محمد روح الامین قاسمی
مصنف کا مختصر تعارف:
مولانا ثمیر الدین قاسمی عصرِ حاضر کے ممتاز عالمِ دین، فقیہ، محقق اور کثیر التصانیف مصنف ہیں۔ آپ کی ولادت 25 محرم 1370ھ مطابق 6 نومبر 1950ء کو گُھٹّی، ضلع گڈا، بہار (موجودہ جھارکھنڈ، ہندوستان) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد مدرسہ امداد العلوم اٹکی، مدرسہ اعزازیہ پتھنہ (بھاگلپور)، دار العلوم چھاپی (گجرات) اور دار العلوم دیوبند میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جہاں 1390ھ مطابق 1970ء میں دورۂ حدیث سے فراغت پائی، پھر 1971ء میں تکمیلِ ادب بھی دار العلوم دیوبند سے کی۔ بعد ازاں فلکیات، کتابت اور انگریزی کی بھی خصوصی تعلیم حاصل کی۔
فراغت کے بعد آپ نے ہندوستان اور برطانیہ کے مختلف دینی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں اور تقریباً تین دہائیوں تک درس و تدریس، امامت اور علمی خدمت سے وابستہ رہے۔ سنہ 2000ء سے آپ نے اپنی پوری توجہ تصنیف و تحقیق کی طرف مبذول کر دی، جس کے نتیجے میں فقہ، اصولِ فقہ، عقائد، حدیث، رؤیتِ ہلال، فلکیات، سیرت، علمِ فرائض، سائنس، بلاغت اور دیگر موضوعات پر متعدد علمی و تحقیقی کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ آپ کی کئی تصانیف کے عربی، انگریزی، ہندی، بنگلہ، پشتو اور فارسی تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں۔
آپ کی علمی شناخت خصوصاً فقہِ حنفی کے مسائل کو قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور اصولِ فقہ کی روشنی میں مرتب کرنے، رؤیتی ہجری کیلنڈر کی تدوین، علمِ فلکیات کے اطلاق اور درسی کتابوں کی آسان، تحقیقی اور استدلالی شروحات کی وجہ سے قائم ہوئی ہے۔ (تفصیلی تعارف کے لیے اردو انگریزی اور عربی ویکی مضامین دیکھے جا سکتے ہیں۔)
تصنیفی خدمات، منہجِ تحقیق اور امتیازات:
مولانا ثمیر الدین قاسمی کی تصنیفی خدمات فقہ، اصولِ فقہ، حدیث، عقائد، علمِ فرائض، فلکیات، رؤیتِ ہلال، سائنس، بلاغت، سیرت، عائلی قوانین، شرعی اوزان و پیمائش اور مقامی تاریخ سمیت متعدد علوم و فنون پر محیط ہیں۔ آپ نے درسی متون کی شروحات کے ساتھ مختلف مستقل موضوعات پر بھی تحقیقی تصانیف مرتب کیں، جن میں مدارسِ اسلامیہ، علماء، مفتیان، مدرسین، طلبہ، ائمہ اور عام مسلمانوں کی علمی و عملی ضروریات کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ آپ کی تصانیف کی نمایاں خصوصیات سہل و عام فہم اسلوب، منظم ترتیب، تدریسی افادیت، اصل مصادر سے براہِ راست استناد، احادیث کی تخریج، لغوی تحقیق، فقہی اصولوں کی توضیح، مشکل مباحث کی آسان تشریح اور ہر مسئلے کو اس کے شرعی دلائل کے ساتھ پیش کرنا ہیں۔ اسی وجہ سے آپ کی متعدد کتابوں کے عربی، انگریزی، ہندی، بنگلہ، پشتو اور فارسی تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں۔
آپ کی تصانیفات کا سب سے نمایاں وصف التزامِ مصادر ہے۔ قرآنِ کریم ہر موضوع میں بنیادی ماخذ ہے اور جہاں کسی آیت کے مفہوم میں اجمال ہو وہاں صرف تفسیرِ ابنِ عباسؓ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ عقائد سے متعلق تصانیف میں استدلال صرف سات بنیادی مصادر تک محدود رکھا گیا ہے: (1) قرآنِ کریم، (2) صحیح بخاری، (3) صحیح مسلم، (4) سنن ابی داؤد، (5) جامع ترمذی، (6) سنن نسائی، (7) سنن ابن ماجہ۔ ان کتابوں میں صرف مرفوع احادیثِ نبویہ سے استدلال کیا گیا ہے، حتیٰ کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور اقوالِ صحابہ و تابعین کو بھی بطورِ دلیل اختیار نہیں کیا گیا۔
فقہی تصانیف میں عمومی طور پر استدلال بارہ بنیادی مصادر سے کیا گیا ہے: (1) قرآنِ کریم، (2) صحیح بخاری، (3) صحیح مسلم، (4) سنن ابی داؤد، (5) جامع ترمذی، (6) سنن نسائی، (7) سنن ابن ماجہ، (8) مسند احمد، (9) معجم طبرانی، (10) سنن دارقطنی، (11) مصنف عبدالرزاق، (12) مصنف ابن ابی شیبہ۔ انہی مصادر سے احادیث، آثارِ صحابہ اور اقوالِ تابعین اخذ کیے گئے ہیں، جبکہ فقہی دلائل میں علماء کی آراء، شخصی اقوال اور فتاویٰ سے استدلال نہیں کیا گیا۔
فقہِ حنفی کے دلائل کو ان کے اصل مآخذ کے ساتھ یکجا کرنا آپ کی تصنیفی خدمات کا ایک نمایاں امتیاز ہے۔ اس مقصد کے تحت ہر فقہی مسئلے کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ، اقوالِ تابعین اور متعلقہ اصولِ فقہ کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہے، تاکہ مسئلے کی اصل دلیل اور اس کا ماخذ بیک وقت سامنے آ جائے۔ اثمار الہدایۃ علی الہدایۃ، القدوری مع أحادیثہ وأصولہ، الأصل مع احادیثہ و أصولہ اور نور الإیضاح مع أحادیثہ وأصولہ اسی منہج کی نمائندہ تصانیف ہیں۔
البتہ الہدایۃ مع أحادیثہا وأصولہا، القدوری مع أحادیثہ وأصولہ اور الأصل مع أحادیثہ وأصولہ میں، فقہی ضرورت کے پیشِ نظر، قرآنِ کریم، صحاحِ ستہ، مسند احمد، معجم طبرانی، سنن دارقطنی، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ کے علاوہ موطا امام مالک، مستدرک حاکم اور سننِ کبریٰ للبیہقی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے، جس سے ان تصانیف میں حدیثی مصادر کی مجموعی تعداد تیرہ ہو جاتی ہے۔
درسی شروحات اور دیگر تحقیقی تصانیف میں حسبِ ضرورت الہدایہ، مختصر القدوری، نور الإیضاح، مراقی الفلاح، الأصل (المبسوط)، الدر المختار، رد المحتار، الحیلۃ الناجزہ اور مجموعۂ قوانینِ اسلامی جیسی بنیادی فقہی کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح لغوی و ادبی مباحث میں معتبر عربی لغات اور کتبِ بلاغت، جبکہ فلکیات، رؤیتِ ہلال، سائنس اور تقاویم سے متعلق تصانیف میں مستند جدید فلکیاتی و سائنسی مراجع اور بین الاقوامی ذرائع، مثلاً HM Nautical Almanac Office Websurf اور Time and Date وغیرہ سے رجوع کیا گیا ہے۔ اس طرح آپ کی تصانیف میں روایتی اسلامی مصادر اور جدید تحقیقی مراجع کو موضوع کی مناسبت سے یکجا کیا گیا ہے۔
