فوٹو بشکریہ : غآلب شمس
“ہماری سب سے بڑی غلطی بس یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں،”
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ضلع گوالپارہ میں، جلیشور پیر باری کے ملبے پر کھڑے مزدور قاسم (فرضی نام) کا یہ جملہ اس وحشت کا خلاصہ ہے جو آج آسام کے لاکھوں مسلمانوں کا مقدر بن چکی ہے۔ قاسم کے لیے ‘اسلاموفوبیا’ وہ پیلا بلڈوزر ہے جس نے اس کی زندگی بھر کی کمائی کو چند لمحوں میں خاک میں ملا دیا۔ گوالپارہ سے دھوبری تک کے ریتیلے جزیروں (چپو) پر بسنے والے مسلمانوں کی بستیوں میں آج ایک ایسی انجانی دہشت کا راج ہے جس کی جڑیں ریاست کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
اس ایک غریب مزدور کی کہانی بھارت کے اس حصے میں بسنے والے ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں کا المیہ ہے، جہاں ان کی شہریت، زمین اور وقار کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
آسام میں اسلاموفوبیا ایک باقاعدہ ‘ریاستی اسلاموفوبیا’ (State Islamophobia) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کا آغاز اس بیانیے سے ہوتا ہے جو براہِ راست ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے سے صادر ہو رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے حالیہ برسوں میں اپنے بیانات کے ذریعے ایک ایسی فضا قائم کر دی ہے جہاں ایک مخصوص مذہبی برادری کو ‘وجود کا خطرہ’ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
27 جنوری 2026 کو آسام کے ضلع تنسکھیا (Tinsukia) میں ایک عوامی خطاب کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے جو بیانات دیے، وہ جدید جمہوری تاریخ میں کسی منتخب نمائندے کی طرف سے مذہبی اقلیت کے خلاف نفرت کا سب سے واضح اعتراف ہیں۔ انہوں نے کھلے عام کہا:
“کانگریس مجھے جتنا چاہے گالی دے۔ میرا کام میاں لوگوں (بنگالی مسلمانوں) کو تکلیف پہنچانا ہے… جو بھی جس طرح سے انہیں کوئی تکلیف دے سکتا ہے، اسے دینی چاہیے۔”
میری ملاقات صادق علی سے ہوئی، جو ایک پرانے سے ٹھیلے پر چکن بریانی بیچتے ہیں۔ ان سے جب وزیراعلی کے اس بیان کے بارے میں پوچھا، تو اس کا کہنا تھا کہ ” ہم ہندوستانی ہیں، ہمارا نگرانی کرنے والا اور ہمارا راجا ( وزیر اعلیٰ) ہیمنت بسوا ہے، لیکن جب وہ بھی ہم کو گالی دے گا، ہمارا نقصان کرنا چاہے گا، تو ہم پھر کیا کریں گے ، کون ہمیں بچائے گا، وہ تو بڑا آدمی ہے، جب وہ کہے گا کہ ہمیں تکلیف دو، تو چھوٹے لوگ تو ہمیں مارنے ہی دوڑیں گے۔ اب آپ ہی بتائیں، ہمیں کون بچائے گا؟”
انہوں نے معاشی امتیاز کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے عوام سے کہا:
“اگر رکشہ کا کرایہ 5 روپے ہے، تو انہیں 4 روپے دیں۔ جب انہیں معاشی مشکلات اور تکلیفوں کا سامنا ہوگا، تب ہی وہ آسام چھوڑیں گے۔ ہیمنت بسوا شرما اور بی جے پی براہِ راست میاں لوگوں کے خلاف ہیں۔”
ان کا یہ بیانیہ صرف معیشت تک محدود نہیں رہا، انہوں نے آگے بڑھ کر مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے دخل کرنے کا منصوبہ بھی واضح کیا۔ اسی پروگرام میں انہوں نے اعلان کیا کہ جاری انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کے دوران “چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹروں” کے نام کاٹ دیے جائیں گے کیونکہ اصولی طور پر انہیں آسام میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ (انڈیا ٹوڈے، دی وائر اور مکتوب، جنوری 2026)۔
جب ریاست خود معاشی امتیاز کی حوصلہ افزائی کرے، تو معاشرے میں نفرت کا زہر قانونی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
انتخابی فہرستوں سے اخراج کا منصوبہ:
