فوٹو بہ شکریہ ایکس ہینڈل یوگی آدتیہ ناتھ
رپورٹ: روایت
اترپردیش حکومت نے ریاست کے تمام مدارس میں اساتذہ، عملے اور طلبہ کے لیے آدھار سے منسلک بائیو میٹرک حاضری کا نظام لازمی قرار دے دیا ہے۔ سرکاری احکامات کے تحت اب ان اداروں میں ہر فرد کی موجودگی کا اندراج صرف ڈیجیٹل طریقے سے کیا جائے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ تعلیمی نظام میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ صرف انہی افراد کی حاضری شمار ہو جو واقعی ادارے میں موجود ہوں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ اقدام ان شکایات کے بعد اٹھایا گیا جن میں پلاسٹک کارڈز کے استعمال یا متعلقہ افراد کے بجائے ان کے اہل خانہ کے ذریعے حاضری لگوانے کے کیسز سامنے آئے تھے۔ حکام نے ان تمام مدارس کو فوری طور پر درکار تکنیکی آلات نصب کرنے کی ہدایت دی ہے جو اب تک اس سہولت سے محروم ہیں، اور ریاستی عہدیداران اس پورے عمل کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، مدارس سے وابستہ افراد اور تعلیمی ماہرین نے حکومتی ترجیحات پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان حلقوں کا موقف ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کی بار بار چیکنگ اور ان پر مسلسل نئے ضوابط کا نفاذ تعلیمی بہتری کے بجائے انتظامی ہراسانی کا تاثر پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر ریاستی حکومت مدارس میں تعلیم کا معیار بلند کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اس کی ترجیح بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی اور ماہر اساتذہ کی باقاعدہ تقرری ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس، ریاستی مشینری کی تمام تر توانائیاں محض نگرانی کے نظام کو سخت کرنے اور اداروں کو دباؤ میں رکھنے پر صرف ہو رہی ہیں۔ مدارس انتظامیہ کا ماننا ہے کہ شفافیت ایک مثبت عمل ہے، لیکن بنیادی تعلیمی سہولیات کو نظر انداز کر کے محض ڈیجیٹل حاضری اور نت نئی پابندیوں سے تعلیمی اداروں کے اصل مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