اہم تصانیف کا تعارف:
ذیل میں مولانا ثمیر الدین قاسمی کی 19 اہم تصانیف کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔
(1) نام کتاب: اثمار الہدایۃ علی الہدایۃ
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: دسمبر 2008ء
جلدیں: 15
مجموعی صفحات: 7526
ناشر: ثاقب بک ڈپو، دیوبند (ہندوستان)
پاکستانی ایڈیشن: زمزم پبلشرز، کراچی (پاکستان)، 2012ء
یہ کتاب فقہِ حنفی کی معروف کتاب الہدایۃ کی مفصل اردو شرح ہے، جسے مولانا ثمیر الدین قاسمی نے تدریسِ ہدایہ کے طویل تجربے کی روشنی میں مرتب کیا ہے۔ مصنف کے مطابق اس کی تالیف کا مقصد ہر فقہی مسئلے کی قرآنی و حدیثی دلیل، اصل ماخذ اور مکمل حوالہ ایک ہی جگہ فراہم کرنا تھا، تاکہ طلبہ و اہلِ علم کے لیے دلائل تک رجوع آسان ہو اور بین المسالک علمی مطالعہ مضبوط بنیادوں پر انجام پائے۔
شرح میں ہر مسئلے کے تحت قرآنِ کریم، صحاحِ ستہ کی احادیث، آثارِ صحابہ، اقوالِ تابعین اور متعلقہ اصولِ فقہ سے استدلال پیش کیا گیا ہے۔ احادیث کی تخریج، اصل مراجع، ابواب، حدیث نمبروں کی تعیین، امام شافعیؒ کے دلائل (بحوالۂ الأم)، مشکل الفاظ کی تحقیق، قدیم و جدید اوزان کا تقابل، سادہ اردو تشریح اور غیر ضروری مناظرانہ مباحث سے اجتناب اس شرح کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
کتاب کے آغاز میں مولانا نصیر احمد خان بلند شہری، مولانا عبد الحق اعظمی، مولانا محمد یونس جونپوری اور مفتی ظفیر الدین مفتاحی کی تقاریظ شامل ہیں، جبکہ مولانا منیر الدین عثمانی نقشبندی نے مصنف کا مختصر تعارف تحریر کیا ہے۔
(2) نام کتاب: الشرح الثمیری علی المختصر للقدوری
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
جلدیں: 4
مجموعی صفحات: 1861
ہندوستانی ناشر: ثاقب بک ڈپو، دیوبند
برطانوی ناشر: ختم نبوت اکیڈمی، لندن
یہ کتاب فقہِ حنفی کی بنیادی درسی کتاب مختصر القدوری کی مفصل اردو شرح ہے، جسے مولانا ثمیر الدین قاسمی نے تدریسی ضرورت کے پیشِ نظر آسان، تحقیقی اور استدلالی انداز میں مرتب کیا ہے۔ شرح میں ہر فقہی مسئلے کو الگ عنوان اور نمبر کے ساتھ سلیس اردو ترجمہ، عقلی و نقلی توجیہ، متعلقہ دلائل اور فقہی اصولوں کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے، تاکہ مطالعہ، تدریس اور مطلوبہ مسئلے تک رسائی آسان ہو۔
مصنف نے ہر مسئلے کے تحت قرآنِ کریم، صحاحِ ستہ کی احادیث، آثارِ صحابہ، اقوالِ تابعین اور فقہی اصولوں سے استدلال کیا ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبد الرزاق اور دیگر معتبر مصادر سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اصل مراجع، ابواب، مقامات اور احادیث کی تعیین، حدیث، اثرِ صحابی اور قولِ تابعی کے درمیان امتیاز، مشکل الفاظ کی لغوی تحقیق، فقہی اصولوں کی توضیح، ائمۂ فقہ کے اختلافات کا مختصر تذکرہ، وراثت کے مسائل کے جدید حسابی حل، سادہ اسلوب اور غیر ضروری طوالت سے اجتناب اس شرح کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
کتاب کے آغاز میں مولانا نصیر احمد خان بلند شہری اور مفتی ظفیر الدین مفتاحی کی تقاریظ شامل ہیں، جبکہ مصنف کے حالاتِ زندگی، علمِ نقد، نقلِ حدیث میں ترتیبِ رعایت اور دیگر تمہیدی مباحث بھی درج ہیں۔
(3) نام کتاب: ثمرۃ النجاح شرح اردو نور الایضاح
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: 2010ء
جلدیں: 2
مجموعی صفحات: 922
ناشر: جامعہ روضۃ العلوم، نیا نگر، جھارکھنڈ، ہندوستان
پاکستانی ایڈیشن: زمزم پبلشرز، کراچی
یہ کتاب نور الإیضاح کی اردو شرح ہے، جس میں متن کے ساتھ فقہی مسائل کو نہایت آسان، تدریسی اور استدلالی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے اسے طلبہ، مدرسین اور ائمۂ مساجد کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کیا ہے، تاکہ مبتدی طلبہ بھی فقہی مسائل کو بآسانی سمجھ سکیں۔ ہر مسئلے کے ساتھ قرآن و حدیث سے دلیل، فقہی اصول، لغوی تحقیق، سوال و جواب، اعتراضات کے جوابات اور ائمہ کے اختلافات کا مختصر تذکرہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
مصنف نے دلائل کے لیے بنیادی طور پر قرآنِ کریم، صحاحِ ستہ، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ سے استفادہ کیا گیا ہے، جبکہ شرح و توضیح میں نور الإیضاح، مراقی الفلاح، الہدایہ اور دیگر فقہی کتب سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔ احادیث کے مراجع، فقہی اصولوں کی وضاحت، مشکل الفاظ کی تحقیق، سادہ و محاوراتی اردو، غیر ضروری طوالت سے اجتناب، اور فرائض، واجبات، سنن و دیگر فقہی مسائل کی منظم ترتیب اس شرح کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
(4) نام کتاب: ثمرۃ العقائد
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: 2018ء
صفحات: 644
ناشر: ختم نبوت اکیڈمی، مانچسٹر، انگلینڈ
یہ کتاب اسلامی عقائد پر ایک مختصر، آسان فہم اور استدلالی تصنیف ہے، جسے مولانا ثمیر الدین قاسمی نے عوام، طلبہ اور ائمۂ مساجد کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کیا ہے۔ مصنف کے مطابق عصرِ حاضر میں عقائد سے متعلق شکوک و شبہات کے ازالے کے لیے بنیادی اسلامی عقائد کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرنا ضروری تھا، اسی مقصد سے تقریباً 350 بنیادی عقائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔
