تصویر: نمائندہ تصویر
ارسلان صدیقی
پریاگ راج: اتر پردیش میں مدارس کی بڑے پیمانے پر شروع کی گئی اے ٹی ایس تحقیقات پر الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور اینٹی ٹیررزم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ آخر کس بنیاد پر ریاست کے 4,000 سے زائد مدارس کو اچانک دہشت گردی مخالف دستے کی نگرانی میں لایا گیا؟ جسٹس ارندم سنہا اور جسٹس ستیہ ویر سنگھ کے بینچ نے ‘ٹیچرز ایسوسی ایشن مدارس عربیہ یوپی’ اور ‘مدرسہ فاروقیہ ندوہ’ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ وہ 4 مئی تک اس کارروائی کا تمام ریکارڈ اور قانونی بنیادیں عدالت میں پیش کریں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ واضح اور ٹھوس وجوہات کے بغیر اتنی وسیع پیمانے پر تادیبی کارروائی کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ بینچ نے مشاہدہ کیا کہ حکومتی احکامات میں نہ تو مخصوص مدارس کے نام شامل ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کو فنڈنگ فراہم کرنے کے کسی براہِ راست تعلق کی تفصیل دی گئی ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ مخصوص مواد کی عدم موجودگی میں ایسی عمومی انکوائری کیوں شروع کی گئی؟ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ وی کے سنگھ اور ایڈوکیٹ محمد علی اوصاف نے دلیل دی کہ یہ کارروائی نہ صرف اے ٹی ایس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے بلکہ ‘مدرسہ بورڈ ایکٹ 2004’ اور ‘مدرسہ رولز 2016’ کے بھی صریحاً منافی ہے۔
معاملے کے پس منظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو پیش کی گئی 4,000 مدارس کی ایک فہرست، جس میں امداد یافتہ اور نجی دونوں طرح کے ادارے شامل ہیں، کی بنیاد پر حکومت نے محض عمارتوں کی ساخت اور فنڈنگ کے ذرائع پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے اے ٹی ایس کو میدان میں اتار دیا۔ کلیریون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ تنظیموں نے اس تحقیقات کے دائرہ کار، خاص طور پر نجی مالیاتی ریکارڈ تک رسائی کے مطالبے کو قانونی حدود سے تجاوز قرار دیا ہے۔ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری دیوان صاحب زماں خاں نے عدالتی مداخلت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کی فتح قرار دیا ہے۔
اس مہم جوئی نے ریاست بھر کے تعلیمی حلقوں اور مسلم کمیونٹی میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے مسلسل چھان بین سے نہ صرف خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے بلکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ تحقیقات صرف غیر ملکی فنڈنگ اور مشکوک بینک ٹرانزیکشنز کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ تاہم، قانونی ماہرین اس کیس کو ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ اقلیتی اداروں کے حقوق اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے اختیارات کے درمیان توازن کا تعین کرے گا۔ اب تمام نظریں 4 مئی کی سماعت پر لگی ہیں، جہاں حکومت کو اپنی اس کارروائی کا دستاویزی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
