آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے مدارس سے متعلق بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور تقسیم کارانہ قرار دیا ہے۔ ‘ڈیکن کرانیکل’ کی رپورٹ کے مطابق، حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے تحریک آزادی میں مدارس کے تاریخی کردار کا حوالہ دیا اور بی جے پی پر سیاسی مفادات کے لیے نفرت کو ہتھیار بنانے کا الزام لگایا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک بیان میں اویسی نے آئین کی دفعہ 30 کا ذکر کیا، جو تمام اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق دیتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مدارس نے آزادی کے لیے بے شمار مجاہدین پیدا کیے، جبکہ ساورکر انگریزوں کو رحم کی درخواستیں لکھ رہے تھے۔ اویسی نے واضح کیا کہ آزاد ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجیندر پرساد، منشی پریم چند اور راجہ رام موہن رائے جیسی شخصیات نے مدارس ہی سے تعلیم حاصل کی تھی، لیکن آزاد بھارت کا پہلا دہشت گرد گوڈسے کسی مدرسے کا طالب علم نہیں تھا۔
کیشو موریہ کی سیاسی حیثیت پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ یوپی حکومت میں ان کی کرسی دراصل محض ایک ‘اسٹول’ ہے۔ انہوں نے بیان دیا کہ جب کرسیوں کی کمی ہو تو ایسے افراد کے پاس اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے زہر اگلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ انہوں نے ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے اس طرح کی زبان کے استعمال کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔
