اے آئی سے تیار کردہ تصویر
اتر پردیش میں مدارس کے تعلیمی نظام اور ان سے وابستہ اساتذہ کا مستقبل ایک بار پھر انتظامی سست روی اور حکومتی یقین دہانیوں کے بیچ معلق دکھائی دے رہا ہے۔ ریاست میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2004 اور غیر سرکاری عربی و فارسی مدرسہ سروس رولز 2016 میں ترامیم کے لیے قائم کی گئی چھ رکنی کمیٹی کی رپورٹ توسیعی مدت گزرنے کے دس ماہ بعد بھی سامنے نہیں آ سکی ہے۔ ایک طرف حکومت اس تاخیر کو دائرہ کار کی وسعت کا نام دے کر مدارس کی جدید کاری کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری طرف اقلیتی حلقوں اور اساتذہ تنظیموں میں اس طویل التوا کو لے کر شدید بے چینی پائی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست کے اسمبلی انتخابات میں محض چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔
اس معاملے پر سرکاری موقف پیش کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت دانش آزاد انصاری نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ کمیٹی کی رپورٹ بہت جلد تیار ہو جائے گی، لیکن انہوں نے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی پیر کو ایک اجلاس میں رپورٹ کو حتمی شکل دینے اور متعلقہ امور پر غور کرے گی۔ انہوں نے تاخیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وسیع مشق تھی جس کے لیے وقت درکار تھا، اور یہ سفارشات مستقبل میں مدارس کے طریقہ کار کو طے کرنے اور ان کی تعلیمی اپ گریڈیشن میں اہم کردار ادا کریں گی۔ لیکن زمینی سطح پر اس تاخیر نے حکومت کے ان دعووں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ اقلیتی امور کے ڈائریکٹر کی سربراہی میں یہ کمیٹی گزشتہ سال 30 مئی کو بنی تھی اور اسے ایک ہی ماہ میں رپورٹ دینی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر اگست 2025 کیا گیا، مگر اب 2026 کے وسط تک بھی یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے۔
ٹیچرز ایسوسی ایشن مدارسِ عربیہ اتر پردیش کے جنرل سیکرٹری دیوان صاحب زمان خان نے اس صورتحال پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام سرکاری امداد یافتہ مدارس کا مستقبل ان ہی سفارشات پر ٹکا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات سر پر ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک رپورٹ کو پبلک نہیں کیا، جس سے امداد یافتہ مدارس میں شدید غیر یقینی کی فضا ہے۔ انہوں نے ان افواہوں کو بھی مسترد کیا کہ رپورٹ گزشتہ ہفتے کابینہ میں پیش ہونی تھی، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سفارشات کو بلا تاخیر نافذ کیا جائے۔ خان نے 2016 کے سروس رولز کی خامیاں اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان قواعد میں اساتذہ کی تعیناتی، معطلی، برطرفی اور ریٹائرمنٹ جیسے بنیادی امور پر کوئی واضح گائیڈ لائنز نہیں ہیں، جس کا نقصان اساتذہ کو اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ انتظامی کمیٹیاں صوابدیدی اختیارات استعمال کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کے 561 امداد یافتہ مدارس میں سے صرف نصف کے پاس منظور شدہ قواعد ہیں، جبکہ باقی مدارس کسی ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر چل رہے ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اگر حکومت جدید مضامین شامل کرنا چاہتی ہے تو اسے پہلے ان مضامین کے ماہر اساتذہ کی بحالی کا نظام بنانا چاہیے۔
دوسری جانب، مدارس کے خلاف بنائے جانے والے سیاسی بیانیے اور جدید کاری کے نام پر ڈالے جانے والے دباؤ کا جواب دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینیئر رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ مدرسہ تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے یہ رپورٹ وقت پر آنی چاہیے تھی۔ مدارس کے نصاب پر اٹھنے والے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ علامہ نظام الدین فرنگی محلی کا تیار کردہ 300 سال پرانا ‘درسِ نظامی’ کا نصاب اپنے وقت میں سائنس، سماجی علوم، ریاضی اور فلسفہ جیسے مضامین پر مشتمل تھا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ یہ پروپیگنڈا سراسر غلط اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے کہ مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی ہے۔
محکمہ اقلیتی بہبود کے حکام کے مطابق، اس کمیٹی کے پاس نویں سے بارہویں جماعت کے نصاب پر نظرثانی، اساتذہ کی بھرتی، معطلی، اور طلبہ و اساتذہ کے تناسب کے حساب سے ان کے تبادلوں کی پالیسی بنانے کا وسیع اختیار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اتر پردیش میں تقریباً 25,000 مدارس ہیں، جن میں سے صرف 13,000 یوپی مدرسہ بورڈ سے الحاق شدہ ہیں، اور ان میں سے بھی محض 561 مدارس کو سرکاری گرانٹ ملتی ہے۔ ایسے میں مدارس کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں کا ماننا ہے کہ جدید کاری کے نام پر قوانین کو سخت کرنا اور امداد کی فراہمی میں لیت و لعل کرنا ریاست کے اقلیتی تعلیمی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے۔