کتاب میں تقریباً 563 آیات، 373 مرفوع احادیث، 465 عناوین اور 44 بڑے عقائد شامل ہیں۔ مصنف نے ہر عقیدے کے اثبات میں صرف قرآنِ کریم کی صریح نصوص اور صحاحِ ستہ کی مرفوع احادیثِ نبویہ سے استدلال کیا ہے، جبکہ جن مسائل پر صریح نصوص دستیاب نہیں ہوئیں انھیں شامل نہیں کیا۔ مبہم آیات کی تفسیر میں صرف تفسیرِ ابنِ عباسؓ سے استفادہ کیا گیا ہے، اور صحیح بخاری و صحیح مسلم میں مذکور اقوالِ صحابہ و تابعین سے بھی استدلال نہیں کیا گیا۔ اسلوب نہایت سادہ، مختصر اور عام فہم رکھا گیا ہے، تاکہ عام مسلمان بھی اپنے عقائد کو بآسانی سمجھ اور محفوظ رکھ سکے۔
کتاب کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کے ہندی، انگریزی، عربی، فارسی، بنگلہ اور پشتو زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ ہندی ترجمہ مولانا محمد جہانگیر دمکاوی نے کیا، جبکہ انگریزی اور عربی ترجمے ڈاکٹر مفتی محمد اللہ خلیلی قاسمی نے کیے۔ 709 صفحات پر مشتمل فارسی ترجمہ محمد ابراہیم تیموری نے کیا، جو شوال 1447ھ (مطابق اپریل 2026ء) میں شائع ہوا۔ 552 صفحات پر مشتمل ہندی ترجمہ 2020ء میں مکتبہ ثمیر مانچسٹر سے شائع ہوا، 455 صفحات پر مشتمل عربی ترجمہ 2022ء میں مکتبہ ثمیر مانچسٹر کے علاوہ دار الکتاب العربیہ لاہور اور دار الکتب العلمیہ، بیروت سے بھی شائع ہوا، اور 250 صفحات پر مشتمل انگریزی ترجمہ 2024ء میں مکتبہ ثمیر مانچسٹر سے شائع ہوا۔ اس کتاب کے مختلف زبانوں میں تراجم اس کے وسیع اشاعتی دائرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
(5) نام کتاب: ثمرۃ الفلکیات
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: مئی 2020ء
صفحات: 325
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
یہ کتاب فلکیات کے موضوع پر اردو زبان میں لکھی گئی ایک معلوماتی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں کائنات، زمین، سورج، چاند، سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں، سمندروں، پہاڑوں، بادلوں اور دیگر فلکی و طبعی مظاہر سے متعلق جدید معلومات کو آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے جدید سائنسی تحقیقات کو قرآنِ کریم کی متعلقہ آیات کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے متعدد موضوعات پر انٹرنیٹ، سائنسی مراجع اور مستند تحقیقی ذرائع سے بھی استفادہ کیا ہے، تاکہ جدید فلکیاتی معلومات کو اسلامی نقطۂ نظر کے ساتھ سمجھنے میں سہولت ہو۔
کتاب میں 325 فلکی تحقیقات اور 57 قرآنی آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔ ہر موضوع کو الگ عنوان کے تحت منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے، مشکل سائنسی اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے، اور زبان نہایت سادہ، عام فہم اور تدریسی ضرورت کے مطابق رکھی گئی ہے، جس سے طلبہ، مدرسین اور عام قارئین کے لیے مطلوبہ معلومات تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ مصنف نے جدید فلکیاتی نظریات، اجرامِ فلکی کی ساخت، حرکت اور باہمی تعلقات کو مختصر مگر تحقیقی انداز میں بیان کیا ہے، جس سے یہ کتاب فلکیات کے ابتدائی مطالعے کے لیے ایک مفید رہنما بن گئی ہے۔
کتاب کے آغاز میں شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان بلند شہری (سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین، دار العلوم دیوبند) اور مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (سابق قاضی القضاۃ، امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ و بانی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا) کی تقاریظ شامل ہیں، جن میں کتاب کی افادیت، اس کے سادہ اسلوب اور دینی مدارس میں اس کی تدریسی اہمیت کو سراہا گیا ہے۔
(6) نام کتاب: ثمرۃ الاوزان
مؤلف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
تاریخِ اشاعت: پہلی اشاعت، اپریل 2018ء
صفحات: 58
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
ثمرۃ الاوزان اسلامی اوزان، پیمائشوں اور مساحت کے قدیم و جدید نظام پر ایک جامع اور تحقیقی تصنیف ہے، جس میں فقہی و شرعی اوزان کو انگریزی پیمانوں کے مطابق واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا مقصد یہ ہے کہ فقہ، حدیث، زکوٰۃ، صدقات، تجارت، اراضی اور دیگر شرعی مسائل میں مذکور قدیم اوزان و پیمائشوں کو موجودہ زمانے کے معروف پیمانوں سے مربوط کر کے ان کی صحیح مقدار کو سمجھنا آسان ہو جائے۔
اس کتاب میں مثقال، قیراط، دینار، درہم، رطل، صاع، وسق، شرعی میل اور انگریزی میل جیسے شرعی اوزان و پیمائشوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور انھیں جدید انگریزی اوزان و پیمانوں میں تبدیل کر کے واضح کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیکڑ، کڑی، جریب، کٹھہ، بیگھہ اور دھور جیسے برصغیر میں رائج زمینی پیمانوں کی تشریح بھی شامل ہے۔ مؤلف نے گول اشیاء کی پیمائش کا طریقہ، برطانیہ میں رائج اوزان اور قدیم و جدید پیمائشوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا ہے۔
کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مندرجات الدر المختار اور معتبر انگریزی مراجع و ویب سائٹس سے مرتب کیے گئے ہیں، جبکہ تمام معلومات کو نہایت سادہ، منظم اور عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب فقہ و حدیث کے طلبہ، مفتیانِ کرام، محققین، اساتذہ اور شرعی اوزان و پیمائشوں کے موضوع پر تحقیق کرنے والے اہلِ علم کے لیے ایک مفید اور قابلِ اعتماد علمی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
(7) نام کتاب: ثمرۃ المیراث
مؤلف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: مئی 2011ء
صفحات: 104
ناشر: مدرسہ ثمرۃ العلوم، گھٹی، ضلع گڈا، جھارکھنڈ، بھارت
