Credit: Ghalib Shams
رپورٹ: غالب شمس
بہار کے ضلع مدھوبنی کے گاؤں سرسو پاہی کی کچی سڑکوں پر چلتے ہوئے کوئی فوراً یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہاں کے ایک مقامی باشندے کا نام گزشتہ تین ماہ کے دوران قومی اور مقامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں مسلسل گونجتا رہا ہے، اگرچہ گاؤں میں زندگی معمول کے مطابق چلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، لیکن جس مخصوص گھر کی تلاش میں میں یہاں آیا تھا، صرف اس کا ذکر ہی کئی لوگوں کی چپی کا سبب بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس موضوع پر بات کرنے سے مکمل گریز کرتے ہیں، جبکہ کچھ بس خاموشی سے وہاں سے چل دیتے ہیں، یہاں تک کہ ایک پڑھے لکھے شخص سے جب میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے بھی خاموش رہنا اور مزید بات نہ کرنا ہی بہتر سمجھا، بہر حال: پوچھتے پوچھتے بالآخر میں اس گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
یہ 56 سالہ اظہار الحق (مولانا اظہار) کا گھر ہے، جنہیں 14 اور 15 جون کی درمیانی شب مدھیہ پردیش اور بہار کے انسداد دہشت گردی اسکواڈز (اے ٹی ایس) کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ مکان انتہائی خستہ حالت میں ہے، جس کی دیواریں کچی ہیں، چھت پر البیسٹر (ٹین) کی شیٹیں اور کھپریل پڑی ہے اور بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان ہے۔ اس کی یہ حالت اس خاندان کی معاشی تنگی کی عکاسی کرتی ہے، جو گرفتاری کے بعد مزید گہری مصیبت میں ڈوب چکا ہے، گھر کے اندر غربت کا احساس واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس گھر کی حالت کو مولانا اظہار پر لگائے گئے الزامات کی تصدیق یا تردید کے ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
متعدد میڈیا رپورٹس میں انہیں ملک دشمن یا غدار قرار دیا گیا، حالانکہ ابھی تک عدالت میں ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے، اس میڈیا کوریج کا خاص طور پر ایک پریشان کن پہلو یہ تھا کہ شاید ہی کسی رپورٹر نے مولانا اظہار کے خاندان یا ان کے محلے کے کسی فرد کا نقطہ نظر عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی۔
اس تناظر میں، میرے لیے کلیدی سوالات یہ تھے کہ: پولیس یا تفتیشی ایجنسیوں نے اب تک مولانا اظہار کے حوالے سے عوامی سطح پر کیا بیانات دیے ہیں؟ ان کے اہل خانہ ان الزامات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ اور اس کیس کے اثرات نے مدھوبنی کے اس گھر اور آس پاس کی کمیونٹی کے لوگوں کی زندگیوں کو کس طرح متاثر کیا ہے؟
مقامی لوگوں کے مطابق، یہ بات قابل غور ہے کہ مولانا اظہار اس رات گاؤں سے تقریباً 17 کلومیٹر دور بھوارہ کے علاقے میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے، جس کے بعد وہ اردو محلہ میں واقع قریبی مدرسہ نور محمدیہ گئے، جہاں سے اے ٹی ایس (انسداد دہشت گردی اسکواڈ) نے انہیں حراست میں لے لیا۔
اہل خانہ کیا کہتے ہیں؟
اہل خانہ کے مطابق، صبح تقریباً ساڑھے تین بجے سرسو پاہی گاؤں میں واقع ان کے گھر پر تقریباً 50 لوگ پہنچے، ان میں سے کچھ پولیس کی وردی میں تھے، جبکہ باقی سادہ لباس میں تھے، وہ سب کے سب مرد تھے اور گھر کے گیٹ کے باہر صرف ایک خاتون پولیس کانسٹیبل تعینات تھی، اس وقت گھر میں صرف خواتین موجود تھیں۔
مولانا کی اہلیہ، فیروزہ خاتون اس رات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ”ہم سو رہے تھے، اچانک دروازے پر زوردار دستک ہوئی، جیسے کوئی اسے توڑنے والا ہو، میری بھتیجی نے جا کر دروازہ کھولا، ہم نے پوچھا،ہم عورتیں ہیں، آپ کون ہیں اور گھر میں کیوں گھس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا، سائیڈ ہو جاؤ،’“
ان کے مطابق، اہلکاروں نے گھر میں موجود ایک ریک کے بارے میں پوچھا اور وہاں سے کچھ کاغذات نکال لیے، اس کے بعد چاول اور گیہوں کے ڈرموں کی تلاشی لی گئی، یہاں تک کہ مرغیوں کے ڈربوں کو بھی کھنگالا گیا۔
فیروزہ خاتون کہتی ہیں: ”گھر کی عورتوں نے بار بار اہلکاروں سے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے، لیکن انہیں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ ہمیں اس بات کا بالکل علم نہیں ہے کہ انہیں اس تلاشی کے دوران کیا ملا یا وہ ہمارے گھر سے کون سے کاغذات لے کر گئے۔“
خاندان کو مولانا کی گرفتاری کا علم کب اور کیسے ہوا؟ مولانا اظہار کے 26 سالہ بیٹے عمر فاروق کا بیان ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے، اس وقت عمر فاروق اپنی فیملی کے ساتھ مدرسے میں مقیم تھے جو خود مولانا اظہار نے قائم کردہ تھا۔
عمر فاروق بتاتے ہیں کہ انہیں صبح چار بجے کے قریب ان کی والدہ کا فون آیا، جس میں بتایا گیا کہ ان کے گھر پر چھاپہ پڑا ہے، پولیس ان کے والد کو تلاش کر رہی ہے اور پورا گھر چھان مارا ہے، یہ سنتے ہی وہ فوراً اپنے والد کے قیام گاہ کی طرف بھاگے، لیکن ان کے پہنچنے تک اہلکار جا چکے تھے، انہوں نے ہر جگہ اپنے والد کی تلاش شروع کی لیکن وہ نہیں ملے، بھوارہ علاقے کے ایک بچے نے بتایا کہ پینٹ شرٹ پہنے کچھ لوگ انہیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
عمر فاروق مزید کہتے ہیں: ”صبح سات بجے میں کچھ لوگوں کے ساتھ مقامی تھانے گیا، لیکن وہاں سے بھی ہمیں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔“
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اسی دن 15 جون کو، بہار اے ٹی ایس نے اس کیس کے حوالے سے ایک پریس ریلیز جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے مدھیہ پردیش اے ٹی ایس (۔ایم پی اے ٹی ایس ) کے ساتھ مل کر ملک دشمن اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی معلومات کی بنیاد پر ایک مشترکہ آپریشن میں مولانا اظہار الحق کو گرفتار کیا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق: یہ کارروائی مدھیہ پردیش کے ایس ٹی ایف تھانہ کیس نمبر 06/2026، بتاریخ 12 جون 2026 کی تفتیش کے دوران کی گئی، جو بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس ) کی دفعہ 152 اور غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یو اے پی اے) 1967 کی دفعات 13(1)(b) اور 18 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
دراصل میڈیا رپورٹس کے مطابق، مولانا اظہار کی گرفتاری سے قبل اسی کیس میں تین اور گرفتاریاں ہو چکی تھیں، ابتدائی طور پر محمد فراز عرف خالد سیف اللہ (35) کو بھوپال کے قاضی کیمپ سے حراست میں لیا گیا تھا، اس سے پوچھ گچھ کے بعد اتر پردیش کے سہارنپور سے نعیم عبداللہ قریشی (38) اور راجستھان-ہریانہ بارڈر کے قریب الور سے محمد شاکر میو (34) کو گرفتار کیا گیا۔ چوتھی گرفتاری مولانا اظہار کی تھی۔
بہار اے ٹی ایس کی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: ”ابتدائی تفتیش اور دستیاب تکنیکی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم مبینہ طور پر ایک پاکستانی ہینڈلر کے رابطے میں تھا۔“
