افروز عالم ساحل
۲۷ اکتوبر۔ انقرہ میں ترکیہ کے صدارتی دفتر کے شعبۂ مواصلات کا آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ ایک بھی نشست خالی نہیں۔ مجھے ہال کے بالکل پچھلے حصے میں کھڑے ہو کر پروگرام سننا پڑ رہا ہے۔
اسٹیج پر شعبۂ مواصلات کے سربراہ Burhanettin Duran خطاب کر رہے ہیں۔ ہال میں خاموشی ہے۔ سب انہیں غور سے سن رہے ہیں۔ چند منٹ بعد ایک شخص اپنی نشست سے اٹھ کر باہر نکلتا ہے۔ میں موقع دیکھ کر فوراً اس کی جگہ بیٹھ جاتا ہوں۔ اب میں مقرر کو زیادہ توجہ سے سن سکتا ہوں اور ہال کے ماحول کو بھی قریب سے محسوس کر سکتا ہوں۔
استنبول میں کلائمیٹ فنانس کانفرنس کے بعد ترکیہ میں یہ میرا دوسرا پروگرام تھا، جس کا تعلق اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس COP31 سے تھا۔ پینل کا عنوان تھا: ’’زیرو ویسٹ سے COP31 تک: ترکیہ کی ماحولیاتی سفارت کاری‘‘۔
میں وہاں محض ایک تقریر سننے نہیں گیا تھا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ ترکیہ، جو COP31 کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے۔ اس سے بھی اہم سوال یہ تھا کہ اس پیغام میں وعدوں کے علاوہ عملی اقدامات اور ان کے نتائج کے لیے کتنی جگہ ہے۔
دران کی گفتگو سنتے ہوئے بار بار میرے ذہن میں یہی سوال آ رہا تھا۔ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے وعدے آخر کتنے معنی رکھتے ہیں، اگر وہ عملی اقدامات میں نہ بدلیں؟یہ سوال اس لیے بھی اہم تھا کہ ان کی گفتگو کچرے اور آلودگی تک محدود نہیں رہی۔ بات غزہ کی جنگ اور اس کے ماحولیاتی اثرات تک پہنچی۔ اس سے ماحولیات کے ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول ہوئی جسے اکثر الگ الگ خانوں میں دیکھا جاتا ہے۔ جنگ، انسانی زندگی، ماحولیاتی تباہی اور بین الاقوامی سیاست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔
غزہ کی جنگ اور ماحولیات کی قیمت
دران نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سرحدوں کو نہیں پہچانتی اور کوئی ملک اکیلے اس بحران کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے عالمی تعاون، مؤثر پالیسیاں اور ملکوں کے حقوق و ذمہ داریوں کے درمیان توازن ضروری ہے۔ اس پورے عمل میں سماجی انصاف کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
غزہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگیں صرف انسانی جانیں نہیں لیتیں، ماحول کو بھی تباہ کرتی ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے اثرات انسانی جانوں کے نقصان اور عمارتوں کی تباہی تک محدود نہیں۔ جنگ سے ہونے والا کاربن اخراج بھی موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
دران نے دعویٰ کیا کہ ۷ اکتوبر کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں سے ہونے والا کاربن اخراج سیکڑوں ملکوں کے سالانہ اخراج سے زیادہ ہے۔ اس دعوے کے پیچھے موجود بنیادی سوال جو کافی اہم ہے: کیا جنگوں کے ماحولیاتی اثرات کو عالمی موسمیاتی بحث کا حصہ بنایا جا رہا ہے؟
جنگ کے دوران انسانی جانوں کا تحفظ یقیناً اولین ترجیح ہے۔ لیکن تباہ شدہ عمارتوں، ملبے، پانی اور صفائی کے نظام کو پہنچنے والے نقصان اور قدرتی وسائل کی بربادی کے اثرات بھی طویل عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔ ان کی قیمت صرف موجودہ نسل نہیں، آنے والی نسلیں بھی ادا کر سکتی ہیں۔
اگر موسمیاتی انصاف کا مطلب مشترکہ ذمہ داری اور انسانی زندگی کے تحفظ کو اہمیت دینا ہے تو جنگ سے تباہ ہونے والے ماحول کی بحالی کو بھی اس بحث میں جگہ ملنی چاہیے۔ یہ صرف جنگ زدہ علاقوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی ماحولیاتی ذمہ داری کا سوال بھی ہے۔
دران نے COP31 کو ترکیہ کے لیے عالمی برادری کے سامنے اپنا ماحولیاتی وژن پیش کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس کانفرنس کے ذریعے اعتماد کی بحالی، عالمی تعاون اور کیے گئے وعدوں کو عملی نتائج میں بدلنے پر زور دے گا۔
