مدرسہ اصلاحیہ نام نگر نبٹولیہ، دربھنگہ بہار ۔
غالب شمس
مدھیہ پردیش کے کٹنی ریلوے اسٹیشن پر جب ٹرین رکی، تو ڈبوں میں بیٹھے بہار کے ضلع ارریہ سے تعلق رکھنے والے 163 کم سن بچوں کو اندازہ نہیں تھا کہ تعلیم کے سفر کا اگلا پڑاؤ پولیس کی حراست ہوگا۔ ریلوے پولیس اور چائلڈ ویلفیئر افسران کی ایک ٹیم نے ٹرین کو روکا اور ان بچوں کو اس شبہے میں ٹرین سے اتار لیا کہ وہ انسانی اسمگلنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔
انہی حراست میں لیے گئے طلبہ میں شامل ایک کم سن طالب علم محمد فرقان نے اس واقعے کی روداد سناتے ہوئے کہا:
“پولیس نے ہمیں ٹرین سے ایسے اتارا جیسے ہم کوئی بڑے ڈاکو ہوں۔ وہ ہم سے پوچھنے لگے کہ کیا تم ٹیررسٹ (دہشت گرد) ہو؟ ہم نے کہا کہ ہم تو قرآن پڑھنے جا رہے ہیں، لیکن انہوں نے ہمیں دھمکایا۔ ہم اتنا ڈر گئے تھے کہ ہمیں لگا اب ہم کبھی گھر واپس نہیں جا پائیں گے۔ اب میرے ابا مجھے دوبارہ باہر نہیں بھیجیں گے، میں گاؤں کے پاس ہی پڑھوں گا۔ کہیں باہر کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا؟”
یہ خوف ریاست بہار کے ہر اس طالب علم میں سرایت کر چکا ہے جو مذہبی اور عصری تعلیم کے حصول کے لیے دوسری ریاستوں کا سفر کرنے پر مجبور ہے، وہ اسی عدم تحفظ کے سائے میں جی رہا ہے۔ مدھوبنی کے ایک گاؤں پنڈول کے رہائشی پندرہ سالہ طالب علم محمد تسلیم (فرضی نام)، جو تعلیم کے لیے اترپردیش جا رہا تھا، نے اس شناخت کے بحران اور اسلاموفوبیا کے نفسیاتی اثرات کو ان الفاظ میں بیان کیا:
“ہمیں کرتا پاجامہ پہننے میں ڈر لگتا ہے۔ ہم نے سنا تھا کہ ایک مولانا کو ٹرین سے باہر مار کر پھینک دیا گیا تھا۔ ہم لوگ ٹرین میں سفر کرتے ہیں تو بہت ڈر لگتا ہے کہ کیا ہم کوئی مجرم ہیں؟” ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے انتہائی معصومیت سے سوال کیا، “ہم سے لوگ کیوں نفرت کرتے ہیں؟”
یہ زمینی صورتِ حال اسکرول کی اس دستاویزی رپورٹ کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق صرف رواں سال کے دوران، حکام نے 9 مختلف واقعات میں 375 بچوں کو ٹرینوں سے انسانی اسمگلنگ کے شبہے میں حراست میں لیا۔ ان میں سے 8 واقعات میں تمام بچے مسلمان تھے اور 7 واقعات میں وہ مدارس جا رہے تھے۔ مدھیہ پردیش، اوڈیشہ اور کرناٹک (جہاں بی جے پی کی حکومتیں تھیں یا ہیں) میں ہونے والی ان حراستی کارروائیوں کے بعد، پولیس اور چائلڈ ویلفیئر کمیٹیوں کی تحقیقات میں انسانی اسمگلنگ کا شبہ قطعی غلط ثابت ہوا۔ 27 اپریل کو ارریہ میں ‘جن جاگرن شکتی سنگٹھن’ کے آشیش رنجن نے اس صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک سوچی سمجھی مہم ہے جس کے تحت مدارس جانے والے مسلم بچوں کو چنندہ (خاص طور پر) طور پر ہدف بنایا جا رہا ہے۔
جب تعلیم کے لیے گھر چھوڑنا ایک مجبوری بن جائے
آخر بہار کے غریب اضلاع (جیسے ارریہ، کشن گنج، پورنیہ اور خطہِ سیمانچل) کے کم سن بچے سینکڑوں میل دور مہاراشٹر یا کرناٹک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں ہیں؟ بہار قانون ساز اسمبلی کی اقلیتی فلاح کمیٹی کے چیئرمین اور امور سے ایم ایل اے، اختر الایمان اس ہجرت کے محرکات کی براہِ راست نشاندہی کرتے ہوئے بتاتے ہیں:
“ہمارے بچوں کے ریاست سے باہر جانے کی دو ہی بنیادی وجوہات ہیں: ایک شدید غربت اور دوسرا مقامی سطح پر معیاری تعلیمی درسگاہوں کا فقدان۔ جو بچے باہر جا رہے ہیں ان میں سے 90 فیصد انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔”
