بشکریہ: The Hindustan Gazette
رپورٹ: وقار حسن | ترجمہ: ارسلان صدیقی
نئی دہلی: مدھیہ پردیش میں بہار سے مہاراشٹر جاتے ہوئے ریلوے پولیس کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے مدرسہ کے 167 طلبہ کی ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود عدم رہائی پر والدین شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ایک متاثرہ طالب علم کے والد محمد تبارک نے ‘دی ہندوستان گزٹ’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام مطلوبہ ثبوت جمع کرانے کے باوجود بچوں کو کیوں نہیں چھوڑا جا رہا، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک بار نہیں بلکہ تین بار دستاویزات جمع کرائیں، لیکن اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس صورتحال نے نہ صرف والدین بلکہ پورے خاندان کو شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے اور بعض لوگ اس پریشانی کی وجہ سے بیمار بھی ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 اپریل کو بہار کے ضلع ارریہ سے مہاراشٹر کے شہر لاتور جانے والی ‘پٹنہ پونے ایکسپریس’ میں سوار ان طلبہ کو گورنمنٹ ریلوے پولیس (GRP) اور ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) نے حراست میں لیا تھا۔ حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ان بچوں کو انسانی اسمگلنگ سے “بچایا” ہے اور الزام لگایا کہ انہیں چائلڈ لیبر اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اسمگل کیا جا رہا تھا۔ اس سلسلے میں صدام حسین، امان اللہ اور محمد ظاہر سمیت آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ بچوں کو کٹنی اور جبل پور کے چائلڈ کیئر ہومز میں رکھا گیا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد بہار کے علاقے جوکی ہاٹ میں والدین نے مقامی پولیس اور میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اپنی مرضی سے دینی تعلیم کے لیے مدرسے بھیجا ہے اور اسمگلنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ محمد تبارک، جن کا بیٹا محمد ثاقب تاحال حراست میں ہے، نے پہلے بھی واضح کیا تھا کہ انہوں نے اپنے بچے کو لاتور کے ایک مدرسے میں قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بچوں کی رہائی نہ ہونے پر سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین نے پولیس کی کارروائی پر سخت تنقید کی ہے۔ معروف مصنف اور صحافی پنکج چترویدی نے لکھا کہ ‘چائلڈ کریکشن ہوم’ محض ایک نام ہے، حقیقت میں یہ جگہ جیل سے بھی بدتر ہے جہاں یہ بچے ایک ہفتے سے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اب تک 110 بچوں کے اہل خانہ کٹنی پہنچ کر اپنی شناخت اور تحریری بیانات جمع کرا چکے ہیں کہ بچے ان کی مرضی سے مدرسے جا رہے تھے، لیکن پولیس اس معاملے میں مختلف سازشی نظریات گھڑ رہی ہے۔
تبارک کو بتایا گیا ہے کہ بچوں کو جمعرات کو رہا کیا جائے گا کیونکہ مدھیہ پردیش سے بہار کے لیے ٹرین اسی دن روانہ ہونی ہے۔ تاہم، وہ اب بھی اپنے بچے کی حالت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے بچوں کو وہاں کس طرح رکھا گیا یا انہیں کیا کھانے کو دیا گیا۔ ہر والدین اپنے بچے کے ساتھ ہونے والے سلوک پر پریشان ہوتے ہیں۔” انہوں نے پولیس اور جھوٹی شکایت درج کرانے والے شخص کے خلاف بھی سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شکایت کنندہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک یا دو نہیں بلکہ 167 بچے ہیں اور ان سب کے پاس مکمل دستاویزات موجود ہیں، انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔
نوٹ: اصل رپورٹ یہاں پڑھیں
