فائل فوٹو: بارپیٹا کے ایک مدرسے کے طلباء کی تصویر
غالب شمس
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام کے دیہی علاقوں کا سفر کریں، تو آپ کو اسکولوں کی کئی ایسی عمارتیں نظر آئیں گی جن کے سائن بورڈز پر کبھی ‘مدرسہ’ کا لفظ درج تھا۔ آج ان میں سے بیشتر بورڈز ہٹا دیے گئے ہیں، نام تبدیل ہو چکے ہیں، اور سرکاری ریکارڈ میں ان کی شناخت بدلی جا چکی ہے۔ چند برس قبل، آسام حکومت نے 1,281 سرکاری امداد یافتہ مدارس کو ‘مڈل انگلش (ME) اسکولوں’ میں تبدیل کر دیا تھا۔ حکومت نے اس اقدام کو نظامِ تعلیم کو معیاری بنانے کی ایک کوشش قرار دیا، مگر مسلم اکثریتی اضلاع میں اسے ایک انتظامی اصلاح سے بڑھ کر دیکھا گیا۔ کئی خاندانوں، اساتذہ اور طلبہ کے نزدیک یہ فیصلہ ان اداروں کی شناخت، تاریخ اور مقاصد میں ایک بڑی اور بنیادی تبدیلی کی علامت تھا۔
اس فیصلے کے اثرات سمجھنے کے لیے ہم نے آسام کے ان کئی اسکولوں کا دورہ کیا جو پہلے مدارس تھے۔ سرکاری دستاویزات اور سیاسی بحثوں سے ہٹ کر، ہم نے کلاس رومز میں وقت گزارا، اس تبدیلی کا براہِ راست تجربہ کرنے والے اساتذہ سے بات کی، اور ان طلبہ کی آراء سنیں جو اس نظام کا حصہ رہے ہیں۔ ہمارا بنیادی سوال تھا: مدارس کے اسکولوں میں تبدیل ہونے کے بعد ان اداروں کے اندر کیا بدلا، اور کیا ان کے نام اور سرکاری حیثیت بدلنے کے علاوہ بھی ان کا کوئی تہذیبی و تعلیمی اثاثہ چھن گیا؟
ضلع بارپیٹا میں واقع ‘بردالونی سسرا سینیئر مدرسہ’ اب عام سرکاری اسکول ہے۔ 15 سالہ طالب علم عمر (شناخت چھپانے کے لیے فرضی نام) اس تبدیلی کو نصاب یا انتظامیہ کی تبدیلی سے کچھ زیادہ سمجھتا ہے۔
”پہلے ہم یہاں اس لیے آتے تھے کہ ہمیں سائنس جیسے عصری علوم کے ساتھ مذہبی و اخلاقی تربیت بھی حاصل ہوتی تھی،” اس نے بتایا۔ “اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ کتابیں اور سلیبس تو وہی ہیں جو دوسرے سرکاری اسکولوں میں رائج ہیں، لیکن وہ تربیت اور وہ تشخص جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے یہ زمینیں وقف کی تھیں، ختم ہو چکا ہے۔ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی اجنبی جگہ پڑھ رہے ہیں۔”
عمر کا یہ بیان آسام کی مسلم کمیونٹی میں جاری ایک وسیع بحث کی عکاسی کرتا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد میں مدارس وقف زمینوں یا مقامی لوگوں کی عطیہ کردہ زمینوں پر اس نیت سے قائم کیے گئے تھے کہ جدید اور روایتی علوم کا امتزاج برقرار رہے۔ مقامی تعلیمی کارکنوں کے مطابق، اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور دور افتادہ علاقوں کے بچوں پر پڑا ہے، جو خاص طور پر اس دوہرے نظام کی وجہ سے ان اداروں کا رخ کرتے تھے۔ اب کچھ طلبہ نے تعلیم کے متبادل ذرائع تلاش کر لیے ہیں، جبکہ دیگر تعلیمی نظام سے مکمل طور پر باہر ہو چکے ہیں۔
مسلم طالبات پر اثرات
اس ساختی تبدیلی کا سب سے سنگین اثر آسام کے مسلم اکثریتی ریتیلے جزیروں (چار) کی طالبات پر پڑا ہے۔ بارپیٹا کے ایک دور افتادہ گاؤں کی 13 سالہ طالبہ زینب (فرضی نام) کے والد، جو برہم پتر کے کنارے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں، اب اپنی بیٹی کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی، “ہم نے اسے مدرسے اس لیے بھیجا تھا کہ وہ عصری تعلیم کے ساتھ قرآن اور اسلامی فقہ کی بنیادی سمجھ حاصل کر سکے۔ اب چونکہ وہ تعلیمی تشخص ختم کر دیا گیا ہے، تو ہم اسے ایک عام اسکول بھیجنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔”