اعداد و شمار کے لحاظ سے بہار ملک کی ان چند ریاستوں میں شامل ہے جہاں اردو میڈیم اسکولوں اور مدارس کا جال سب سے وسیع ہے۔ ‘ملی گزٹ’ کی 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 28,276 اردو میڈیم اسکولوں میں سے 3,624 بہار میں واقع ہیں، جن میں 2,597 سرکاری اسکول ہیں۔
معروف ماہرِ تعلیم مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی کے مرتب کردہ تازہ ترین دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں مدارس کی کل تعداد 6,409 ہے۔ ان میں آزاد (نجی) مدارس کی تعداد 2,822 ہے، جبکہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحقہ مدارس کی تعداد 3,587 ہے (جن میں 1,128 قدیم مدارس ملحقہ اور 2,459 جدید مدارس ملحقہ شامل ہیں)۔ وفاق المدارس الاسلامیہ بہار کے ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق، ان میں سے سرکاری امداد (گرانٹ) حاصل کرنے والے مدارس کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے۔
اصل بحران ان مدارس کا ہے جو سرکاری سطح پر تسلیم شدہ تو ہیں، لیکن انہیں ریاست کی طرف سے کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی جاتی۔ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق:
“حکومت نے 1,646 مدارس کو گرانٹ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس پر متعلقہ حلقوں میں شدید بے چینی اور ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔”
آج تک ان 1,646 مدارس میں سے بمشکل 600 کے کاغذات سکریٹریٹ بھیجے گئے، جہاں ضابطۂ اخلاق یا انتظامی وجوہات کے بہانے فائلیں دبا دی گئیں۔ ریاست کے سیاسی منظرنامے کا المیہ یہ ہے کہ چاہے برسرِ اقتدار این ڈی اے ہو یا حزبِ اختلاف کا عظیم اتحاد (مہاگٹھ بندھن)، کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں ان مدارس کے مالی بحران کو حل کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ جب مقامی سطح پر ادارے مالی عدم استحکام کی وجہ سے رہائش اور معیاری تعلیم فراہم کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، تو والدین اپنے بچوں کو دیگر ریاستوں کے مدارس میں بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جہاں وہ راستے میں ریاستی تفتیشی ایجنسیوں کے استحصال کا شکار بنتے ہیں۔
قانونی خودمختاری سے بیوروکریٹک گرفت تک
بہار میں مدارس کا زوال یہ قانون سازی اور خاموش انتظامی احکامات کے ذریعے بتدریج نافذ کیا گیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 1912 میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے قیام اور 1922 میں امتحانی بورڈ بننے کے بعد، مدارس کا داخلی نظم و نسق ہمیشہ آزاد رہا۔ 1981 میں جب ‘بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ’ قائم ہوا، تو اس نے مدارس کی خودمختاری کو آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 (اقلیتی حقوق) کے تحت مضبوط کیا۔ قاضی مجاہد الاسلام جیسی شخصیات کا بھی یہ ماننا رہا ہے کہ اقلیتی اداروں کو درپیش انتظامی چیلنجز کے حل کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا ناگزیر ہے۔
لیکن جو کام ماضی میں براہِ راست نہ ہو سکا، وہ پھر انتظامی ترامیم کے ذریعے کیا گیا۔ نیپال سرحدی اضلاع (مظفرپور، سیتامڑھی، ارریہ) کے چند مدارس پر میڈیا کے متنازع اسٹنگ آپریشنز کے بعد ایک مخصوص بیانیہ تیار کیا گیا۔ اس بیانیے کے دباؤ میں سیتامڑھی کے مدارس کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچا اور 1,637 مدارس کی فزیکل جانچ کا حکم دے دیا گیا۔