مشترکہ چھاپے کے دوران ملزم کے قبضے سے دو اینڈرائیڈ موبائل فون (ریڈمی نوٹ فائیو اور اوپپو) برآمد کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا، پریس ریلیز کے مطابق برآمد شدہ موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے اور کیس کی تفصیلی تفتیش جاری ہے۔
تاہم، نہ تو پولیس اور نہ ہی تفتیشی ایجنسی نے عوامی سطح پر اس مبینہ پاکستانی رابطے کی بنیاد بیان کی ہے، نہ ہی مولانا اظہار کے اہل خانہ کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کی گئی ہے۔
میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس کی نوعیت نے پورے خاندان اور گاؤں والوں کے دلوں میں خوف بٹھا دیا ہے، بعض قومی اور مقامی میڈیا اداروں نے تفتیشی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مزید سنگین الزامات عائد کیے۔ ان میں مختلف ریاستوں کے افراد سے رابطے، بیرون ملک تربیت کے منصوبے، خلافت کا قیام، ”غزوہ ہند“ کا تصور، آن لائن گروپس اور مبینہ طور پر نوجوانوں کو نیٹ ورک میں بھرتی کرنے کے دعوے شامل تھے۔
اٹھارہ جون کو دی نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں تفتیشی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ مولانا اظہار پر نوجوانوں کو پاسپورٹ کے حصول میں مدد فراہم کرنے اور نیپال کے راستے انہیں پاکستان بھیجنے کی سہولت دینے کا الزام ہے۔ اسی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے موبائل فونز میں مخصوص مواد کی موجودگی اور ڈیجیٹل شواہد کے فارنزک تجزیے کا بھی ذکر کیا گیا۔
البتہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ان دعوؤں کی سچائی کا تعین صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب تفتیش اور اس کے بعد عدالتی کارروائی میں ثبوت پیش کیے جائیں۔
مولانا اظہار کے اہل خانہ ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
ان کے بیٹے، عمر فاروق کے مطابق، ان کے والد تقریباً تین دہائیوں سے قرآن و حدیث پڑھا رہے تھے اور انہوں نے مقامی بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے مدھوبنی میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا۔
اپنے والد کو ایک شفیق انسان قرار دیتے ہوئے، عمر فاروق کہتے ہیں:
”میرے والد انتہائی نرم دل اور خوش اخلاق انسان ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی کا نقصان نہیں کیا۔ وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہمارے ہندو پڑوسیوں کی خوشی غمی میں بھی شریک ہوتے تھے۔“
وہ اپنے والد سے منسوب تکنیکی مہارتوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں: ”میرے والد کو تو اسمارٹ فون ٹھیک سے چلانا تک نہیں آتا۔“
میڈیا رپورٹس میں مولانا اظہار کے مختلف ریاستوں کے دوروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، اس حوالے سے عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ان کے والد ایک مدرسہ چلاتے ہیں اور اس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سے رمضان کے مہینے میں مختلف ریاستوں کا سفر کیا کرتے تھے۔
اگر تفتیش میں ان سفروں کو اہم سمجھا جاتا ہے، تو تاریخوں، مقامات، سفر کے مقاصد اور متعلقہ ریکارڈز جیسی تفصیلات اس معاملے کو سمجھنے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
گرفتاری کے اثرات
مولانا اظہار کی گرفتاری کے اثرات صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہے، ان کے بیٹے عمر فاروق کے مطابق وہ ایک مسجد میں امام کے فرائض انجام دیتے تھے لیکن گرفتاری کے بعد انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کے ایک اور بھائی، جو ایک مدرسے میں پڑھاتے تھے، انہیں بھی نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔
عمر کہتے ہیں: ”اب تقریباً تین ماہ ہو چکے ہیں، ہم بے روزگار گھر پر بیٹھے ہیں اور دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔“
یہ خاندان اب جاری قانونی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی مشکلات سے بھی نبرد آزما ہے۔
جب میں نے اس معاملے پر کچھ مقامی لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ صرف نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بولنے کو تیار ہوئے۔
ایک شخص نے تبصرہ کیا: ”دیکھیے ہم مسلمان ہیں، اگر کل کو یہ ہمیں کسی جھوٹے الزام میں جیل بھیج دیں، تو میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکوں گا۔“
یہ بیان صورتحال کے ایک اور پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ ایک گرفتاری نہ صرف ملزم کے خاندان میں بلکہ ارد گرد کے معاشرے میں بھی کیسا خوف پیدا کر سکتی ہے، تاہم اس خوف کی نوعیت اور حد کو پوری طرح سمجھنے کے لیے گاؤں والوں کے ساتھ مزید کھلی گفتگو کی ضرورت تھی، لیکن انہوں نے اس معاملے پر بات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
گاؤں کی خاموش گلیوں، ایک خستہ حال گھر، اور ایک بے روزگار خاندان کے درمیان کھڑے ہو کر سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے: جب کسی شخص پر دہشت گردی جیسے سنگین الزامات لگتے ہیں، تو عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی ان کی سماجی سزا کا تعین کون کرتا ہے، اور کیا خاندان کو بھی ان الزامات کا بوجھ اٹھانا چاہیے؟
چارج شیٹ ابھی داخل نہیں کی گئی
اس پورے معاملے کی قانونی حیثیت سمجھنے کے لیے اس رپورٹر نے اس کیس کی نگرانی کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) مدھیہ پردیش کے سیکریٹری سید جاوید اختر سے بات کی۔
وہ بتاتے ہیں: ”مولانا اظہار کے کیس میں، تفتیشی ایجنسی نے تین ماہ مکمل ہونے پر ریمانڈ کی مدت میں توسیع حاصل کر لی ہے، جب تک چارج شیٹ داخل نہیں کی جاتی، دفاعی وکیل کو یہ تک معلوم نہیں ہو سکے گا کہ اصل الزامات کیا ہیں۔“
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ عام مقدمات کے برعکس یو اے پی اے مقدمات میں تفتیشی ایجنسی کے پاس چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے 90 دن کا وقت ہوتا ہے، یو اے پی اے کی دفعہ 43D(2) کے تحت اگر مخصوص شرائط پوری ہو جائیں تو تفتیش کی مدت 90 دن سے بڑھا کر 180 دن تک کی جا سکتی ہے۔
بہر حال: ایک طرف غیر ملکی ہینڈلرز اور ریاست کے خلاف سازشوں کے حوالے سے اے ٹی ایس کے الزامات ہیں، جنہیں میڈیا روزانہ نمایاں کر رہا ہے، دوسری طرف ایک معمولی بغیر پلستر والا کچا گھر، کئی بے روزگار بیٹا اور ایک ایسا خاندان ہے جو ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
اگرچہ عدالتی عمل ہی بالآخر مولانا اظہار پر لگے الزامات کی سچائی اور قانونی حیثیت کا تعین کرے گا، لیکن ایک صحافتی ذمہ داری اپنی جگہ قائم رہتی ہے: تفتیشی دعووں کو ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہ کرنا، اور نہ ہی خاندان کے انکار کو بے گناہی کا حتمی ثبوت سمجھنا، بلکہ دونوں جانب سے اٹھنے والے سوالات کو بالکل اسی طرح پیش کرنا جیسے وہ ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ صحافی اپنی رپورٹنگ میں اس ذمہ داری کو پوری طرح نہیں نبھا رہے، اس کیس کی اصل کہانی شاید اسی وقت مکمل ہو سکے گی جب ان سوالات کے جوابات سامنے آئیں گے۔
