افروز عالم ساحل
19 ستمبر 2026… آج بٹلہ ہاؤس ’انکاؤنٹر‘ کو اٹھارہ سال ہو گئے ہیں۔ اٹھارہ سال ایک لمبا وقت ہوتا ہے۔ اتنا لمبا کہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں، جوان بوڑھے ہو جاتے ہیں، والدین دنیا سے چلے جاتے ہیں، بہنوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں اور ایک نئی نسل ان گھروں کی دہلیز پر جوان ہو جاتی ہے۔ لیکن اعظم گڑھ کے کچھ گھروں میں 19 ستمبر 2008 کبھی ختم ہی نہیں ہوا۔ کیلنڈر بدلتے رہے، لیکن کہانی وہیں کی وہیں رک گئی۔ قانونی لڑائیاں چلتی رہیں، وکیل بدلتے رہے اور عدالتوں کی تاریخیں آتی جاتی رہیں۔ کچھ نوجوان بری ہوئے، لیکن پھر دوبارہ جیل بھیج دیے گئے، کچھ کو سزا ہوئی، کچھ جیل ہی میں مر گئے، اور کچھ کے گھر والے آج بھی عدالتوں اور جیلوں کے چکر لگا رہے ہیں، اپنے سوالوں کے جواب تلاش کر رہے ہیں۔ اور اب، اٹھارہ سال بعد، وہی خوف اعظم گڑھ کے دو اور گھروں کی دہلیز پر ایک نئے نام کے ساتھ کھڑا ہے۔
31 مئی 2026 کو اتر پردیش اینٹی ٹیررزم اسکواڈ (ATS) نے اعظم گڑھ کے خدادادپور سے محمد شیخ کو گرفتار کیا۔ تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد، 12 ستمبر کو 19 سالہ محمد نبیل کو دیدارگنج کے چٹارا محمودپور سے گرفتار کیا گیا۔ ان دونوں گرفتاریوں نے ایک بار پھر اعظم گڑھ میں خوف کی کیفیت پیدا کر دی ہے اور 2008 کی وہ یادیں تازہ کر دی ہیں جو آج بھی یہاں کے بہت سے خاندانوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ بٹلہ ہاؤس’انکاؤنٹر‘ کے بعد نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں نے پورے علاقے پر شک کا سایہ ڈال دیا تھا، ان نئی گرفتاریوں نے ایک بار پھر پرانے زخم تازہ کر دیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک نوجوان گرفتار ہوتا ہے تو پورا گھر بھی ایک طرح سے قید ہو جاتا ہے۔ گھر کی دہلیز پر سوال کھڑے ہو جاتے ہیں، پڑوسی خاموش ہو جاتے ہیں، رشتہ دار محتاط ہو جاتے ہیں۔ اور گھر کے اندر ماں باپ پر کیا گزرتی ہے، اسے شاید دنیا کا کوئی بھی لفظ یا جملہ پوری طرح بیان نہیں کر سکتا۔
اعظم گڑھ میں برسوں سے انسانی حقوق کے مسائل پر کام کرنے والے سماجی کارکن راجیو یادو کی مانے تو جب بھی علاقے میں کسی نوجوان کو گرفتار کیا جاتا ہے، خاص طور پر 2008 کے بعد سے، اس گرفتاری کے ساتھ ماضی کے واقعات کا سایہ بھی دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس، تحقیقاتی ادارے اور میڈیا اکثر نئی گرفتاریوں کو ماضی کی گرفتاریوں سے جوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح کچھ علاقوں اور خاندانوں پر شک کا وہ سایہ برقرار رہتا ہے جو برسوں سے ان کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔
راجیو یادو اتر پردیش کی سماجی و سیاسی تنظیم ’رہائی منچ‘ کے جنرل سیکریٹری ہیں، اگرچہ ان دنوں وہ ایک کسان رہنما کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ ATS کا الزام ہے کہ محمد شیخ پاکستان میں مقیم مبینہ گینگسٹر شہزاد بھٹی سے جڑے ایک نیٹ ورک کے رابطے میں تھا اور اس کے لیے کام کر رہا تھا۔ دوسری طرف نبیل پر AQIS کی نظریاتی سوچ پھیلانے، واٹس ایپ گروپس کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے اور انتہا پسند مواد پھیلانے کے الزامات ہیں۔ یہ سنگین الزامات ہیں۔ لیکن ایک صحافی کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ الزامات ہیں، عدالت کے فیصلے نہیں۔ شاید یہی وہ فرق ہے جس سے اعظم گڑھ کے بہت سے خاندان گزشتہ اٹھارہ برسوں سے اپنی زندگی میں جوجھتے آئے ہیں۔ الزام اور جرم ثابت ہونے کے درمیان جو فرق قانون کی کتابوں میں صرف چند الفاظ کا ہوتا ہے، ایک خاندان کی زندگی میں وہ کئی سالوں پر پھیل سکتا ہے۔
شاید اس پوری کہانی کا سب سے تکلیف دہ پہلو ان لوگوں سے جڑا ہے جو جیل میں نہیں بلکہ انتظار کی حالت میں ہیں۔ کچھ خاندانوں کا انتظار اتنا لمبا ہو گیا کہ والدین اپنے بیٹوں کے مقدموں کا فیصلہ دیکھے بغیر ہی دنیا سے چلے گئے۔ کچھ گھروں میں باپ چلا گیا؛ کہیں دادا نہیں رہے؛ اور کہیں بھائی کو کھونے کا دکھ سہنا پڑا۔ مقدمے چلتے رہے، عدالت کی تاریخیں آتی اور گزر جاتی رہیں اور آہستہ آہستہ خاندان کا دائرہ بھی چھوٹا ہوتا گیا۔ دہشت گردی کے مقدمات کی یہ انسانی کہانی ہے، جس کا ایک پہلو کبھی کسی ایف آئی آر کا حصہ نہیں بنتا۔
بٹلہ ہاؤس ’ انکاؤنٹر‘ کے اٹھارہ سال بعد بھی گرفتار کیے گئے زیادہ تر نوجوان، ایک دو کو چھوڑ کر، جیل میں ہیں۔ ان میں سے کئی کے مقدمات مختلف شہروں کی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ یہ وہی لمبا اور تھکا دینے والا سفر ہے، جس میں بار بار عدالت کی تاریخیں آتی ہیں، وکیلوں کی فیس دینی پڑتی ہے، خاندان پوری کوشش کرتے ہیں اور امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔ اور اس پورے سفر کے ساتھ ایک اور چیز بھی چلتی رہتی ہے، اور وہ چیز ہے خوف۔