ثمرۃ المیراث علمِ فرائض (وراثت) پر ایک عملی اور آسان فہم کتاب ہے، جسے حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی نے وراثت کی تقسیم کو عام مسلمانوں، طلبہ اور اہلِ افتاء کے لیے سہل بنانے کے مقصد سے مرتب کیا ہے۔ مصنف نے اس میں وراثت کے پیچیدہ حسابات کو ایک نئے اور سادہ انداز میں پیش کیا ہے، تاکہ عام آدمی بھی کیلکولیٹر کی مدد سے اپنے خاندان کی وراثت تقسیم کر سکے۔ کتاب کے مطابق اس طریقۂ کار سے عام وراثت کی تقسیم تقریباً دو منٹ میں، جبکہ مناسخہ جیسے پیچیدہ مسائل تقریباً دس منٹ میں حل کیے جا سکتے ہیں۔
کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وراثت کی تقسیم کے لیے 24 عملی سوالات مرتب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے قاری اپنے مسئلے سے مشابہ صورت منتخب کر کے آسانی سے تقسیمِ میراث کر سکتا ہے۔ اسی طرح رد کے مسائل کے لیے 7، عول کے لیے 4 اور مناسخہ کے لیے 1 عملی مثال شامل کی گئی ہے، تاکہ طلبہ ان مسائل کی باقاعدہ مشق کر سکیں۔ مصنف نے 14 بنیادی ورثاء کے احکام و مسائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور ان وارثوں کو پہلے ذکر کیا ہے جن کی ضرورت زیادہ پیش آتی ہے، جبکہ نادر الوقوع مسائل، جیسے خنثیٰ مشکل، سے اختصاراً صرفِ نظر کیا گیا ہے۔
اس کتاب میں تمام حسابات کو کیلکولیٹر کے مطابق مرتب کیا گیا ہے، جس سے تصحیح، تداخل، تباین اور دیگر پیچیدہ حسابی مراحل کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور تقسیمِ میراث نہایت آسان ہو جاتی ہے۔ اپنے سادہ اسلوب، عملی ترتیب اور تطبیقی مثالوں کی وجہ سے یہ کتاب طلبۂ مدارس، مفتیانِ کرام، ائمہ اور علمِ فرائض سے دلچسپی رکھنے والے عام مسلمانوں کے لیے یکساں مفید اور قابلِ استفادہ علمی سرمایہ ہے۔
(8) نام کتاب: ثمرۃ الفقہ
مؤلف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: اکتوبر 2010ء
جلدیں: 2
مجموعی صفحات: 358
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
ثمرۃ الفقہ فقہِ حنفی کے بنیادی اور عملی مسائل پر مشتمل ایک مختصر مگر جامع درسی کتاب ہے، جسے مولانا ثمیر الدین قاسمی نے خصوصاً طلبہ، ائمہ، مبلغین اور عام مسلمانوں کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کیا ہے۔ کتاب میں مختصر القدوری اور الہدایہ کے اہم فقہی مسائل کو نہایت آسان اور منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے، تاکہ ابتدائی درجے کے طلبہ ان بنیادی مسائل سے واقف ہو جائیں اور بعد میں مختصر القدوری اور الہدایہ کا مطالعہ ان کے لیے سہل ہو جائے۔ مؤلف کے مطابق کتاب کے اکثر مسائل نور الإیضاح سے ماخوذ ہیں۔
اس کتاب میں کتاب الطہارت سے کتاب الحج تک کے اہم مسائل جمع کیے گئے ہیں۔ ہر باب کو چھ مستقل عنوانات، یعنی فرائض، واجبات، سنن، مستحبات، نواقض اور مکروہات کے تحت مرتب کیا گیا ہے، اور ہر عنوان کے مسائل کو گن کر بیان کیا گیا ہے، جس سے ان کا حفظ، تدریس اور مراجعت نہایت آسان ہو جاتی ہے۔ مصنف نے غیر ضروری اور نادر الوقوع مسائل سے اجتناب کرتے ہوئے صرف عصرِ حاضر میں پیش آنے والے عملی مسائل کو شامل کیا ہے۔
اپنی سادہ زبان، منظم ترتیب اور تدریسی اسلوب کی وجہ سے یہ کتاب مدارس کے طلبہ، ائمۂ مساجد، دعوت و تبلیغ سے وابستہ افراد اور حجاجِ کرام کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ فقہی مسائل کو آسانی سے یاد کر سکتے ہیں، ائمہ نماز، طہارت اور دیگر ابواب کے ضروری مسائل عوام کو سہولت سے سمجھا سکتے ہیں، جبکہ دعوتی جماعتوں اور حجاج کے لیے بھی یہ ایک مفید رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔
(9) نام کتاب: تحفۃ الطلباء شرح اردو سفینۃ البلغاء
حصے: 2
شارح (حصہ اول): مولانا مرغوب احمد لاجپوری
شارح (حصہ ثانی): مولانا ثمیر الدین قاسمی
تصحیح و مقدمہ: مولانا فضل الرحمن اعظمی
مجموعی صفحات: 378
ناشر: جامعۃ القراءت، کفلیتہ
سنہ اشاعت: 1994ء
تحفۃ الطلباء شرح اردو سفینۃ البلغاء علمِ بلاغت کی معروف درسی کتاب سفینۃ البلغاء کی ایک جامع، آسان اور تدریسی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر لکھی گئی اردو شرح ہے، جو دو ممتاز اہلِ علم کی مشترکہ علمی کاوش کا نتیجہ ہے۔ اس شرح میں علمِ معانی کا حصہ مولانا مرغوب احمد لاجپوری نے تحریر کیا ہے، جبکہ علمِ بیان اور علمِ بدیع کے مباحث حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی دامت برکاتہم نے قلم بند کیے ہیں۔ کتاب کی تصحیح، مقدمہ اور علمی نگرانی شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل الرحمن اعظمی نے انجام دی، جنھوں نے اس شرح کو اصل کتاب کی طرح متعدد اساتذہ کی مشترکہ علمی خدمت قرار دیا ہے۔
اس شرح میں اصل متن کے مشکل مقامات کو نہایت سادہ، واضح اور عام فہم اردو میں حل کیا گیا ہے، تاکہ طلبہ علومِ بلاغت کے دقیق مباحث کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ شارحین نے ہر عبارت کی تشریح، اصطلاحات کی وضاحت اور مثالوں کے ذریعے مفاہیم کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے یہ شرح تدریس اور مطالعہ دونوں کے لیے مفید بن گئی ہے۔
کتاب پر مولانا عبد اللہ کاپودرَوی اور مولانا ایوب بند الٰہی کی تقاریظ بھی شامل ہیں، جبکہ مولانا یوسف ماما کفلیتوی نے اپنے تاثرات و تشکر قلم بند کیے ہیں۔ مقدمۂ کتاب میں شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن اعظمی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اگرچہ کسی علمی کاوش کو کامل قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ شرح طلبہ اور اساتذۂ مدارس کے لیے بڑی سہولت کا ذریعہ ثابت ہوگی اور علومِ بلاغت کے ذریعے قرآن و حدیث کے فہم میں معاون بنے گی۔