کم آمدنی والے غریب مسلم خاندانوں کے لیے، یہ مدارس تعلیمی ادارے ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی تحفظ کے مراکز بھی تھے، جہاں وہ محسوس کرتے تھے کہ ان کی بیٹیوں کی مذہبی شناخت کا احترام کیا جائے گا۔ مقامی اساتذہ کے مطابق، مدارس کی بندش اور ان کی تبدیلی سے تعلیم چھوڑنے والی مسلم طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
اساتذہ اسکول کے ‘یونیفارم کوڈ’ کی سخت پابندی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اسکولوں میں نقاب یا حجاب پہننے کو قواعد کی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے، جس کے باعث مذہبی گھرانے اپنی بچیوں کو اسکولوں سے نکال رہے ہیں۔ مزید برآں روایتی مدارس کے معمولات، جن میں مخصوص اوقاتِ کار، ترانے اور دعائیہ کلمات شامل تھے، ختم کر دیے گئے ہیں۔
یہ خدشات انٹرنیشنل پینل آف انڈیپنڈنٹ ایکسپرٹس (PIIE) کی رپورٹ میں بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے صفحہ 325 کے مطابق، آسام کے سرکاری مدارس کی بندش نے براہِ راست تقریباً 98,000 طلبہ کو متاثر کیا، جن میں بھاری اکثریت لڑکیوں کی ہے۔ رپورٹ ان حالات کا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تناظر میں جائزہ لیتی ہے۔
مذہبی تعلیم کے خاتمے کا سب سے غیر متناسب اثر مسلم لڑکیوں پر پڑا ہے۔ رپورٹ دلیل دیتی ہے کہ قدامت پسند گھرانوں میں، ثقافتی اور مذہبی طور پر قابلِ قبول تعلیمی ماحول کی عدم موجودگی کے باعث، لڑکیوں کو اسکول سے نکالے جانے کے امکانات لڑکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
پی آئی آئی ای کا تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ نتائج بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات، خاص طور پر خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن (CEDAW) اور بچوں کے حقوق کے کنونشن (CRC) کے تحت مساوی تعلیم کے حق پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت ریاستیں پابند ہیں کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل ثقافتی، معاشی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تعلیمی پالیسیاں ان کے تعلیمی اخراج کا سبب نہ بنیں۔
تعلیمی ڈھانچے کی تشکیلِ نو پر بحث
گوالپارہ ضلع کے ڈھکالیا پارا میں ایک سرکاری مدرسے (موجودہ سرکاری اسکول) کے بانی اور سابق ہائی اسکول ٹیچر صدیق حسن نے اس تبدیلی کے عمل میں انتظامیہ کے یکطرفہ رویے پر تنقید کی۔
”جب اس مدرسے کو اسکول میں بدلا گیا تو پورا گاؤں صدمے میں تھا،” انہوں نے کہا۔ “پورے گاؤں کے لوگوں نے متحد ہو کر ڈپٹی کمشنر اور مقامی ایم ایل اے کو دستخط شدہ عرضداشت جمع کرائی کہ مدرسے کو بند نہ کیا جائے۔ لیکن حکام نے ہمارے تحفظات پر کوئی توجہ نہیں دی۔”
حسن نے ان اداروں کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو بھی چیلنج کیا۔ انہوں نے اس ریاستی بیانیے کی تردید کی کہ سرکاری مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی تھی۔
”یہ سرکاری مدارس تھے،” انہوں نے واضح کیا۔ “عربی اور اسلامیات کے ساتھ، طلبہ کو دیگر پبلک اسکولوں کی طرح مکمل سرکاری نصاب بھی پڑھایا جاتا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بچے اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے جدید تعلیم بھی حاصل کریں۔” ان کے مطابق اسکولوں میں تبدیلی نے اس ماڈل کو تباہ کر دیا۔