آسام میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر مفلوج کرنے کے لیے ‘فارم-7’ کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ فارم ہے جس کے ذریعے کسی بھی ووٹر کے نام پر اعتراض کر کے اسے فہرست سے خارج کرنے کی درخواست دی جاتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے جنوری 2026 میں ڈگبوئی اور گوہاٹی میں کھلے عام اعتراف کیا کہ یہ مہم ایک منظم سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ “چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹروں” کو نشانہ بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعلیٰ کا یہ بیان جدید جمہوری تاریخ میں کسی منتخب سربراہ کی جانب سے اپنی ہی ریاست کے شہریوں کے خلاف ‘سول وار’ کے اعلان جیسا ہے:
“آسام میں بنگلہ دیشی ’میا‘ موجود ہیں۔ میں نے بی جے پی کارکنوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کے دوران ان کے خلاف بڑی تعداد میں ‘فارم-7’ (اعتراضات) داخل کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ تھوڑا ادھر ادھر بھاگیں اور پریشان ہوں۔ اصولی طور پر انہیں آسام میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، انہیں بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنا چاہیے۔” (دی اکنامک ٹائمز، انڈیا ٹوڈے، جنوری 2026)
یہ بیان ریاستی مشینری کو ایک مخصوص برادری کے خلاف متحرک کرنے کا حکم نامہ ہے۔ جب ریاست کا سب سے بڑا عہدہ دار خود ‘بلک ابجیکشنز’ (بڑی تعداد میں اعتراضات) کی حوصلہ افزائی کرے، تو اس کا نتیجہ ‘منظم سیاسی بیخ کنی’ کی شکل میں نکلتا ہے۔
ریاست میں پہلے ہی 93,021 افراد کو ‘مشکوک ووٹر’ (D-Voters) کے نام نہاد لیبل تلے غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اب لاکھوں مزید شہریوں کو قانونی الجھنوں اور نوٹسوں کے ذریعے ہراساں کرنے کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ آسام میں شہریت اور ووٹ کا حق اب آئینی ضمانت نہیں، بلکہ سیاسی انتقام کا ذریعہ بن چکا ہے۔
سازشی نظریات اور ‘جہاد’ کی نئی جہتیں
آسام میں مسلمانوں کو نشانے پر رکھنے کے لیے ‘جہاد’ کی اصطلاح کو غیر معمولی وسعت دی گئی ہے۔ ‘لو جہاد’ اور ‘لینڈ جہاد’ جیسے پرانے ہتھیاروں کے بعد اب ‘فرٹیلائزر جہاد’ (Fertilizer Jihad) اور ‘فلڈ جہاد’ (Flood Jihad) جیسے من گھڑت دعوے سامنے لائے گئے ہیں۔ 19 مئی کو گوہاٹی میں وزیرِ اعلیٰ نے ریاست میں امراضِ قلب اور گردے کی بیماریوں کا ذمہ دار مسلم کسانوں کے ذریعے کھاد کے زیادہ استعمال کو قرار دیا اور اسے ‘فرٹیلائزر جہاد’ کا نام دیا۔ اس کے نتیجے میں سبزی اگانے والے بنگالی مسلم کسانوں کے خلاف ایک ایسی سماجی دشمنی پیدا کی گئی جس کا کوئی سائنسی جواز موجود نہیں تھا۔ ۔
یہ بیانیہ زمینی حقیقت سے کس قدر مختلف ہے، اسے درانگ ضلع کے کھروپیٹیا علاقے کے گاؤں نمبر 4 بارواجھار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں امجد علی کا خاندان کئی نسلوں سے کھیتی کر رہا ہے۔ اس سال انہوں نے ڈھائی ایکڑ زمین پر بھنڈی، کھیرا اور ٹماٹر اگائے۔ وہ سیدھے لفظوں میں کہتے ہیں، “ہم سبزی بیچ کر اپنا گزارہ کرتے ہیں۔”
امجد اکیلے نہیں ہیں۔ وہ کھروپیٹیا–بیچیماری–بلوگاؤں پٹی کے ان ہزاروں کسانوں میں شامل ہیں، جو آسام کی تجارتی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں جب ’فرٹیلائزر جہاد‘ جیسی اصطلاح سامنے آئی تو اس کا براہِ راست اثر انہی کسانوں پر پڑا۔
امجد علی اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں،
“ہماری ہی برادری کے لوگ وہی سبزیاں کھاتے ہیں جو ہم اگاتے اور بیچتے ہیں، پھر یہ ’فرٹیلائزر جہاد‘ کیا ہے؟”
اسی طرح، جون 2022 میں سلچر کے تباہ کن سیلاب کو ‘فلڈ جہاد’ قرار دے کر چار مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بیتھوکنڈی میں براک ندی کے بند کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا، حالانکہ ماہرین اسے انتظامی ناکامی اور قدرتی آفت قرار دے رہے تھے۔