اپنے سادہ اسلوب، تدریسی افادیت اور علمی ترتیب کے باعث یہ شرح مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ، اساتذۂ بلاغت اور عربی ادب کے شائقین کے لیے ایک اہم اور مفید درسی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
(10) نام کتاب: ثمیری کیلنڈر (2019-2030ء / 1440-1452ھ)
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: جنوری 2021ء
صفحات: 32
ناشر: مدرسہ ثمرۃ العلوم، گڈا، جھارکھنڈ، ہندوستان
یہ کتاب برِّصغیر، خصوصاً ہندوستان کے لیے مرتب کردہ ایک رؤیتی ہجری کیلنڈر ہے، جس میں 2019ء سے 2030ء (مطابق 1440ھ تا 1452ھ) کی تاریخیں درج کی گئی ہیں۔ مصنف نے اسے جدید فلکیاتی حسابات اور شرعی اصولِ رؤیت کی روشنی میں اس انداز سے مرتب کیا ہے کہ ہجری مہینوں، بالخصوص رمضان المبارک، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی تاریخوں کے تعین میں اتحاد و اتفاق پیدا ہو اور غیر ضروری اختلافات سے بچا جا سکے۔
مصنف کے مطابق اس کیلنڈر کی بنیاد صرف فلکی حساب پر نہیں، بلکہ ایسی رؤیت پر رکھی گئی ہے جو انسانی آنکھ سے قابلِ مشاہدہ ہو۔ اس مقصد کے لیے HM Nautical Almanac Office Websurf اور Time and Date جیسے معتبر فلکیاتی ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے عام رؤیتی کیلنڈر مرتب کیا گیا ہے۔ کتاب میں رؤیتِ ہلال کے شرعی و فلکیاتی مباحث، حساب اور رؤیت میں تطبیق، عام رؤیتی کیلنڈر کی افادیت اور اس کے عملی استعمال کو سادہ و استدلالی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ہر تاریخ کو حقیقی رؤیت کے امکان کے مطابق مرتب کیا گیا ہے، نہ کہ صرف حسابی امکان کی بنیاد پر۔
کتاب میں قمری مہینوں کی درست تاریخوں کے ساتھ چاند کی پیدائش، غروبِ آفتاب، غروبِ قمر، رؤیت کے امکان اور دیگر فلکیاتی حسابات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح نکاح، ازدواجی تقریبات اور دیگر اہم مواقع کے لیے قمری تاریخ معلوم کرنے میں بھی یہ معاون ہے۔ اس کی سادہ ترتیب، مختصر توضیحات اور عام فہم اسلوب اسے علماء، ائمہ، طلبہ اور عام مسلمانوں سب کے لیے مفید بناتے ہیں۔
مصنف نے اسی سلسلے کی ایک منفرد کاوش کے طور پر “ثمیری کیلنڈر” کے عنوان سے مارچ 2023ء میں 359 صفحات پر مشتمل حضور اکرم ﷺ کی 63 سالہ حیاتِ طیبہ پر مشتمل ایک الگ کیلنڈر بھی مرتب کیا ہے، جس میں ولادتِ نبوی سے وصالِ مبارک تک پیش آنے والے اہم واقعات کو قمری تاریخوں کی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، تاکہ سیرتِ نبوی کے زمانی تسلسل کو بآسانی سمجھا جا سکے۔
بعد ازاں جنوری 2026ء میں مصنف نے اس کا توسیعی ایڈیشن پندرہ سالہ ثمیری کیلنڈر کے عنوان سے ہندوستان، پاکستان اور انگلینڈ کے لیے الگ الگ (236 صفحات کرکے) شائع کیا، جس میں 2026ء سے 2040ء (مطابق 1447ھ تا 1462ھ) کی رؤیتی ہجری تاریخیں شامل کی گئی ہیں، تاکہ طویل مدت کے لیے ایک مستند رؤیتی کیلنڈر دستیاب ہو۔
(11) نام کتاب: الہدایۃ مع احادیثہا و أصولہا
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
استخراجِ احادیث و ترتیب: مولانا محمد تبارک قاسمی گڈاوی
تاریخ اشاعت: مارچ 2024ء
جلدیں:7
صفحات: 2971
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ؛ مکتبہ فاروق، شاملی، ہندوستان۔
فقہِ حنفی کی عظیم اور معتبر کتاب الہدایہ کو علمی، تحقیقی اور محدثانہ انداز میں پیش کرنا عصرِ حاضر کی ایک اہم ضرورت تھی۔ مولانا ثمیر الدین قاسمی نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے الہدایۃ مع احادیثہا و أصولہا کے عنوان سے سات جلدوں پر مشتمل یہ گراں قدر علمی خدمت انجام دی۔ اس کتاب میں الہدایہ کے ہر فقہی و اصولی مسئلے کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ، اقوالِ تابعین اور فقہی اصول جمع کیے گئے ہیں، تاکہ طالبِ علم ہر مسئلے کی اصل دلیل اور اس کا شرعی ماخذ ایک ہی جگہ ملاحظہ کر سکے۔
اس تصنیف کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ الہدایہ کے متن کو اعراب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، ہر مسئلے کے تحت متعدد احادیث و آثار کا اہتمام کیا گیا ہے، مشکل الفاظ کی لغوی وضاحت بھی شامل ہے، اور طویل فقہی عبارات کے بجائے براہِ راست نصوصِ شرعیہ سے استدلال کیا گیا ہے۔ مقدمے کے مطابق کتاب کی تیاری میں بنیادی طور پر تیرہ حدیثی مصادر، جن میں صحیح بخاری، صحیح مسلم، سننِ ترمذی، سننِ ابوداؤد، سننِ ابنِ ماجہ، سننِ نسائی، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق، مسند احمد، مؤطا امام مالک، مستدرک حاکم، سنن دارقطنی اور سننِ بیہقی شامل ہیں، سے استفادہ کیا گیا ہے۔
یہ کتاب فقہِ حنفی پر کیے جانے والے ان اعتراضات کا مدلل اور علمی جواب بھی پیش کرتی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ احناف کے مسائل احادیث سے ثابت نہیں۔ مصنف نے ہر فقہی مسئلے کو متعلقہ احادیث و آثار کی روشنی میں واضح کیا ہے، جس سے فقہِ حنفی کی حدیثی بنیاد نمایاں ہوتی ہے اور اس کے دلائل منظم انداز میں سامنے آتے ہیں۔
اس کتاب پر دار العلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی اور مولانا مفتی منیر احمد عثمانی نقشبندی کی تقاریظ بھی شامل ہیں، جن میں اس علمی کاوش کو فقہ و حدیث کے طلبہ، علماء اور محققین کے لیے نہایت مفید اور قابلِ قدر قرار دیا گیا ہے۔
(12) نام کتاب: القدوری مع أحادیثہ وأصولہ
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
استخراجِ احادیث و ترتیب: مولانا محمد تبارک قاسمی گڈاوی
تاریخِ اشاعت: جون 2025ء
جلدیں: 2
مجموعی صفحات: 933
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