جب میں نے گزشتہ سال اس موضوع پر لکھا تھا تو مجھے اعظم گڑھ میں اس مقدمے سے جڑے لوگوں کے درمیان ایک واضح خوف محسوس ہوا تھا۔ اس سال بھی ماحول تقریباً ویسا ہی ہے۔ سچ کہوں تو ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ کچھ نیا لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر میں صرف گزشتہ سال کی رپورٹ نکالوں، تاریخ بدلوں اور اسے دوبارہ شائع کر دوں، تو وہ آج کی کہانی ہی لگے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ایک بار پھر اس مقدمے سے جڑے مختلف کارکنوں اور متاثرہ خاندانوں سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن راجیو یادو کے علاوہ کوئی بھی ریکارڈ پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ یہ خاموشی صرف خاموشی نہیں ہے۔ یہ برسوں کے تجربے اور اس یقین کے ختم ہو جانے سے پیدا ہوئی ہے کہ ملک میں کوئی ایسا نظام موجود ہے جو ان کی تکلیف کا ازالہ کر سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اٹھارہ سال گزر جانے کے بعد بھی اعظم گڑھ کی کہانی صرف عدالتوں میں ہی نہیں بلکہ لوگوں کی خاموشی میں بھی آگے بڑھ رہی ہے۔
راجیو یادو کہتے ہیں، ”لوگوں کا جمہوریت پر اور پورے نظام پر سے اعتماد کم ہو گیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ عدلیہ بھی ان کے خلاف ہے اور حکومت بھی۔ انہیں صاف محسوس ہوتا ہے کہ اگر کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی نام نہاد سیکولر حکومتوں کے دور میں انہیں انصاف نہیں ملا تو موجودہ حکومت سے انصاف کی کیا امید کی جائے، جو مسلمانوں کے خلاف دشمنی کے ماحول میں اقتدار میں آئی؟ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ UAPA اور NSA جیسے سخت قوانین کانگریس کے دور حکومت میں ہی بنائے گئے تھے…“
راجیو مزید کہتے ہیں، ”جب ہم دھرنا یا احتجاج کرتے ہیں تو لوگ ڈر جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’اگر ہم وہاں گئے اور احتجاج کیا تو ہمارے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی ہنگامہ ہو گیا تو مقدمہ ہمارے ہی خلاف ہوگا اور ہمارے گھر گرانے کے لیے بلڈوزر بھیج دیے جائیں گے۔‘، لیکن ہم اس خوف کو قبول نہیں کر سکتے۔ آج ظلم صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہو رہا، بلکہ ملک میں جو بھی سچ اور انصاف کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اسے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ انہیں اپنی آواز اٹھانی ہوگی۔“
میں نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا، ”وہ آواز ضرور اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن ان کا نام راجیو یادو نہیں ہے۔“
اس کے جواب میں راجیو یادو نے راحت اندوری کا یہ شعر پڑھا: ”نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا،ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا۔“
پھر انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے حصے کی لڑائی خود لڑنی ہوگی۔
شاید اعظم گڑھ کی اٹھارہ سال پرانی یہ کہانی آخرکار ایک ہی سوال پر آ کر رک جاتی ہے: اگر معاشرے کے ایک حصے میں خوف معمول بن جائے تو اس خوف کا چکر توڑنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ ریاست کی؟ عدلیہ کی؟ سیاسی جماعتوں کی؟ معاشرے کی؟ یا ان شہریوں کی، جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انصاف صرف قانون کی ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے؟ اور جب خاموشی ہی تحفظ کا واحد راستہ بن جائے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ اگلی گرفتاری کس کی ہوگی؟ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے خلاف آواز کون اٹھائے گا؟
آج خاص طور پربٹلہ ہاؤس ’انکاؤنٹر‘ کے اٹھارہ سال بعد بھی اس پر بحث جاری رہے گی۔ کچھ لوگ پولیس کا مؤقف دوبارہ بیان کریں گے۔ کچھ اس واقعے پر اٹھائے گئے سوالات کو یاد کریں گے، اور کچھ عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیں گے۔ لیکن ان تمام قانونی اور سیاسی بحثوں کے پیچھے ایسے گھر بھی ہوں گے جہاں کوئی سیاست نہیں، صرف انتظار ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی آواز سننے کا انتظار کر رہی ہوگی۔ ایک بھائی اگلی عدالتی تاریخ کا انتظار کر رہا ہوگا، اور شاید ایک بوڑھا باپ دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے ایک بار پھر خود سے پوچھ رہا ہوگا:”اٹھارہ سال گزر گئے۔ اب اور کتنے؟“
