے تھے۔ مقامی مترجم مقبول حسین قاسمی نے ان کی بات کا ترجمہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پوچھ رہی ہیں: “اگر زمین کا یہ ٹکڑا غیر قانونی ہے، تو میرے پڑوسی کا گھر قانونی اور میرا مکان غیر قانونی کیسے قرار دیا گیا؟”
مقبول حسین نے اس تباہی کے پیچھے چھپے ایک تعلیمی المیے کی نشاندہی کی۔ اسی منہدم شدہ گھر کی ایک بیٹی میڈیکل انٹرنس امتحان ‘نیٹ’ کی تیاری کر رہی تھی۔ اس خاندان کا واحد معاشی سہارا ان کے والد کی ایک چھوٹی سی دکان تھی، جسے مکان کے ساتھ ہی بلڈوزر نے روند دیا۔ کوچنگ کے وسائل تو درکنار، اب یہ طالبہ اپنے والد کے ساتھ مل کر منہدم دیواروں کے ملبے سے اپنی درسی کتابیں تلاش کرنے پر مجبور ہے۔
قانونی تقاضے اور زمینی حقائق
انتظامیہ ان کارروائیوں کو ‘آسام لینڈ اینڈ ریونیو ریگولیشن، 1886’ اور ‘انڈین فاریسٹ ایکٹ، 1927’ کے تحت جائز قرار دیتی ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے رضاکار اس طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔
‘لینڈ کونفلکٹ واچ’ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، 13 دسمبر 2024 کو بلیجانا ریونیو سرکل کے تحت پنچرتن علاقے میں 44 خاندانوں کو بھاری مشینری اور سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں بے دخل کیا گیا۔ آسام لینڈ اینڈ ریونیو ریگولیشن کی دفعہ 165(3) اور سیٹلمنٹ رولز کے قاعدہ 18(3) کے تحت یہ لازم ہے کہ بے دخلی سے قبل کم از کم پندرہ سے تیس دن کا نوٹس دیا جائے تاکہ متاثرین قانونی چارہ جوئی کر سکیں یا متبادل بندوبست کر سکیں۔
لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ نوٹس یا تو جاری ہی نہیں کیے جاتے، یا کارروائی سے محض 24 گھنٹے قبل دیے جاتے ہیں۔ ایک پینسٹھ سالہ مقامی باشندے کا دعویٰ ہے کہ وہ تین نسلوں سے یہاں آباد ہیں اور 1970 کی دہائی سے زمین کا ٹیکس (خزنہ) ادا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ‘مناسب رہائش کے خصوصی نمائندے’ کی رپورٹ (A/HRC/RES/43/14، مورخہ 6 جولائی 2020) کے مطابق، حکومت پر لازم ہے کہ بے دخل کیے گئے افراد کو فوری طور پر مناسب معاوضہ، متبادل رہائش اور خوراک جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ تاہم، گوالپارہ میں ان بین الاقوامی ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی نظر آتی ہے۔
تعلیمی اور مذہبی ادارے بھی زد میں
اس گراؤنڈ رپورٹنگ کے دوران جو پہلو سب سے زیادہ تشویشناک پایا گیا، وہ تعلیمی اور مذہبی اداروں کی مسماری کے الزامات تھے۔ بندر ماتھا سے متصل ایک ادارہ ‘مدرسۃ البنات بدیا پارہ کرشنائی’ قائم تھا، جہاں غریب گھرانوں کی بچیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ آج وہاں صرف اینٹوں کا ڈھیر باقی ہے۔ مدرسے کے مہتمم مفتی مقیب الرحمان نے بتایا کہ اس انہدام سے لگ بھگ 400 بچیوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے، کیونکہ اس پورے علاقے میں لڑکیوں کے لیے کوئی دوسری تعلیمی درس گاہ موجود نہیں ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مدرسہ محکمہ جنگلات کی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم، اسی مبینہ اراضی پر مدرسے سے متصل کئی ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ایک وسیع مندر موجود ہے، جس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہی مبینہ دہرا معیار ‘پنج رتنا’ کے علاقے میں بھی دیکھا گیا، جہاں ایک قدیم مسجد کا آدھا حصہ منہدم کر دیا گیا، جبکہ اس کے بالکل قریب ایک نئے مندر کی تعمیر بلا تعطل جاری ہے۔
جمعیت علماء ہند کے جنرل سیکرٹری مولانا حکیم الدین قاسمی اور آسام کے مولانا عبد القادر قاسمی کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق، نومبر 2023 سے جولائی 2025 کے درمیان آسام میں مجموعی طور پر 11,183 خاندانوں کو بے دخل کیا گیا، جس سے 77,379 افراد براہِ راست متاثر ہوئے۔ اس عرصے میں 48 مساجد، 86 تعلیمی ادارے (جن میں 75 اسکول اور 11 مدارس شامل ہیں)، اور 37 دیگر مقامات (جن میں 22 عیدگاہیں اور 15 قبرستان شامل ہیں) کو مسمار کیا گیا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے خود اسمبلی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب تک مساجد، اسکولوں اور مدارس سے متعلق 4,449 بیگھہ اراضی خالی کرائی جا چکی ہے۔
