تصویر: فائل/علامتی (AI Generated)
ارسلان صدیقی
نئی دہلی | روایت نیوز ڈیسک
جنوبی بھارت کی ریاست کیرالہ کے ضلع کوزیکوڈ میں مدرسہ کے طلبہ پر مبینہ تشدد اور فرقہ وارانہ حملے کا ایک سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ریاست کے پرامن ماحول اور اقلیتوں کے تحفظ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پیرامبرا کے قصبے میں پیش آنے والے اس واقعے میں متاثرہ طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں نہ صرف جسمانی طور پر زدوکوب کیا گیا بلکہ شدید “اسلاموفوبک” گالیاں دیتے ہوئے ان کی مذہبی شناخت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب طلبہ ایک جائیداد کے مالک سے باقاعدہ اجازت لینے کے بعد وہاں پوسٹر لگا رہے تھے۔ شام کے وقت جب طلبہ اپنا کام مکمل کر کے واپس پہنچے تو صورتحال اچانک کشیدہ ہوگئی۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ شرپسندوں کے ایک گروہ نے انہیں زبردستی ایک قریبی مکان میں محصور کر دیا، جہاں ان سے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، اسرائیل، ایران، افغانستان اور شام کی جنگوں کے حوالے سے جارحانہ اور فرقہ وارانہ نوعیت کے سوالات کیے گئے۔ متاثرہ طلبہ کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ان عالمی معاملات پر جواب دیں جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
تشدد کی شدت اس وقت بڑھی جب طلبہ نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ حملہ آوروں نے دروازے بند کر کے طلبہ کو لاتوں، گھونسوں اور لوہے کی سلاخوں سے نشانہ بنایا۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پیچھا کرتے ہوئے انہیں “دہشت گرد” جیسے تضحیک آمیز الفاظ سے پکارا، جو بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کا ایک تسلیم شدہ حصہ بن چکے ہیں۔ زخمی طلبہ کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم حالت بگڑنے پر انہیں کوزیکوڈ میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اس واقعے کے بعد مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) سمیت مختلف طلبہ تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے رویے پر سخت تنقید کی ہے۔ تنظیموں کا موقف ہے کہ حملے کے پیچھے منظم فرقہ وارانہ سوچ کارفرما ہے اور ملوث افراد مبینہ طور پر ہندوتوا نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ شکایت کے باوجود اب تک باقاعدہ مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملزمان کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو پوری ریاست میں احتجاجی مہم شروع کی جائے گی۔
کیرالہ، جسے روایتی طور پر مذہبی ہم آہنگی اور سماجی ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے اس طرح کے واقعات نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معمولی پوسٹر لگانے کے تنازع کا فرقہ وارانہ تشدد میں بدل جانا اس گہری پولرائزیشن کی عکاسی کرتا ہے جو اب بھارت کی ترقی یافتہ ریاستوں میں بھی جڑیں پکڑ رہی ہے۔