اس سازگار فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستی حکومت نے 22 اپریل 2022 کو دو بنیادی نوٹیفیکیشنز (395 اور 396) جاری کیے۔ ان احکامات کے ذریعے مدارس کی مجلسِ منتظمہ کی تشکیل اور اساتذہ کی تقرری کے تمام اختیارات بورڈ اور مدرسہ انتظامیہ سے چھین کر براہِ راست ضلع ایجوکیشن افسر (DEO) اور حکومتی پورٹل کے ماتحت کر دیے گئے۔
اس پر ابوالکلام قاسمی شمسی واضح کرتے ہیں:
“ملحقہ مدارس اقلیتی ادارے ہیں۔ 1981 ایکٹ کے تحت اصول سازی کا اختیار بورڈ کے پاس تھا؛ اسے محکمے کے ہاتھ میں دینا خود مختاری کے خلاف ہے۔ ضلعی رہائشی شرط اور صرف نمبروں پر زور اچھے استاد کے انتخاب کو محدود کرتا ہے۔ عصری مضامین کے اساتذہ کے لیے اردودانی کی شرط معیاری طور پر متعین نہیں، اور نصاب کی وسعت کے تناسب سے اساتذہ کی تعداد میں اضافے کا کوئی خاکہ نہیں دیا گیا۔”
اس انتظامی قبضے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ‘بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ (ترمیمی) بل 2024’ منظور کیا گیا۔ اس بل نے ریاست کو یہ حق دے دیا کہ وہ کسی بھی وقت بورڈ کو تحلیل کر کے انتظام کسی سرکاری ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کر دے، اور چیئرمین کی اہلیت کو بیوروکریٹک پروفائل کے حق میں موڑ دیا۔ یعنی نظام بظاہر مدرسہ بورڈ کا ہے، لیکن فیصلہ سازی کے تمام مراکز محکمہ تعلیم کے دفاتر میں منتقل ہو چکے ہیں۔
ان انتظامی تبدیلیوں نے زمینی سطح پر اساتذہ کے اندر ایک گہرا نفسیاتی خوف پیدا کر دیا ہے۔ فیلڈ رپورٹنگ کے دوران میری ملاقات ایک سرکاری مدرسے کے سائنس ٹیچر سے ہوئی، جن کے چہرے پر ملازمت کے مستقبل کو لے کر شدید گھبراہٹ طاری تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا، “ہمیں ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں آسام یا اتراکھنڈ کی طرح بہار کے مدارس پر بھی اچانک تالا نہ لگ جائے۔ ہم عصری تعلیم (سائنس) پڑھا رہے ہیں، لیکن ریاستی پالیسیوں کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب کون سا نیا نوٹیفیکیشن آ جائے اور ہمیں سسٹم سے باہر کر دیا جائے۔” یہ ایک استاد کا ڈر بھی ہے، اور پورے اقلیتی تعلیمی ڈھانچے میں پھیلی ہوئی بے یقینی کی عکاسی بھی۔
شفافیت کا دعویٰ اور حقیقی سوالات
حال ہی میں، بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے وزیرِ تعلیم متھیلیش کمار تیواری نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت ریاست کے تمام سرکاری امداد یافتہ مدارس اور سنسکرت اسکولوں کی ریاست گیر فزیکل جانچ فزیکل آڈٹ کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ جانچ شفافیت لانے اور فرضی اداروں کو بند کرنے کے لیے ہے۔
لیکن گراؤنڈ پر موجود مدارس کے ذمہ داران اس جانچ کو ایک منظم مالی استحصال قرار دیتے ہیں۔ ضلع دربھنگہ کے ایک گاؤں میں واقع مدرسہ کے پرنسپل ( جن کا نام چھپا دیا گیا ہے) زمینی حقائق کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“دو سال قبل جب نئے مدارس اور 1,228 زمرے کے مدارس کی جانچ ہوئی تھی، تو افسران نے اچھی خاصی رقم وصول کی تھی۔ کسی مدرسے سے ایک لاکھ، کسی سے دو لاکھ۔ اس جانچ کی رپورٹ تو پہلے ہی حکومت کے پاس موجود ہے، مگر اب دوبارہ جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت تنخواہ کے علاوہ مدارس کو ایک روپیہ نہیں دیتی۔ اساتذہ اپنی جیب سے زمین خریدتے اور عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ اب یہ افسران آئیں گے اور خامیاں نکال کر پھر سے پیسے اینٹھیں گے۔ یہ فزیکل آڈٹ صرف اساتذہ کو پریشان کرنے اور رقم وصولی کا ایک منظم ذریعہ ہے۔” (نوٹ: ان مالی الزامات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے)۔
