فوٹو فوٹو بہ شکریہ کلیریون انڈیا
اتر پردیش حکومت نے ضلع بارہ بنکی کے قصبہ پیر بٹاون میں واقع سرکاری امداد یافتہ مدرسہ دارالعلوم میں انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ نیوز پورٹل ‘کلیرین انڈیا’ کی رپورٹ کے مطابق، یہ کارروائی ایک آر ٹی آئی کارکن کی جانب سے دائر کی گئی تحریری شکایت پر عمل میں لائی گئی ہے۔
بارہ بنکی کے علاقے رسولی کے رہائشی اور سماجی کارکن محمد طلحہ انصاری نے مئی میں محکمہ اقلیتی بہبود اور اوقاف کے پرنسپل سکریٹری کو ایک شکایت بھیجی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ مدرسے کی انتظامی کمیٹی خلافِ ضابطہ تشکیل دی گئی ہے اور وہاں قواعد کے برعکس تقرریاں کی گئی ہیں۔ شکایت میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ادارے میں مالی خرد برد ہو رہی ہے اور بنیادی تعلیمی و تنظیمی سہولیات کا فقدان ہے۔
محکمہ اقلیتی بہبود نے ان الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ کو ایک ہفتے میں تفصیلی رپورٹ دینے کی ہدایت کی تھی۔ اس پر عمل کرتے ہوئے ڈائریکٹر اقلیتی بہبود شیل دھر سنگھ یادو نے دو رکنی تحقیقاتی ٹیم بنائی، جو فریقین کے بیانات قلمبند کرنے کے ساتھ ساتھ تقرریوں اور مالیات سے متعلق تمام دستاویزات کی پڑتال کرے گی۔ چونکہ یہ مدرسہ سرکاری مالی امداد حاصل کرتا ہے، اس لیے ریگولیٹری قواعد کی پاسداری کو جانچ کا بنیادی نکتہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب مدرسہ انتظامیہ نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مدرسے کے پرنسپل محمد الیاس کا کہنا ہے کہ ادارہ مکمل طور پر قانونی ضوابط کے تحت چلایا جا رہا ہے اور وہاں کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدرسہ انتظامیہ تحقیقات میں پورا تعاون کرے گی اور جانچ کمیٹی کو تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