گوالپارہ ضلع کے ایک سابق سرکاری مدرسے (جو اب ایم ای اسکول ہے) کے ایک سینئر استاد نے اس منتقلی کو “نام بدلنے کی کارروائی” قرار دیا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مدارس کے تعلیمی ماڈل کو بہتر بنانے یا مضبوط کرنے کے بجائے ان کی مذہبی شناخت ختم کر دی ہے۔
”باہر سے دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ ایک بڑی تعلیمی اصلاح ہوئی ہے،” انہوں نے کہا۔ “حقیقت یہ ہے کہ عمارت وہی ہے، کلاس رومز وہی ہیں، اور زیادہ تر اساتذہ بھی وہی ہیں۔ بنیادی تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ ادارے کو نیا نام دے دیا گیا ہے اور مذہبی تعلیم کو نصاب سے نکال دیا گیا ہے۔”
استاد کے مطابق، اگر حکومت کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا تھا، تو وہ اس کے تشخص کو مٹانے کے بجائے موجودہ مدرسہ ماڈل کو جدید اور مضبوط کر سکتی تھی۔
”یہاں پہلے ہی ریاضی، سائنس، انگریزی اور ریاستی نصاب پڑھایا جا رہا تھا،” انہوں نے بتایا۔ “طلبہ مذہبی علوم کے ساتھ جدید تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اگر حکومت سنسکرت اداروں میں سرمایہ کاری کر کے انہیں خصوصی تعلیمی اور تحقیقی مراکز میں اپ گریڈ کر سکتی ہے، تو مدارس کے لیے بھی یہی طرزِ عمل اپنایا جا سکتا تھا۔ اس کے بجائے، صرف مذہبی عنصر کو ختم کر دیا گیا۔”
اس پالیسی پر تنقید کرنے والوں کے نزدیک یہ فرق بحث کا مرکز ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ عصری مضامین پڑھائے جا رہے تھے یا نہیں، بلکہ یہ تھا کہ کیا وسیع تر اصلاحات کے ساتھ ساتھ ایک ایسا تعلیمی ماڈل برقرار رکھا جا سکتا تھا جو دنیاوی اور مذہبی تعلیم کو یکجا کرتا ہو۔
استاد نے مزید کہا کہ اس تبدیلی نے مسلم والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
”پہلے والدین مطمئن ہوتے تھے کہ بچہ دین اور دنیا دونوں سیکھ رہا ہے،” انہوں نے کہا۔ “اب انہیں لگتا ہے کہ مدرسے کی روح ختم ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے کئی بچے، خاص طور پر لڑکیاں، واپس نہیں آئیں۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس پالیسی سے مسلم اساتذہ میں بھی یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ رسمی تعلیمی نظام سے ان کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے۔
”ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف تعلیم کا نہیں، بلکہ شناخت کا بھی ہے،” انہوں نے کہا۔ “اگر واقعی مقصد جدید کاری (Modernisation) ہوتا، تو مدارس کو شناخت سے محروم کرنے کے بجائے انہیں مضبوط اور بہتر بنایا جاتا۔”
ایسی ہی تشویش کا اظہار سابق آرمی آفیسر اور آسام کی بنگالی مسلم کمیونٹی کے فرد، فیضان الحق نے کیا۔ انہوں نے اس تبدیلی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “اگر حکومت کا مقصد واقعی مسلمانوں میں جدید تعلیم کا فروغ تھا، تو وہ دہائیوں سے اس کمیونٹی کی خدمت کرنے والے اداروں کو ختم کرنے کے بجائے بہتر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرتی اور اساتذہ کو زیادہ سہولیات فراہم کرتی۔”
گوالپارہ کے ‘کٹاری ہارا ہائی اسکول’ کی طالبات نے بھی بتایا کہ حالیہ انتظامی اقدامات سے معیارِ تعلیم میں کوئی بہتری نہیں آئی، بلکہ اس کے برعکس انتظامی سختیوں نے طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے، جس سے اس پالیسی کے طویل مدتی اثرات پر سوالات اٹھتے ہیں۔
مساوات کے سوالات
ناقدین کا کہنا ہے کہ آسام حکومت کی یہ پالیسی تعلیمی اصلاحات میں تسلسل اور مساوی سلوک پر اہم سوالات اٹھاتی ہے۔