لیکن کسی بھی عالمی کانفرنس کی اہمیت صرف اس کے اعلانات سے طے نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان اعلانات کے بعد کیا بدلا، کتنے اہداف حاصل ہوئے اور ان اقدامات کا فائدہ کن لوگوں تک پہنچا۔ ان سوالوں کا جواب تقریروں سے نہیں، عملی نتائج سے ملتا ہے۔
کچرے کے اہداف سے عملی نتائج تک
اسی دوران اسٹیج پر ترکیہ کے وزیر ماحولیات، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی Murat Kurum آئے۔ وہ COP31 کے صدر بھی ہیں۔ میں انہیں دوسری بار سن رہا تھا۔ اس بار میری دلچسپی یہ جاننے میں تھی کہ ترکیہ اپنے ماحولیاتی عزائم کو کن عملی اہداف سے جوڑ رہا ہے۔
کوروم نے کہا کہ ترکیہ ۲۰۳۵ تک دنیا میں بلدیاتی کچرے کی پیداوار میں متوقع اضافے کو نصف کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے وسائل کے دوبارہ استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
کچرے میں متوقع اضافے کو نصف کرنے کا یہ ہدف اپنی درست نوعیت، بنیادی سال اور پیمائش کے طریقے کی وضاحت کا تقاضا کرتا ہے۔ کچرے کی موجودہ مقدار کم کرنا، اس کی پیداوار میں اضافے کی رفتار گھٹانا اور متوقع اضافے کو نصف کرنا الگ الگ اہداف ہیں۔ کسی بھی ماحولیاتی وعدے کی عملی اہمیت سمجھنے کے لیے یہ فرق واضح ہونا چاہیے۔
کوروم کی بات سنتے ہوئے مجھے ہندوستان کا خیال آیا، جہاں کچرے کا مسئلہ محض شہروں کی صفائی تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق عوامی صحت، شہری منصوبہ بندی، آبی وسائل اور سماجی انصاف سے بھی ہے۔ کچرے کے ڈھیر، آلودہ آبی ذخائر اور لینڈ فل سائٹس کے قریب آباد بستیاں اس مسئلے کے مختلف پہلو ہیں۔ ان کا بوجھ سب پر یکساں نہیں پڑتا۔ غریب اور کمزور طبقات اکثر اس کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔
اس لیے کچرے کے انتظام کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ کتنا کچرا جمع کیا گیا یا کتنی صفائی مہمیں چلائی گئیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کچرے کی پیداوار میں کتنی کمی آئی، قابل استعمال اشیا کو دوبارہ کام میں لانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور آلودگی کا بوجھ کمزور طبقات پر کس حد تک کم ہوا۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن کی مدد سے کسی بھی ملک کے ماحولیاتی عزائم کو پرکھا جا سکتا ہے۔ پالیسی کا اعلان ایک ابتدا ہے، اس کی کامیابی کا ثبوت نہیں۔
کوروم نے عالمی تنازعات، سیاسی کشیدگی اور معاشی بے یقینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی بحران انسانیت اور فطرت دونوں کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ان کی گفتگو کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکلنے کے راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں، لیکن فطرت کو پہنچنے والے بعض نقصانات کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔
یہ بات محض ایک تقریر کا حصہ نہیں تھی۔ اس میں ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ تھا۔ سیاسی حالات بدل سکتے ہیں، جنگیں ختم ہو سکتی ہیں اور معیشتیں بحال ہو سکتی ہیں، لیکن ماحولیاتی نقصان کے اثرات بعض اوقات برسوں یا نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں تاخیر کی قیمت صرف آج نہیں، کل بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
کوروم نے COP31 کے لیے ترکیہ کے پیغام کو عمل درآمد کی ضرورت سے جوڑا۔ ان کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وعدوں کو سرمایہ کاری، بین الاقوامی شراکت داری اور ٹھوس اقدامات میں بدلنا ہوگا۔
یہیں کسی بھی ماحولیاتی پالیسی کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ کیا اہداف واضح ہیں؟ کیا انہیں حاصل کرنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں؟ کیا پیش رفت کو ناپنے کے لیے قابل پیمائش اشاریے طے کیے گئے ہیں؟ اور کیا حکومتیں اپنی کامیابیوں کے ساتھ ناکامیوں کے لیے بھی جواب دہ ہوں گی؟
