بصری تاثر: علامتی و تمثیلی تشکیل / ڈیجیٹل الیوسٹریشن
سنت کبیر نگر: ۲۹ اپریل ۲۰۲۶
اتر پردیش کے ضلع سنت کبیر نگر میں سائبر جرائم کا ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں دھوکہ بازوں نے ایک مدرسے کو تعمیر و مرمت کے لیے چندہ دلانے کا جھانسہ دے کر اس کے بینک اکاؤنٹ سے دو کروڑ ۲۱ لاکھ روپے سے زائد کی رقم اڑا لی۔ بیلبر تھانہ علاقے کے لوہر سن کے رہائشی مولوی مسعود الحسن، جو ‘مسعود ایجویشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی’ میں مدرس ہیں، اس بڑی ٹھگی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس دھوکہ دہی کا انکشاف اس وقت ہوا جب مختلف ریاستوں کی پولیس کی مداخلت پر مدرسے کا بینک اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا، جس کے بعد متاثرہ فریق نے سائبر کرائم سیل میں شکایت درج کرائی۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ سندیپ کمار مینا کے مطابق، یہ سلسلہ ۶ مارچ کو شروع ہوا جب سنت کبیر نگر اور بستی کے رہائشی پانچ افراد نے مولوی مسعود الحسن سے ملاقات کی اور انہیں خستہ حال مدرسے اور مسجد کی مرمت کے لیے بھاری چندہ دلانے کا یقین دلایا۔ اس گروہ نے چندہ براہِ راست اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا بہانہ بنا کر مولوی مسعود الحسن سے ان کا بینک اکاؤنٹ نمبر، پین کارڈ، آدھار کارڈ، چیک بک، یوزر آئی ڈی، پاس ورڈ اور یہاں تک کہ ان کا سم کارڈ بھی حاصل کر لیا۔ سادہ لوح مدرس ان کے جال میں پھنس گئے اور تمام حساس دستاویزات اور رسائی ان کے حوالے کر دی۔
واقعے کی سنگینی اس وقت واضح ہوئی جب ۱۰ مارچ کو مولوی مسعود الحسن نے بینک جا کر اسٹیٹمنٹ نکلوایا۔ ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ کے ذریعے محض چند دنوں میں ۲ کروڑ ۲۱ لاکھ ۹۶ ہزار روپے کا غیر قانونی لین دین کیا گیا ہے اور یہ خطیر رقم نکالی بھی جا چکی ہے۔ بینک حکام کی جانب سے انہیں یہ بھی مطلع کیا گیا کہ تمل ناڈو، دہلی، ممبئی اور کرناٹک جیسی مختلف ریاستوں سے ان کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر کے رقم نکالی گئی، جس کی بنا پر مختلف جگہوں سے اکاؤنٹ پر ‘ہولڈ’ لگا دیا گیا تھا۔ متاثرہ استاد کی تحریری شکایت پر سائبر تھانے کی دو رکنی خصوصی ٹیم نے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس بین ریاستی سائبر گروہ تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