PIIE کی رپورٹ (صفحہ 87) کے مطابق، آسام حکومت نے 2021 میں قانون نافذ کر کے 620 سرکاری امداد یافتہ مدارس کو بند کیا اور انہیں کسی بھی مذہبی جزو کے بغیر عام اسکولوں میں تبدیل کر دیا۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اسی عرصے کے دوران حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے 97 سنسکرت اداروں کو اپ گریڈ کیا گیا، ایک ایسا تضاد جو مصنفین کے مطابق مختلف تعلیمی روایات کے ساتھ غیر مساوی سلوک کی تشویش کو نمایاں کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پالیسی سرکاری امداد یافتہ مدارس سے آگے بڑھ کر نجی اسلامی تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی تک پھیل چکی ہے۔ مارچ 2023 میں وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا شرما نے ریاست کے تمام مدارس کو مکمل طور پر بند کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔
پی آئی آئی ای کے مطابق، یہ پیش رفت اس سرکاری بیانیے پر سوالیہ نشان لگاتی ہے جس میں اس پالیسی کو خالصتاً ‘تعلیمی جدید کاری کا اقدام’ کہا گیا تھا۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات مسلم تعلیمی اداروں کے خلاف غیر مساوی سلوک اور بالواسطہ امتیازی رویے کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں درج ہے کہ ایسی پالیسیوں کو ‘نسلی امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن’ (ICERD) کے مساوات اور عدم امتیاز کے اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے، جو نسل، نسلیات، یا مذہب کی بنیاد پر امتیازی پالیسیوں کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔
ثقافتی تشخص کے حوالے سے خدشات
تعلیمی اداروں کی اس تبدیلی کے اثرات کلاس روم سے باہر دھوبری ضلع کے آنند نگر اور بین سار جیسے علاقوں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مقامی عالمِ دین مولانا عبد الماجد کے بقول: اس اقدام نے برسوں پرانے سماجی تعلقات کو متاثر کیا ہے اور عدم تحفظ کی ایک ایسی فضا پیدا کی ہے جس سے مسلم اور ہندو باشندوں کے مابین تعلقات پر اثر پڑ رہا ہے۔
مولانا ماجد کے مطابق، یہ بے چینی اساتذہ میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک مقامی ماہرِ تعلیم نے پیشہ ورانہ نتائج کے خوف سے نام مخفی رکھنے کی شرط پر حالیہ بھرتی پالیسیوں کے طویل مدتی مضمرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
”جب تک اساتذہ کی پرانی نسل سروس میں موجود ہے، آپ کو یہاں ایسے افراد نظر آتے رہیں گے جو اس کمیونٹی کی ثقافتی روایات کی عکاسی کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔ “لیکن بھرتی کے نئے قواعد اس قدر سخت اور انتخابی ہو چکے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام سے اقلیتی برادری کی ثقافتی نمائندگی بتدریج ختم ہو سکتی ہے۔ ان کی جگہ وہ لوگ لے سکتے ہیں جن کا اس سماجی اور ثقافتی پس منظر سے کوئی تعلق نہیں جس کی خدمت کے لیے یہ اسکول ابتدا میں قائم کیے گئے تھے۔”
فیلڈ رپورٹنگ کے دوران ایک بات تواتر کے ساتھ سامنے آئی، وہ اساتذہ اور سماجی کارکنوں کا کھل کر بات کرنے سے گریز تھا۔ کئی افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی اور حکومتی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے خوف اور احتیاط کے ماحول کا ذکر کیا۔
