تخیلاتی مصنوعی تصویر ( آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ)
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے کھوڑا علاقے میں واقع مدرسے سے سیل ہٹانے کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ مدرسہ جون 2026 میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رجسٹریشن نہ ہونے کے مبینہ الزام پر سیل کیا گیا تھا۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے اس عدالتی حکم کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم نے اس اقدام کو من مانی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے بعد عدالت نے سیل ہٹانے کی ہدایت دی۔ کیس میں ایڈوکیٹ خالد نے تنظیم کی نمائندگی کی۔
اے پی سی آر نے اس عدالتی کامیابی کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آئین میں درج منصفانہ عمل اور قانون کی حکمرانی کے بنیادی حقوق کا اعادہ کرتا ہے۔ پریس ریلیز میں تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ متعلقہ سرکاری حکام قانون کے دائرہ اختیار سے باہر جا کر یا من مانے انداز میں کارروائی کرنے کے مجاز نہیں ہیں، اور کسی بھی ادارے کو جبری انتظامی کارروائی کا ہدف بنانا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے پریس ریلیز کے ذریعے عدالتی حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالتیں آزمائش کے اوقات میں بھی انصاف کے حصول کا ذریعہ بنی رہیں گی کیونکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اے پی سی آر نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا من مانی سرکاری کارروائی سے متاثرہ افراد اور اداروں کو قانونی امداد فراہم کرنے کا عمل جاری رکھے گی اور آئینی حقوق کا دفاع قانونی و جمہوری ذرائع سے کرتی رہے گی۔