جنوری 2026 میں متعارف کرائی گئی ‘ایجوکیشن جہاد’ (Education Jihad) کی اصطلاح اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جس کے تحت مسلم نوجوانوں کی تعلیمی ترقی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں تک پہنچنے کی خواہش کو بھی آسام کے لیے ایک سازش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ (Northeast Live,
پائیکان اور بے دخلی
اسلاموفوبیا کا سب سے خونریز اور بھیانک چہرہ پائیکان کے جنگلاتی علاقے ‘آشودوبی’ میں نظر آیا۔ 17 جولائی 2025 کی وہ رات آسام کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ بے گھر کیے گئے ہزاروں لوگ، جب اپنے حق کے مطالبہ کرنے سڑک پر نکلے تو پولیس نے ان پر سیدھی گولیاں برسائیں۔ اس فائرنگ میں 19 سالہ سکوار علی کی ہلاکت نے ثابت کیا کہ یہاں انسانی جان کی قیمت مذہبی شناخت سے طے ہوتی ہے۔
آزاد بین الاقوامی ماہرین کے پینل (PIIE) کی رپورٹ اس واقعے کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ یہ قتل ایک ایسی انتظامی کارروائی کے دوران ہوا جہاں کسی مسلح مزاحمت یا جان لیوا خطرے کی کوئی اطلاع نہیں تھی جو مہلک طاقت کے استعمال کا تقاضا کرتی۔ یہ ‘منظم محرومی’ (Systematic Deprivation) دراصل اس اسلاموفوبیا کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا اور انہیں خوفزدہ کرنا ہے۔ (PIIE Report, 2026)۔
دھوبری: 20 ہزار مسلمانوں کا جبری اخراج
دھوبری ضلع میں اسلاموفوبیا اپنی ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جمعیت علماء کی رپورٹ کے مطابق یہاں 20,000 سے زائد مسلمانوں کو جبراً بے دخل کیا گیا ہے۔ میڈیا کا ایک مخصوص طبقہ ان بھارتی شہریوں کو بار بار ‘بنگلہ دیشی’ اور ‘غیر ملکی’ کہہ کر پکارتا ہے تاکہ عوامی ہمدردی کے جذبات کو ختم کیا جا سکے۔ وزیرِ اعلیٰ نے ان بے دخلیوں کا دفاع کرتے ہوئے اسے “آسامی شناخت کی بقا کی آخری جنگ” قرار دیا ہے اور مقامی لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان بے گھر مسلمانوں کو پناہ نہ دیں۔ (Times Now, Aug 2025)۔
ڈیجیٹل نفرت اور اے آئی (AI) کا استعمال
9 فروری 2026 کو الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، آسام بی جے پی نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ ایک ویڈیو شیئر کی جس کا عنوان “پوائنٹ بلینک شاٹ” (Point Blank Shot) تھا۔ اس ویڈیو میں وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کو رائفل سنبھالے ہوئے دو مسلمان مردوں کی تصاویر پر گولیاں چلاتے دکھایا گیا، جن پر “نو مرسی” (کوئی رحم نہیں) کے الفاظ درج تھے۔ یہ ویڈیو اس ذہنی کیفیت کا اظہار ہے جو مسلمانوں کو شہری کے بجائے ایک ‘ہدف’ (Target) کے طور پر دیکھتی ہے۔ اگرچہ شدید احتجاج کے بعد اسے حذف کر دیا گیا، لیکن اس نے یہ واضح کر دیا کہ حکمران جماعت مسلمانوں کے خلاف کس حد تک پرتشدد بیانیہ تیار کر رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں بھی ایک ایسی ہی ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں آسام پر مسلمانوں کے قبضے کا فرضی خوف دکھایا گیا تھا۔
PIIE کی رپورٹ کے مطابق، آسام میں شہریت کے قوانین کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ آسام میں پولیس ‘مقابلوں’ (encounters) میں ہلاک ہونے والوں میں سے 54 فیصد بنگالی بولنے والے مسلمان ہیں، جبکہ آسام میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی صرف 34.22 فیصد ہے۔ یہ غیر متناسب اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ پولیس کی بندوقوں کا رخ ایک مخصوص کمیونٹی کی طرف ہے۔