ایک سماجی کارکن نے دھیمی آواز میں بتایا، “لوگوں کو ڈر ہے کہ اگر حکام کو معلوم ہو گیا کہ وہ زمینی حقائق شیئر کر رہے ہیں، تو اس کے نتائج ہو سکتے ہیں۔ اساتذہ اکثر اپنی نوکریوں کو بچانے کے لیے خاموش رہنے کا دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ کئی لوگوں کو شہریت سے متعلق تنازعات یا انتظامی جانچ پڑتال میں الجھائے جانے کا بھی خوف ہے۔”
یہ خوف حقیقی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں یا متاثرہ کمیونٹی کے تصورات کی پیداوار، یہ ایک بحث طلب مسئلہ ہے۔ اساتذہ اور مقامی لوگوں کی طرف سے ظاہر کی جانے والی یہ وسیع تشویش واضح کرتی ہے کہ آسام میں تعلیمی اصلاحات کی بحث کس حد تک شناخت، نمائندگی اور تحفظ کے سوالات سے جڑ چکی ہے۔
پی آئی آئی ای اپنی رپورٹ کے صفحات 145-146 پر ان پیش رفتوں کو مسلمانوں کی “سماجی اور تعلیمی موجودگی کو مشکوک بنانے” (Securitising Muslim social and educational presence) کے عمل کا حصہ قرار دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ اثرات رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ثقافتی اظہار کو بھی متاثر کرتے ہیں، بالخصوص آسام کے بنگالی نژاد مسلم کمیونٹی، جسے اکثر ‘میاں’ مسلمان کہا جاتا ہے۔ رپورٹ کئی مثالوں کا حوالہ دیتی ہے، جن میں گوالپارہ میں نجی طور پر چلنے والے ‘میاں میوزیم’ کو افتتاح کے چند دن بعد سیل کرنا، منتظمین کی انسدادِ دہشت گردی قانون (UAPA) کے تحت گرفتاری، اور میاں زبان و ثقافت کو ‘غیر ملکی’ قرار دینے والے عوامی بیانات شامل ہیں۔
رپورٹ دلیل دیتی ہے کہ ان واقعات کو مدارس اور دیگر مسلم اداروں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا چاہیے، جو تعلیمی اور ثقافتی دونوں محاذوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی یہ خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ مئی 2025 میں جاری ہونے والے اپنے ‘ارلی وارننگ اور ارجنٹ ایکشن خط’ میں، اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی (CERD) نے آسام میں بنگالی نژاد مسلم کمیونٹی کے مذہبی اسکولوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے متنبہ کیا کہ ایسے اقدامات کے تعلیمی رسائی، خاص طور پر ریاست میں بنگالی نژاد مسلم لڑکیوں پر، منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
”یہ صرف تعلیمی اصلاح نہیں ہے”
آل آسام تنظیم مدارس قومیہ کے جنرل سیکریٹری اور جمعیۃ علماء آسام کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری، عبد القادر قاسمی، مدارس کی تبدیلی کو ایک سادہ تعلیمی اصلاح ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
”یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے،” انہوں نے کہا۔ “انتخابی مہمات کے دوران مدارس کے گرد کافی بیان بازی کی گئی۔ اب جبکہ انتخابات ختم ہو چکے ہیں، یہ بحث عوامی مباحثے سے بڑی حد تک غائب ہو گئی ہے۔”
قاسمی نے ،عع کیا کہ مدارس کے بارے میں عوامی تاثر ان بیانیوں کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے جو انہیں قومی تعلیمی دھارے سے باہر کے ادارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں، یہ خاکہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت نجی مدارس کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے، تو انہوں نے پراعتماد انداز میں جواب دیا۔