ان سوالوں کے بغیر بڑے اہداف متاثر کن ضرور دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ان کی عملی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل رہتا ہے۔
ترکیہ کی ماحولیاتی کوششوں کو سمجھنے کے لیے زیرو ویسٹ تحریک کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اس تحریک کا آغاز ترکیہ کی خاتون اول ایمینہ ایردوان کی قیادت میں ہوا۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کچرے کی مقدار کم کی جائے، وسائل کے ضیاع کو روکا جائے اور اشیا کو دوبارہ استعمال کرنے کے طریقوں کو فروغ دیا جائے۔
یہ تصور بظاہر روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتا ہے، لیکن اس کے اثرات حکومتی پالیسیوں، صنعتی پیداوار اور شہری منصوبہ بندی تک پھیلتے ہیں۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس سے پہلے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کچرا پیدا ہی کتنا ہو رہا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔تاہم کسی تحریک کی کامیابی صرف اس کے مقبول ہونے یا اس کے بارے میں آگاہی بڑھنے سے ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس نے کچرے کی مقدار، وسائل کے دوبارہ استعمال اور ماحول پر پڑنے والے دباؤ میں کتنی تبدیلی پیدا کی ہے۔ زیرو ویسٹ کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی کوششوں کو بھی انہی نتائج کی روشنی میں پرکھنا ہوگا۔
وعدوں سے عملی اقدامات تک
جب چائے کے وقفے کا اعلان ہوا تو میں ہال سے باہر نکل آیا۔ وہاں لوگوں کا ایک ہجوم جمع تھا۔ سب ترکی زبان میں ماحولیاتی سفارت کاری پر لکھی گئی ایک نئی کتاب حاصل کرنے کے لیے بے چین تھے۔ میں نے اس ہجوم میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ زبان کی رکاوٹ نے ایک بار پھر مجھے اپنے اور اپنے اردگرد کی دنیا کے درمیان فاصلے کا احساس دلایا۔
کچھ ہی دیر بعد لوگ دوبارہ آڈیٹوریم میں واپس آنے لگے۔ افتتاحی اجلاس کے دونوں اہم مہمان جا چکے تھے اور اب پینل ڈسکشن شروع ہونے والی تھی۔ میری خاص دلچسپی اس بات میں تھی کہ پینل میں شامل ماہرین پہلے کی تقریروں میں ظاہر کیے گئے عزائم کو عملی پالیسیوں اور اقدامات میں بدلنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
اس سیشن میں وزارتِ ماحولیات، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبۂ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر حلیل حصار، انقرہ یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالمنّاف توران، COP31 کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر مہمت علی کہرامان اور زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل مصطفیٰ ارداغی شریک تھے۔ نظامت یوزغات یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر مروہ اوزدمیر کر رہی تھیں۔گفتگو کا مرکز زیرو ویسٹ، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی سفارت کاری میں ترکیہ کا کردار تھا۔ مقررین نے کانفرنس کی تیاری، عالمی تعاون، طویل مدتی اہداف اور عملی اقدامات پر بات کی۔
حلیل حصار نے بتایا کہ COP31 کی میزبانی کے لیے مذاکرات ساڑھے تین سال پہلے شروع ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ COP کو محض ایک تقریب نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے، جس میں مختلف ممالک کے ترقیاتی منصوبوں اور ان سے متعلق فیصلوں پر گفتگو ہوتی ہے۔
انقرہ یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالمنّاف توران نے ترکیہ کے ۲۰۵۳ تک گرین ہاؤس گیسوں کے خالص اخراج کو صفر تک لانے کے ہدف اور ۲۰۲۵ میں منظور کیے گئے موسمیاتی قانون کا ذکر کیا۔