اس بحران، ریاستی غفلت اور بورڈ کی ناقص کارکردگی نے کئی اداروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک مدرسے کے پرنسپل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیئرمین اکثر سیاسی بنیادوں پر مقرر کیے جاتے ہیں اور اس وقت لگ بھگ 50 مدرسے اساتذہ کی کمی کے باعث بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔
اساتذہ کی کمی کا یہ بحران کتنا سنگین ہے، اس کی ایک واضح زمینی مثال دربھنگہ کا سرکاری ‘مدرسہ اصلاحیہ نام نگر نبٹولیہ’ ہے۔ مقامی لوگوں سے کی گئی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس اکیلے مدرسے میں اساتذہ کی 6 منظور شدہ آسامیاں گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بحالی کا کوئی عمل شروع نہیں کیا گیا، جس کا سیدھا خمیازہ وہاں زیرِ تعلیم غریب طلبہ بھگت رہے ہیں۔
سنسکرت اسکول اور مدارس: دو نظام، دوہرا معیار
حکومت کے ‘یکساں احتساب’ اور ‘شفافیت’ کے دعووں کا پردہ اس وقت پوری طرح چاک ہو گیا جب ریاستی بیوروکریسی کا ادارہ جاتی دوہرا معیار (ڈبل اسٹینڈرڈ) کھل کر سامنے آیا۔ ایک طرف جہاں مدارس کو جدید شرائط، فنڈنگ کے فقدان اور انکوائری کے نام پر ہراساں کیا جا رہا ہے، وہیں سنسکرت اسکولوں کے لیے ریاستی سرپرستی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔
حکومت کا یہ امتیازی رویہ صرف قوانین میں نرمی تک محدود نہیں، بلکہ سہولیات اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں بھی عیاں ہے۔ محکمہ تعلیم نے حال ہی میں سنسکرت ایجوکیشن بورڈ کے دفتر کو پٹنہ کی ‘انٹرمیڈیٹ کونسل’ کی عمارت میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مدرسہ بورڈ کے لیے ایسی کوئی بہتری دور دور تک نظر نہیں آتی۔ حکومت سنسکرت اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نئی تقرریوں کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر رہی ہے اور جولائی 2026 تک اس کے لیے ایک نیا ‘ایس او پی’ لانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس، مدارس میں اساتذہ کی کمی کا یہ عالم ہے کہ دربھنگہ جیسے علاقوں میں برسوں سے مدارس کی آسامیاں خالی پڑی ہیں، مگر وہاں نئی بھرتیوں کی کوئی امید نہیں، بلکہ صرف انکوائریوں کے ذریعے موجودہ اساتذہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ گویا سنسکرت تعلیم کو ‘تعلیمی بحالی’ اور مدارس کو ‘شک کے دائرے’ میں رکھا گیا ہے۔ 11 جون 2026 کو وزیرِ تعلیم متھیلیش کمار تیواری نے سنسکرت اساتذہ کی اپیل پر محکمہ تعلیم کو احکامات جاری کیے کہ ان کی جانچ میں نرمی برتتے ہوئے انہیں پرانے قواعد (1976 اور 1993) کے تحت پرکھا جائے تاکہ ان کے ساتھ “ناانصافی” نہ ہو۔ یہ حالیہ پیش رفت ان دعووں پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ فزیکل آڈٹ کی مہم میں سنسکرت اداروں کی شمولیت صرف ایک سیکولر پردہ تھی، جبکہ اس ریاستی مہم کا اصل ہدف صرف اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں۔
حکومتی پالیسی، اپوزیشن کی تنقید اور طویل المدتی بحران
