مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی و تخیلاتی تصویر
(جودھپور٫روایت نیوز ڈیسک): راجستھان ہائی کورٹ نے ریاست میں چلنے والے تقریباً تین ہزار مدارس کے انتظامی اور تعلیمی معاملات پر ایک عبوری حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے ان تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور ان پر حکومتی کنٹرول کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت سے تفصیلی حلف نامہ طلب کر لیا ہے۔
جسٹس ونیت کمار ماتھر اور جسٹس چندر شیکھر شرما پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پرتیپال سنگھ نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بی ایل بھاٹی کو یہ ہدایت دی ہے۔ اس پٹیشن میں دراصل راجستھان مدرسہ بورڈ ایکٹ 2020 کی قانونی حیثیت اور مدارس کو چلانے والے موجودہ ضوابط پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاستی محکمہ تعلیم کا ان اداروں پر کوئی مؤثر کنٹرول یا نگرانی نہیں ہے۔
دورانِ سماعت عرضی گزار کے وکیل نے استدلال کیا کہ موجودہ قانون ان اداروں میں تعلیم کے معیار کو جانچنے اور مؤثر حکمرانی کے لیے قطعی ناکافی ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے مطالبہ رکھا کہ مدارس میں پرائمری اور اپر پرائمری سطح پر باقاعدہ نصاب نافذ کیا جائے اور ضلعی سطح پر مشترکہ امتحانات لیے جائیں۔ عرضی میں یہ متنازعہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مدارس کا ریکارڈ آدھار سے منسلک ایک مخصوص پورٹل پر رکھا جائے، اور بغیر تعلیمی ڈگری والے یا نجی طور پر رکھے گئے مذہبی اساتذہ کو ریاستی فنڈز (مدرسہ بورڈ) سے تنخواہیں دینے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
اس کے علاوہ، عرضی گزار نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) کی حالیہ سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد اور معیار پر پورا نہ اترنے والے مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کر کے ان کی اراضی ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے جیسی سخت سفارشات بھی پیش کی ہیں۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے فی الحال ان مطالبات پر کوئی حتمی قانونی فیصلہ نہیں سنایا ہے اور نہ ہی مدرسہ بورڈ ایکٹ کو کالعدم قرار دیا ہے۔ عدالت نے محض ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنا تفصیلی لائحہ عمل جمع کرواتے وقت عرضی گزار کی ان تجاویز کو مدنظر رکھے۔
اس مقدمے کی اگلی سماعت 27 اکتوبر 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کیا جانے والا حلف نامہ ہی اب یہ طے کرے گا کہ راجستھان میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا مستقبل کیا رخ اختیار کرتا ہے۔