مہمت علی کہرامان نے COP31 کے لیے پیش کیے گئے عملی لائحۂ عمل پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق، اس کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان تعاون اور رابطے کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے دس نکات میں غذائی تحفظ، زراعت، صاف توانائی اور ماحول دوست صنعتی ترقی جیسے شعبے شامل ہیں، جنہیں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اپنے منصوبوں میں جگہ دے سکتے ہیں۔
مصطفیٰ ارداغی نے زیرو ویسٹ تحریک کو دنیا بھر میں فروغ دینے اور مختلف ممالک میں اس کے طریقوں کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، موسمیاتی کانفرنسوں کا عمل چند ہفتوں کی نشستوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے طویل مدتی تیاری، عملی اقدامات اور نتائج کا مسلسل جائزہ ضروری ہے۔
ان تمام گفتگوؤں میں ایک بات مشترک تھی: موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ لیکن ان بیانات سے ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ ترکیہ کے طویل مدتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے قلیل مدتی اقدامات کیا ہوں گے؟ ان کی پیش رفت کس طرح ناپی جائے گی؟ اور کیا ان نتائج کی بنیاد پر حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے گا؟
۲۰۵۳ تک خالص صفر اخراج کا ہدف ہو یا ۲۰۳۵ تک کچرے میں متوقع اضافے کو نصف کرنے کا منصوبہ، ان کی سنجیدگی کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب ان کے ساتھ واضح مراحل، قابلِ پیمائش نتائج اور جواب دہی کا نظام بھی موجود ہو۔ محض ہدف مقرر کرنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ حاصل بھی ہو جائے گا۔
یہی بات ماحولیاتی سفارت کاری کے لیے بھی اہم ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں اور مذاکرات کی اپنی ضرورت ہے، لیکن ان کا اصل مقصد ایسی تبدیلی لانا ہے جو قومی پالیسیوں اور عام لوگوں کی زندگیوں میں نظر آئے۔ اس کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ماحولیاتی اقدامات کے فوائد کس تک پہنچتے ہیں اور ان کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔
ماحولیاتی بحران کو اکثر مستقبل کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ اس کے اثرات پہلے ہی بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ صاف ہوا، محفوظ پانی، صحت مند ماحول اور روزگار کا تحفظ کسی دور کے مستقبل کی ضرورتیں نہیں۔ یہ آج کی زندگی کے بنیادی تقاضے ہیں۔
اسی لیے ماحولیاتی سفارت کاری کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ کتنے ممالک کسی مشترکہ اعلامیے پر متفق ہوئے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان فیصلوں سے آلودگی کتنی کم ہوئی، وسائل کا استعمال کتنا بہتر ہوا اور ماحول کے نقصان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگوں کو کتنا تحفظ ملا۔
انقرہ میں ہونے والی گفتگو نے میرے سامنے ایک بار پھر یہی سوال رکھا کہ عالمی موسمیاتی وعدوں اور عملی نتائج کے درمیان فاصلہ کیسے کم کیا جائے۔ ترکیہ کو COP31 کے ذریعے اپنے ماحولیاتی وژن اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔ لیکن اس موقع کی اصل اہمیت کانفرنس کے انعقاد سے نہیں، بلکہ اس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے طے ہوگی۔
آخرکار، زمین کو بچانے کے وعدے کرنا ایک بات ہے اور اسے رہنے کے قابل بنائے رکھنا دوسری۔ آنے والی نسلیں شاید یہ نہ پوچھیں کہ کسی کانفرنس میں کتنے ممالک شریک ہوئے یا کتنی تقریریں کی گئیں۔ وہ یہ جاننا چاہیں گی کہ جب ہمیں معلوم تھا کہ زمین کا موسم بدل رہا ہے اور انسانی زندگی کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں، تو ہم نے اس علم کی روشنی میں کیا کیا۔
موسمیاتی بحران کے بارے میں ہماری سمجھ اب ایک نئے سوال کا تقاضا کرتی ہے: ہم جانتے کیا ہیں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس علم کے بعد ہم کرتے کیا ہیں۔