حکومت کے اس دعوے کو کہ یہ جانچ تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے ہے، سیاسی اپوزیشن نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے ایم ایل سی قاری صہیب اور آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی کا واضح مؤقف ہے کہ اس جانچ مہم میں سنسکرت اسکولوں کو صرف اس لیے شامل کیا گیا ہے تاکہ عوام کو دھوکہ دیا جا سکے؛ اصل نشانہ اقلیتی برادری کے ادارے ہیں۔
اس پورے بحران کا حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اور اقلیتی فلاح کمیٹی کے چیئرمین اختر الایمان نے ریاستی حکومت کے سوتیلے پن اور پالیسی کی ناکامی کی نشاندہی کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں:
“حکومت کا مدارس کے ساتھ کبھی مخلصانہ رویہ نہیں رہا۔ 2022 سے مدارس میں کوئی نئی بحالی نہیں ہوئی، اور اساتذہ کی کمی کے باعث کچھ مدرسوں میں تالے لگ چکے ہیں۔ عام اسکولوں کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے جو مراعات ہیں، وہ مدارس کو حاصل نہیں ہیں۔ آپ نے عام اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں ریگولر کر دیں، لیکن مدرسے کے اساتذہ آج بھی محروم ہیں۔ یہ حکومت کا صریحاً سوتیلا پن ہے۔”
حکومت کی جانب سے مدارس میں ‘ماڈرن ایجوکیشن’ لانے کے دعوے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“یہ مدارس جدید تعلیم ہی کے لیے کھولے گئے تھے، لیکن ریاستی سطح پر آج تک انہیں اس کے لیے متعارف (انٹروڈیوس) نہیں کیا گیا۔ یہ غریب بچے جو ہمارے مدارس میں پڑھ رہے ہیں، یہ ریاستی اسکولوں میں نہیں جا رہے۔ ہم حکومت کو باقاعدہ ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے ان شہریوں کے بچوں کو جدید تعلیم اور سہولیات فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، جس سے وہ مجرمانہ غفلت برت رہی ہے۔”
البتہ انہوں نے داخلی اصلاحات اور سول سوسائٹی کے کردار پر بھی زور دیا، “جہاں سماجی بیداری ہے، وہاں ادارے آج بھی مثالی ہیں۔ مثال کے طور پر ‘مدرسہ صدیقیہ ڈگروہ’ میں آج بھی سیکڑوں کی تعداد میں بچے اور بچیاں ہاسٹل میں رہ کر شاندار تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔” اختر الایمان نے اسمبلی میں حکومتی عدم شفافیت کا بھی ذکر کیا کہ ایوان میں پوچھے گئے مدارس سے متعلق سوالات کے جوابات تک جان بوجھ کر ودھان سبھا کے پورٹل پر اپلوڈ نہیں کیے جاتے۔
گذشتہ چند ہفتوں کی رپورٹنگ کے دوران میں نے ارریہ، دربھنگہ، مدھوبنی اور سیمانچل کے علاقوں میں کئی لوگوں سے بات کی۔ ان کے خدشات الگ الگ تھے، لیکن ایک احساس سب میں یکساں تھا: بے یقینی۔ کچھ والدین اپنے بچوں کو باہر بھیجنے سے خائف تھے، تو کچھ اساتذہ کو ملازمت کا ڈر تھا۔ لیکن سب سے بڑا سوال وہی ہے جو کٹنی اسٹیشن پر ٹرین سے اتارے گئے اس کم سن بچے نے پوچھا تھا: ‘ہم سے لوگ کیوں نفرت کرتے ہیں؟’
اس کا جواب کسی ایک پولیس کارروائی یا سرکاری نوٹیفیکیشن میں نہیں مل سکتا۔ یہ بچوں کے تعلیمی سفر، ریاستی پالیسی اور سماجی رویوں سے جڑا ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہار کے مدارس کی یہ کہانی اس تلخ حقیقت کی عکاس ہے کہ جب اس پسماندہ طبقے کا کوئی بچہ تعلیم کی تلاش میں نکلتا ہے، تو اس کے سفر میں کتابوں سے زیادہ خوف اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
The reporting for the story was supported by a grant from the Human Rights and Religious Freedom Journalism Grant Program.
