نئی دہلی/دہرادون: 27 اپریل 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت ملک کی مقتدر ملی تنظیموں نے اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے ‘اقلیتی تعلیمی اتھارٹی’ کے قیام اور مدارس کے لازمی الحاق کے فیصلے کو آئین ہند کی دفعہ 30 کے تحت حاصل خود مختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ 25 اپریل 2026 کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں مدارسِ اسلامیہ کے منتظمین سے اپریل اور مئی کے تعلیمی سیشن کے دوران اس اتھارٹی سے الحاق نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے، جبکہ جولائی 2026 سے اس قانون کے باقاعدہ نفاذ کی ڈیڈ لائن مقرر ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جمعیۃ علماء ہند کے صدور مولانا ارشد مدنی و مولانا محمود مدنی، اور امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی سمیت دیگر قائدین نے واضح کیا کہ ہندوستان کا آئین دفعہ 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی اور دفعہ 30 کے تحت اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے چلانے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اتراکھنڈ حکومت کا حالیہ بل مدارس کو ایک ایسے سرکاری تعلیمی بورڈ کے ماتحت کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف رجسٹریشن کا مجاز ہوگا بلکہ مدارس کے مذہبی نصاب اور طریقۂ تعلیم کا تعین بھی کرے گا۔ قائدین کا موقف ہے کہ نصاب اور مذہبی تعلیمات پر سرکاری گرفت مدارس کے بنیادی ڈھانچے اور ان کی مذہبی شناخت کے لیے خطرہ ہے۔
اتراکھنڈ میں تحفظ مدارس کے نمائندہ توفیق الٰہی قاسمی نے روایت کو بتایا کہ مدارس نے ملک کی آزادی اور ترقی میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے، لیکن حالیہ قانون سازی کے ذریعے انہیں انتظامی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مشترکہ بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اتھارٹی کے قیام کے بعد مدارس کو یہ حق نہیں رہے گا کہ وہ اپنی مذہبی ضروریات کے مطابق نصابِ تعلیم مرتب کر سکیں۔ یہ قانون ایک سیکولر ریاست کے اس تصور سے متصادم ہے جہاں اقلیتوں کو اپنی ثقافت اور مذہب کے تحفظ کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔
دوسری جانب، ریاستی حکومت کے حکام کا دعویٰ ہے کہ اس اتھارٹی کا مقصد مدارس کے تعلیمی نظام کو باقاعدہ بنانا (Regularize) اور وہاں زیرِ تعلیم طلبہ کو جدید قومی نصاب سے جوڑنا ہے تاکہ انہیں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔ حکومت کے مطابق، رجسٹریشن کا مقصد شفافیت لانا ہے نہ کہ مذہبی تعلیم میں مداخلت کرنا۔ تاہم، مسلم قیادت کا کہنا ہے کہ “جدید کاری” کے نام پر مدارس کی انتظامی خودمختاری کو ختم کرنا آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
قانونی محاذ پر یہ معاملہ اس وقت اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے جہاں اس قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ملی تنظیموں نے مشترکہ طور پر یقین دلایا ہے کہ وہ مدارس کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ قانونی تعاون پیش کریں گی اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ قائدین نے مدارس کے ذمہ داران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متحد رہیں اور کسی بھی ایسے سرکاری دباؤ کو قبول نہ کریں جو ان کے آئینی حقوق کو متاثر کرتا ہو۔
مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے والے قائدین:
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید ارشد مدنی، مولانا عبید اللہ خان اعظمی، مولانا فضل الرحیم مجددی، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا سید محمود اسعد مدنی، سید سعادت اللہ حسینی، مولانا سید بلال حسنی ندوی۔