القدوری مع أحادیثہ وأصولہ فقہِ حنفی کی مشہور درسی کتاب مختصر القدوری کی ایک منفرد علمی و تحقیقی ترتیب ہے، جس میں ہر فقہی مسئلے کو اس کی قرآنی و حدیثی بنیادوں اور فقہی اصولوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ طالبِ علم ہر مسئلے کے متن، اس کی دلیل اور متعلقہ اصول کو ایک ہی جگہ بآسانی سمجھ سکے، اس لیے بیشتر مسائل کے تحت متعدد (عموماً تین) احادیث و آثار اور مناسب فقہی اصول ذکر کیے گئے ہیں۔
اس کتاب میں مختصر القدوری کے متن کو اعراب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اور ہر مسئلے کے لیے آیتِ قرآنی، حدیثِ نبوی، قولِ صحابی یا قولِ تابعی کو واضح طور پر الگ الگ ذکر کیا گیا ہے، تاکہ دلیل کی نوعیت اور اس کی استدلالی حیثیت معلوم ہو سکے۔ احادیث کا انتخاب بنیادی طور پر تیرہ اولین حدیثی مصادر سے کیا گیا ہے، جبکہ فقہاء کی عبارات کے بجائے براہِ راست نصوصِ شرعیہ سے استدلال کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر مسائل کے تحت متعلقہ فقہی اصول اور مشکل الفاظ کی لغوی تشریح بھی شامل کی گئی ہے، جس سے کتاب کا فہم مزید آسان ہو جاتا ہے۔ سادہ، رواں اور تدریسی اسلوب اس کتاب کا قابلِ ذکر پہلو ہے۔
کتاب کے آغاز میں مصنف نے مرتب مولانا محمد تبارک قاسمی گڈاوی کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی علمی خدمات کو سراہا ہے۔ مصنف کے مطابق الہدایۃ مع أحادیثہا وأصولہا کے بعد القدوری مع أحادیثہ وأصولہ میں بھی احادیث کی تخریج، ترتیب، متن کی سیٹنگ اور فقہی اصولوں کی تدوین کا بیشتر کام مولانا محمد تبارک قاسمی نے انجام دیا اور مختصر مدت میں اس علمی منصوبے کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مصنف نے اس خدمت کو اپنے دیرینہ علمی خواب کی تعبیر قرار دیتے ہوئے مرتب کی علمی صلاحیتوں اور محنت کی تحسین کی ہے۔
(13) نام کتاب: نور الایضاح مع أحادیثہ وأصولہ
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
استخراجِ احادیث و ترتیب: مولانا محمد تبارک قاسمی گڈاوی
اشاعت اول: جنوری 2026ء
صفحات: 589
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
نور الایضاح مع أحادیثہ وأصولہ فقہِ حنفی کی معروف درسی کتاب نور الإیضاح کی ایک استدلالی ترتیب ہے، جس میں متن کو اعراب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ اس کی قراءت اور تدریس میں سہولت ہو۔ کتاب میں ہر فقہی مسئلے کے تحت آیتِ قرآنی، حدیثِ نبوی، قولِ صحابی یا قولِ تابعی ذکر کیا گیا ہے، اور ہر دلیل کی نوعیت کو الگ الگ واضح کیا گیا ہے، تاکہ قاری کو معلوم ہو سکے کہ استدلال کس درجے کی دلیل سے کیا گیا ہے۔
کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ہر مسئلے کے لیے عموماً تین احادیث ذکر کی گئی ہیں، جبکہ اکثر مسائل کے ساتھ متعلقہ فقہی اصول بھی درج کیے گئے ہیں، تاکہ مسئلے کا فہم آسان ہو۔ احادیث کا انتخاب بنیادی طور پر بارہ اولین حدیثی مصادر سے کیا گیا ہے، جبکہ موضوع کی مناسبت سے علماء کی عبارات سے استدلال نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ مشکل الفاظ کی لغوی وضاحت بھی شامل کی گئی ہے، اور کتاب کا اسلوب نہایت آسان رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ تدریس اور مطالعے دونوں کے لیے موزوں ہے۔
(14) نام کتاب: الاصل مع أحادیثہ وأصولہ
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
مؤلفین: مولانا سید عبد الستار اطہر بھاولپوری، مولانا محمد تبارک قاسمی گڈاوی
سنہ اشاعت: 2026ء
موجودہ جلدیں: 2
مجموعی صفحات: 975
متوقع جلدیں: 36
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
الاصل مع أحادیثہ وأصولہ فقہِ حنفی کی اولین اور بنیادی کتاب الأصل (المبسوط) از امام محمد بن حسن الشیبانیؒ کی ایک منفرد علمی و تحقیقی ترتیب ہے، جس کا مقصد فقہِ حنفی کے ہر مسئلے کو اس کے اصل شرعی دلائل کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ اس منصوبے کی نگرانی مولانا ثمیر الدین قاسمی نے فرمائی، جبکہ احادیث کی تخریج، ترتیب اور علمی تدوین حضرت مولانا سید عبد الستار اطہر بھاولپوری اور مولانا محمد تبارک قاسمی گڈاوی نے انجام دی ہے۔
اس کتاب میں الأصل کے متن کو اعراب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اور ہر فقہی مسئلے کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنیہ، متعدد احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ، اقوالِ تابعین اور فقہی اصول یکجا کر دیے گئے ہیں، تاکہ طالبِ علم کو ہر مسئلے کی اصل دلیل، اس کی حیثیت اور اس کے استدلال کی بنیاد ایک ہی مقام پر آسانی سے دستیاب ہو جائے۔ ہر حدیث کی نوعیت بھی واضح کی گئی ہے کہ وہ حدیثِ نبوی ہے، قولِ صحابی ہے یا قولِ تابعی، نیز جہاں ضرورت ہو وہاں مشکل الفاظ کی لغوی وضاحت بھی شامل کی گئی ہے۔ فقہاء کی طویل عبارتوں کے بجائے براہِ راست نصوصِ شرعیہ سے استدلال پر زور دیا گیا ہے، جس سے کتاب نہایت سہل، مدلل اور تدریسی لحاظ سے مفید بن گئی ہے۔
مقدمۂ کتاب میں مؤلفین نے واضح کیا ہے کہ فقہِ حنفی پر یہ اعتراض کہ احناف کے مسائل احادیث سے خالی ہیں، درست نہیں؛ بلکہ ہر مسئلے کے لیے متعدد صحیح اور معتبر احادیث موجود ہیں۔ اسی مقصد کے تحت ہر مسئلے کے لیے کئی کئی احادیث ذکر کی گئی ہیں، تاکہ مسئلہ پوری طرح واضح ہو جائے اور استدلال مزید مضبوط ہو۔ اس کے ساتھ ہر مسئلے کے متعلقہ اصول بھی آسان زبان میں بیان کیے گئے ہیں، تاکہ فقہی استنباط اور اصولی بنیادیں بھی قاری کے سامنے رہیں۔