”یہ ممکن نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔ “مدارس کا وجود حکوم، غت پر منحصر نہیں ہے۔ وہ انہیں اتنی آسانی سے ختم نہیں کر سکتے۔” انہوں نے مزید دلیل دی کہ پرائیویٹ مدارس کو محدود یا بند کرنے کی کسی بھی کوشش کو پورے آسام میں سخت قانونی چیلنجز اور سماجی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قاسمی نے مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر اس پالیسی کے اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، سرکاری مدارس کے عام اسکولوں میں تبدیل ہونے کے بعد بہت سے خاندانوں نے اپنی بیٹیوں کو ان اداروں میں بھیجنا بند کر دیا ہے۔
”ان اداروں کے اسکول بننے کے بعد بہت سی لڑکیاں واپس نہیں آئیں،” انہوں نے کہا۔ “بڑی تعداد میں والدین اب اپنی بیٹیوں کو گھروں میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مدرسے کا ماحول زیادہ محفوظ اور ان کی مذہبی اقدار سے ہم آہنگ تھا۔”
مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، قاسمی نے کہا کہ مذہبی تعلیمی اداروں کو آئینِ ہند کے فریم ورک اور اسلامی شریعت، دونوں کے دائرے میں کام کرنا چاہیے۔
”ہم شریعت کے تقاضوں کی پیروی کے ساتھ ساتھ آئینِ ہند کا احترام کرنے کے پابند ہیں،” انہوں نے کہا۔ “ان دونوں کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہے۔ اگر ہمارے اداروں کو غیر منصفانہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو ہم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ہمیں عدلیہ پر بھروسہ ہے۔”
قاسمی اور اس پالیسی کی مخالفت کرنے والے دیگر افراد کے نزدیک، یہ بحث تعلیمی انتظام سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ان اداروں کے مستقبل کے بارے میں ہے جنہیں وہ آسام کی مسلم کمیونٹی کی مذہبی، ثقافتی اور سماجی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔
آسام کی مدرسہ تبدیلی پالیسی کے ناقدین کا استدلال ہے کہ 1,281 سرکاری مدارس کی عام اسکولوں میں منتقلی کو صرف ایک تعلیمی اصلاح نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے نزدیک، یہ ایک وسیع تر سماجی تشکیل (Social Engineering) کا حصہ ہے جس نے ایک بڑی اقلیتی برادری کے مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی اداروں کو کمزور کر دیا ہے۔
ریاستی حکام نے کئی ایسے قانونی اور انتظامی اقدامات کا سہارا لیا ہے جنہیں بظاہر ریگولیٹری یا ترقیاتی اقدامات کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن درحقیقت انہوں نے مسلم آبادی کے لیے تعلیم، فلاحی پروگراموں، ثقافتی اظہار، روزگار کے مواقع اور عوامی زندگی کے دیگر پہلوؤں تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔
ناقدین مزید دلیل دیتے ہیں کہ یہ اقدامات چنندہ طور پر نافذ کیے گئے ہیں اور ان کا ریاست کی ایک مذہبی اور لسانی اقلیت، یعنی بنگالی نژاد مسلمانوں پر غیر متناسب اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کے مجموعی اثرات نے کمیونٹی کی اس صلاحیت کو مجروح کیا ہے کہ وہ دیگر گروہوں کے ساتھ مساوی بنیادوں پر اپنی تعلیمی روایات، ثقافتی اداروں اور اجتماعی سماجی زندگی کو محفوظ رکھ سکے۔
مختلف رپورٹس میں حوالہ دیے گئے انسانی حقوق کے کارکنان اور بین الاقوامی مبصرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ نتائج بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں، بشمول ‘معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن’ (ICESCR) اور ‘نسلی امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن’ (ICERD) کے تحت بھارت کی ذمہ داریوں سے متصادم ہو سکتے ہیں۔ یہ فریم ورکس ریاستوں کو پابند کرتے ہیں کہ وہ مساوات کو یقینی بنائیں، امتیازی سلوک کی روک تھام کریں، اور اقلیتی برادریوں کے ثقافتی و تعلیمی حقوق کا تحفظ کریں۔