اس مبینہ انتظامی من مانی میں وہ اقدامات بھی شامل ہیں جنہیں ناقدین عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ مقامی رہائشی چافا بیگم نے بے دخلی سے قبل گوہاٹی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ عدالت نے بے دخلی پر مکمل روک تو نہیں لگائی، لیکن بلیجان ریونیو سرکل کے نوٹس کو کالعدم قرار دے دیا کیونکہ اس میں متنازعہ زمین کی واضح نشاندہی نہیں تھی اور متعلقہ افسر کو نوٹس جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ ان عدالتی ریمارکس کے باوجود جنگلاتی اہلکاروں نے جے سی بی مشینوں کے ذریعے کارروائی مکمل کر لی۔ آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آمسو) کے صدر انیم الحق کے مطابق، بلیجان سرکل آفیسر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ریونیو علاقوں میں کارروائی نہیں ہوگی، لیکن ڈویژنل فاریسٹ آفیسر نے اپنی مرضی مسلط کی۔
ریاست کا موقف اور زمینی تضادات
ریاستی حکومت اور محکمہ جنگلات ان تمام کارروائیوں کا دفاع ماحولیاتی تحفظ کے نام پر کرتے ہیں۔ جولائی 2025 میں پائیکن ریزرو فاریسٹ کی کارروائی پر گوالپارہ کے ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) تیجس ماریسوامی نے ‘این ڈی ٹی وی’ کو بتایا تھا: “گوالپارہ ضلع میں انسان اور ہاتھیوں کے درمیان تصادم کے سب سے زیادہ واقعات درج کیے گئے ہیں۔ اسی لیے ہائی کورٹ نے جنگلاتی زمین سے تمام تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا ہے۔”
تاہم، مذہبی عمارتوں کی مسماری میں اپنائے گئے دہرے معیار، بازآبادکاری کے فقدان اور عدالتی احکامات کو نظر انداز کیے جانے پر ضلعی انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ اپوزیشن جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے رکن اسمبلی حافظ رفیق الاسلام اس ‘جنگلاتی زمین’ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں: “یہ گاؤں 1951 کے آسام این آر سی (NRC) میں درج ہیں۔ یہاں بجلی، سڑکیں، پانی کے منصوبے اور سرکاری اسکول موجود ہیں۔ اگر یہ جنگلاتی زمین ہے تو پھر ریاستی حکومت نے یہ تمام سہولیات یہاں کیسے فراہم کیں؟” گوالپارہ لائرز ایسوسی ایشن کے وکیل واجد علی کے مطابق ضلع کے صرف 25.67 فیصد جنگلاتی علاقے پر تجاوزات ہیں، جن میں ربڑ اور چائے کی کاشت کرنے والے قبائلی بھی شامل ہیں، لیکن حالیہ کارروائیوں کا ہدف صرف بنگالی نژاد مسلمانوں کی بستیاں رہی ہیں۔
حاصلا پارہ: ملبے سے پرے کی کہانی
متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران ‘حاصلا پارہ’ کے ترپال سے بنے جھونپڑوں کے مشاہدے سے بے دخلی کے سماجی اثرات مزید واضح ہو گئے۔ یہاں دسویں جماعت کی طالبہ عائشہ سے گفتگو ہوئی۔ یہ وہ خاندان ہیں جنہیں ‘پنج رتنا’ کی بے دخلی کے بعد یہاں دربدر ہو کر پناہ لینی پڑی۔ کڑاکے کی سردی میں وہ پلاسٹک کی بوریوں اور بانس کی کھپچیوں سے بنی ایک عارضی جھونپڑی میں بیٹھی تھی۔ عائشہ نے روتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دنوں کی بارش میں چھت نہ ہونے کے باعث اس کی تمام درسی کتابیں بھیگ کر خراب ہو گئی ہیں۔ “میں کیسے پڑھوں گی؟ اور امتحان کیسے دوں گی؟” اس کے اس سوال میں وہ تمام ساختیاتی جبر پنہاں تھا جو آسام کا اقلیتی طبقہ آج محسوس کر رہا ہے۔
یہ تعلیمی بحران صرف کتابوں کے بھیگنے تک محدود نہیں ہے۔ جلیشور بیٹ باری کے علاقے میں بے دخلی کے بعد وہاں موجود سرکاری اسکول کی عمارت کو محکمہ جنگلات (فاریسٹ ڈپارٹمنٹ) کے دفتر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسکولوں کو انتظامی دفاتر میں تبدیل کرنا ‘رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ’ (آر ٹی ای ایکٹ) کے تحت ریاست کی آئینی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب متاثرہ علاقوں میں بچوں کے لیے تعلیم کے متبادل راستے مسدود کر دیے جائیں، تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ریاست ایک پوری نسل کو سماجی ترقی کے دھارے سے کاٹ رہی ہے۔
یہ رپورٹ انگریزی میں بیونڈ ہیڈ لائنس پر شائع ہوئی ہے۔
The reporting for the story was supported by a grant from the Human Rights and Religious Freedom Journalism Grant Program.