کتاب کی تیاری میں بنیادی طور پر تیرہ حدیثی مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے، جن میں صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبد الرزاق، موطأ امام مالک، مستدرک حاکم، سنن دارقطنی اور سننِ کبریٰ للبیہقی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قرآنی آیات، آثارِ صحابہ اور اقوالِ تابعین سے بھی بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔
کتاب پر دار العلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی کی تقریظ شامل ہے، جس میں اس کاوش کو فقہِ حنفی کے مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں مرتب کرنے کی ایک اہم علمی خدمت قرار دیا گیا ہے۔
یہ کتاب مدارس کے طلبہ، اساتذۂ حدیث و فقہ، مفتیانِ کرام، محققین اور فقہِ حنفی کے دلائل کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے نہایت مفید علمی سرمایہ ہے۔ اس کی 36 جلدوں میں تکمیل کی توقع ہے، ابھی صرف دو جلدیں منظر عام پر آئی ہیں۔
(15) نام کتاب: سائنس اور قرآن
مؤلف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
تاریخِ اشاعت: پہلی اشاعت، جون 2019ء
صفحات: 298
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
سائنس اور قرآن مولانا ثمیر الدین قاسمی کی ایک منفرد تحقیقی تصنیف ہے، جس میں قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں جدید سائنسی حقائق کو نہایت سادہ اور مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ قرآنِ کریم میں بیان کردہ حقائق جدید سائنسی تحقیقات سے ہم آہنگ ہیں اور وحیِ الٰہی کی صداقت پر مضبوط دلیل فراہم کرتے ہیں۔
اس کتاب میں 95 اہم سائنسی تحقیقات کو 124 قرآنی آیات اور 14 احادیثِ نبویہ کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ مؤلف نے ہر تحقیق کو قرآن و حدیث ہی سے مدلل کیا ہے اور جہاں ممکن ہوا وہاں سائنسی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے میں آسانی ہو۔
کتاب کی خوبیوں میں یہ شامل ہے کہ اس میں استدلال صرف قرآن و حدیث سے کیا گیا ہے، آیاتِ قرآنیہ کی تفسیر کو آسان اور عام فہم انداز میں واضح کیا گیا ہے، اور جدید سائنسی تحقیقات کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ انھیں غیر مسلموں کے سامنے قرآنِ کریم کے اعجاز اور اس کی حقانیت کی دلیل کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ سائنسی معلومات کو اختصار، ترتیب اور سہل اسلوب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
(16) نام کتاب: اسبابِ فسخِ نکاح
مؤلف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
تاریخِ اشاعت: پہلی اشاعت، مارچ 2012ء
صفحات: 76
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
اسبابِ فسخِ نکاح اسلامی عائلی قانون کے ایک نہایت اہم موضوع پر لکھی گئی تحقیقی تصنیف ہے، جس میں ان اٹھارہ شرعی اسباب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جن کی بنیاد پر قاضی یا مجاز شرعی عدالت نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔ کتاب کا مقصد فسخِ نکاح کے مسائل کو قرآن و سنت، آثارِ سلف اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں مدلل انداز سے پیش کرنا اور اس موضوع میں پائے جانے والے ابہامات کو دور کرنا ہے۔
اس کتاب میں فسخِ نکاح کے تمام اسباب بنیادی طور پر الحیلۃ الناجزہ اور مجموعۂ قوانینِ اسلامی سے اخذ کیے گئے ہیں، اور ہر سبب کی جامع تشریح کی گئی ہے۔ مؤلف نے ہر مسئلے کے ثبوت میں آیتِ قرآنی، حدیثِ نبوی، قولِ صحابی یا قولِ تابعی پیش کیا ہے، جبکہ ہر حدیث اور اثر کا اصل ماخذ بھی مکمل حوالہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، تاکہ ہر مسئلہ تحقیقی بنیادوں پر ثابت ہو سکے اور قاری اصل مراجع تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکے۔
کتاب نہایت سادہ، عام فہم اور منظم اسلوب میں لکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ صرف اہلِ علم ہی نہیں بلکہ عام قارئین کے لیے بھی قابلِ استفادہ ہے۔ مؤلف نے خصوصاً عصرِ حاضر میں پیش آنے والے عائلی مسائل اور مجبور خواتین کو درپیش مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے شرعی اصولوں کے مطابق ان کے حل کی وضاحت کی ہے۔
(17) نام کتاب: حنفیہ کا مسلک احتیاط پر ہے
مؤلف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
تاریخِ اشاعت: 2024ء
صفحات: 254
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
حنفیہ کا مسلک احتیاط پر ہے؛فقہِ حنفی کے اہم عملی مسائل کے حدیثی دلائل پر مشتمل ایک استدلالی تصنیف ہے، جس میں روزمرہ پیش آنے والے 28 فقہی مسائل کو قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور اقوالِ تابعین کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ فقہِ حنفی کے مسائل محض رائے یا قیاس پر مبنی نہیں، بلکہ ان کی بنیاد قرآن و سنت اور آثارِ سلف پر قائم ہے، نیز ان مسائل میں احتیاط کا پہلو نمایاں ہے۔
کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ہر مسئلے کے تحت صرف آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ، اقوالِ صحابہ اور اقوالِ تابعین سے استدلال کیا گیا ہے اور علماء کی عبارات سے استدلال سے اجتناب کیا گیا ہے، تاکہ کتاب مختصر اور عام فہم رہے۔ ہر دلیل کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ آیت، حدیث، قولِ صحابی یا قولِ تابعی ہے، جس سے دلیل کی نوعیت اور استدلالی حیثیت واضح ہو جاتی ہے۔ احادیث و آثار بنیادی طور پر بارہ بنیادی حدیثی مصادر سے اخذ کیے گئے ہیں۔ مصنف نے حنفی اور دیگر فقہی مسالک کے دلائل کو بھی یکجا کیا ہے، چنانچہ ہر مسئلے میں حنفیہ کے دلائل کے ساتھ دوسرے مسالک کی احادیث بھی ذکر کی گئی ہیں، تاکہ دونوں نقطۂ نظر کا تقابلی مطالعہ ممکن ہو اور اختلافات میں کمی آئے۔