اس پالیسی کی مخالفت کرنے والوں کے لیے بنیادی مسئلہ اسکولوں کی تشکیلِ نو کا نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ عمل جسے انتظامی جدید کاری کے طور پر پیش کیا گیا، درحقیقت ایک پسماندہ کمیونٹی کی ثقافتی اور تعلیمی شناخت کے ایک اہم عنصر کو مٹانے کا سبب بنا ہے۔
آسام کی تعلیمی اصلاحات کی زمینی حقیقت
آسام میں سرکاری امداد یافتہ مدارس کو عام اسکولوں میں تبدیل کرنے کی پالیسی نے ناقدین اور مقامی اساتذہ کے مطابق زمینی سطح پر سنگین ادارہ جاتی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ بارپیٹا ضلع کے دورے کے دوران ہم نے دیکھا کہ دو سابقہ مدارس منتقلی کے بعد بڑی حد تک غیر فعال ہو چکے ہیں۔ ایک متروکہ اسکول کی عمارت اس حد تک بے کار ہو چکی تھی کہ مقامی باشندے اسے غیر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
اساتذہ اور کمیونٹی ارکان کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ اہل عملے کی کمی ہے۔ منتقلی کے بعد کئی اداروں میں انگریزی اور دیگر عصری مضامین کے اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں، جبکہ باقی ماندہ اساتذہ میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو بنیادی طور پر مذہبی مضامین پڑھانے کے لیے بھرتی کیے گئے تھے۔ نتیجتاً، ایسے اساتذہ جن کے پاس ان مضامین کی باقاعدہ تربیت نہیں ہے، انہیں اپنی مہارت کے دائرے سے باہر کے مضامین پڑھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ اور مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ عملے کے اس عدم توازن نے تعلیمی معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے اور تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے حکومتی دعوے کو مجروح کیا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تبدیل کیے گئے 1,281 مدارس میں سے کئی اب سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور بعض صورتوں میں پہلے سے بھی زیادہ کمزور پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ ان میں سے کئی اسکولوں میں طلبہ کے داخلے کی شرح میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ بعض صورتوں میں طلبہ کی تعداد اس قدر کم ہو گئی کہ حکام نے انہیں قریبی اسکولوں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا۔
آسام کے ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری ایجوکیشن (DEE) کی جانب سے جنوری 2026 میں جاری کردہ ایک حکم نامے کے مطابق، ریاست کے مختلف اضلاع میں 91 لوئر پرائمری (LP) اور مڈل انگلش (ME) اسکولوں کو انضمام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ یہ آسام کے تعلیمی نظام میں ایک وسیع تر رجحان کا حصہ تھا۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران، ریاست بھر میں پرائمری سے لے کر سیکنڈری سطح تک کے کل 2,980 اسکولوں کو ضم کیا گیا ہے۔ ان میں سے 21 اضلاع کے 206 سیکنڈری اسکولوں کو قریبی ہائی، ہائر سیکنڈری، یا سینیئر سیکنڈری اسکولوں میں ضم کیا گیا، جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری ایجوکیشن کے تحت 2,774 پرائمری اسکولوں کا انضمام عمل میں لایا گیا۔
یہ رپورٹ انگریزی میں بیونڈ ہیڈ لائنس پر شائع ہوئی ہے۔
This story was produced in partnership with the Human Rights and Religious Freedom Journalism Grant Program