مقدمۂ کتاب میں مصنف نے رفع الیدین، قراءتِ فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر اور دیگر معروف اختلافی مسائل کی مثالوں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ فقہِ حنفی کا منہج احتیاط پر مبنی ہے، جس میں قرآن، حدیث اور آثارِ صحابہ کے مجموعے پر عمل کی سعی کی جاتی ہے۔ اسی طرح انھوں نے تقلید کے شرعی پس منظر، فقہِ حنفی کے حدیثی استناد اور اقوالِ صحابہ کی حجیت پر بھی گفتگو کی ہے، اور یہ واضح کیا ہے کہ ائمۂ مجتہدین کے فقہی مسائل دراصل نصوصِ شرعیہ ہی کی تشریح اور تطبیق ہیں۔ اپنے سادہ اسلوب، کثرتِ دلائل اور تقابلی اندازِ استدلال کی وجہ سے یہ کتاب طلبہ، ائمہ، خطباء اور فقہی اختلافات کا مطالعہ کرنے والے اہلِ علم کے لیے ایک مفید علمی سرمایہ ہے۔
اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ”Hanafi Fiqh is Closer to the Quran and Hadith“ کے عنوان سے 249 صفحات پر مشتمل ڈاکٹر مفتی محمد اللہ خلیلی قاسمی نے کیا، جو 2024ء میں مکتبہ ثمیر مانچسٹر سے شائع ہوا۔ اسی طرح اس کا عربی ترجمہ ”المذهب الحنفي أجمع وأقرب إلى القرآن والحديث“ کے عنوان سے ڈاکٹر مفتی محمد اللہ خلیلی قاسمی اور مفتی ابو الفرح قاسمی نے کیا، جو 2024ء میں مکتبہ ثمیر مانچسٹر سے شائع ہوا۔
(18) نام کتاب: یادِ وطن
مؤلف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: 2020ء
صفحات: 106
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
یادِ وطن ایک تاریخی و سوانحی تصنیف ہے، جس میں مصنف نے اپنے آبائی علاقے کی دینی، علمی اور سماجی تاریخ کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کے آغاز میں علاقے کا مختصر تعارف اور سببِ تالیف بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد علاقے کی ممتاز علمی و دینی شخصیات کے مختصر حالاتِ زندگی اور خدمات پیش کی گئی ہیں۔
کتاب میں چالیس شخصیات کے تذکرے شامل ہیں، جن میں علماء، مشائخ، صوفیہ، مفتیان، اساتذۂ مدارس، خطباء، شعراء، ائمہ، ماہرینِ تعلیم، انجینئرز اور دیگر سماجی و ملی شخصیات شامل ہیں۔ مصنف نے ہر شخصیت کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی علمی، دینی، اصلاحی اور سماجی خدمات کو سادہ، رواں اور مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔
یہ کتاب اپنے علاقے کے علمی و دینی ورثے، اکابر کی خدمات اور مقامی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جو مقامی تاریخ، تذکرۂ رجال اور علاقائی علمی روایت سے دلچسپی رکھنے والے قارئین اور محققین کے لیے ایک مفید ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
(19) نام کتاب: حضرت عائشہؓ کا نکاح چھ سال ہی میں ہوا ہے
مصنف: مولانا ثمیر الدین قاسمی
اشاعت اول: اگست 2025ء
صفحات: 64
ناشر: مکتبہ ثمیر، مانچسٹر، انگلینڈ
حضرت عائشہؓ کا نکاح چھ سال ہی میں ہوا ہے؛ حضرت عائشہؓ کی عمرِ نکاح سے متعلق ایک استدلالی تصنیف ہے، جس میں اس موضوع پر حدیثی، عقلی اور تاریخی دلائل یکجا کیے گئے ہیں۔ مصنف نے اس مسئلے کے اثبات کے لیے تیس احادیث، متعدد عقلی دلائل اور مختلف شواہد پیش کیے ہیں۔
کتاب کا ایک خاصہ ہے کہ اس میں حضرت عائشہؓ کے چھ سال کی عمر میں نکاح کے ثبوت میں تیس احادیث ذکر کی گئی ہیں، گیارہ مصلحتیں بیان کی گئی ہیں، چار عالمی ریکارڈ اور NHS کے ایک کارڈ کی روشنی میں کم عمری میں بلوغ سے متعلق معلومات پیش کی گئی ہیں اور نقلی و عقلی دلائل سے استدلال کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق کتاب میں حوالہ جات صرف قرونِ اولیٰ اور قرونِ ثانیہ کی کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ سادہ اور آسان اسلوب میں لکھی گئی یہ مختصر کتاب اس موضوع کے مطالعہ کے لیے مرتب کی گئی ہے۔
دیگر تصانیف:
مندرجۂ بالا تصانیف کے علاوہ مولانا ثمیر الدین قاسمی نے فقہ، اصولِ فقہ، بلاغت، عائلی قوانین، رؤیتِ ہلال، تقاویم، سیرت، ادیان، فارسی اور دیگر موضوعات پر بھی متعدد علمی و تحقیقی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان میں حاشیہ سفینۃ البلغاء (عربی)، ثمرۃ التعلیل، انوارِ فارسی، تفریق و طلاق، عیسائیت کیا ہے؟ اور پوری دنیا کا ایک مطلع ہونا ناممکن ہے قابلِ ذکر ہیں۔
چونکہ ان کتابوں کے مکمل متون یا معتبر آن لائن نسخے دستیاب نہ ہو سکے، اس لیے ان کا تفصیلی تعارف اس مجموعے میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ البتہ ان کی دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصانیف بھی اپنے اپنے موضوعات میں مصنف کی علمی، تحقیقی اور استدلالی خدمات کا اہم حصہ ہیں۔
حاصلِ کلام:
مولانا ثمیر الدین قاسمی کی تصنیفی خدمات عصرِ حاضر میں دینی علوم کی تدریس، تحقیق اور دعوتی ضرورتوں کا ایک نمایاں نمونہ ہیں۔ آپ نے فقہ، اصولِ فقہ، حدیث، عقائد، علمِ فرائض، فلکیات، رؤیتِ ہلال، سائنس، سیرت، بلاغت اور دیگر علوم میں متعدد علمی و تحقیقی تصانیف پیش کیں، جن کی نمایاں خصوصیات تحقیق، استدلال، تدریسی افادیت، سہل اسلوب، منظم ترتیب اور اصل مصادر سے استناد ہیں۔ فقہِ حنفی کے دلائل کو ان کے بنیادی مآخذ کے ساتھ یکجا کرنا، نصوصِ شرعیہ کو براہِ راست بنیادِ استدلال بنانا، اور متنوع علمی موضوعات کو تحقیقی و عام فہم انداز میں پیش کرنا آپ کی تصنیفی خدمات کے نمایاں امتیازات ہیں۔ متعدد زبانوں میں تراجم اور برقی اشاعت نے بھی ان تصانیف کی افادیت اور دائرۂ اثر کو مزید وسعت بخشی ہے۔ ان خصوصیات کی بنا پر مولانا ثمیر الدین قاسمی کی تصنیفی خدمات معاصر اسلامی علمی سرمایہ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
تمت بالخیر