سرکاری ڈیٹا کے مطابق، مئی 2021 سے اگست 2022 کے درمیان پولیس مقابلوں میں 1300 فیصد کا ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ریاست میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بدلتے ہوئے جابرانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دستاویزی شکل میں درج ہے کہ 2016 سے اب تک بے دخلی کی مہمات کے دوران ہونے والی تمام 8 ہلاکتیں مسلمانوں کی تھیں۔ ان میں جنوری 2024 میں 55 سالہ بیعت علی کی شدید سردی سے موت اور اگست 2025 میں 19 سالہ حفیظ الرحمن کی عارضی کیمپ میں ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی موت شامل ہے، جو جبری بے دخلی کے بعد ریاست کی جانب سے پناہ اور انسانی سہولیات فراہم نہ کرنے کا براہِ راست نتیجہ تھی۔
انتخابی فہرستوں سے اخراج کا منصوبہ
27 جنوری 2025 کو ڈگبوئی میں وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ انتخابی فہرستوں سے “چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹروں” کے نام کاٹنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے حکم پر ہی مسلمانوں کے خلاف فارم-7 (اعتراضات) داخل کیے جا رہے ہیں تاکہ اس کمیونٹی کے لوگ “تھوڑا ادھر ادھر بھاگیں” اور “پریشان” ہوں۔ ان کا یہ بیان کہ “اصولی طور پر انہیں آسام میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، انہیں بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنا چاہیے،” اس جمہوری عمل کی نفی ہے جس کی بنیاد پر وہ خود منتخب ہوئے ہیں۔ (انڈیا ٹوڈے، دی وائر)۔
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ‘ایذا رسانی’
PIIE کی رپورٹ (صفحہ 165-178) ان تمام کارروائیوں کا بین الاقوامی فوجداری قانون کے تحت تجزیہ کرتی ہے۔ پینل کی رائے میں، آسام میں مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا “انسانیت کے خلاف جرائم” (Crimes against Humanity) کے زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں “ایذا رسانی” (Persecution) اور “نسل پرستانہ علیحدگی” (Apartheid) جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، جو آسام میں مسلمانوں کی حالتِ زار کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ پینل کے مطابق، مسلمانوں کے خلاف طاقت کا غیر متناسب استعمال، جبری بے دخلیاں اور نفرت انگیز تقاریر کسی انفرادی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پیٹرن کا حصہ ہیں۔
جلیشور بیت باری کے ملبے سے لے کر پائیکان کے مقتولین تک، آسام کا مسلمان آج تاریخ کے بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں اسلاموفوبیا اب ایک فعال ریاستی مشینری کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو شہریت، زمین، روزگار اور تعلیم، ہر سطح پر مسلمانوں کو دانستہ طور پر دیوار سے لگا رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے معاندانہ بیانات، پولیس کی گولیاں اور بلڈوزر کی مسماری مل کر ایک ایسا منظرنامہ پیش کر رہے ہیں جہاں انصاف کا روایتی ترازو مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
‘انڈیا ہیٹ لیب’ کی تحقیق ان خدشات کو اعداد و شمار کی زبان میں بیان کرتی ہے، جس کے مطابق 2025 میں بھارت میں نفرت انگیز تقریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے اور ان میں سے 98 فیصد کا ہدف مسلمان تھے۔ آسام اس لہر کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرا ہے، جہاں 2026 کے انتخابات میں سیاسی برتری حاصل کرنے کے لیے ایک پوری برادری کی زندگی، جائیداد اور وقار کو سیاسی ایندھن بنا دیا گیا۔
ریاست میں پھیلی اس منظم وحشت کا ادراک حافظ رفیق کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے جو اس پورے المیے کا نچوڑ ہیں: “ہم انجانی وحشت میں جیتے ہیں… باہر نکل کر یہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی ہمیں مسلمان سمجھ کر حملہ نہ کر دے۔” بی جے پی کے نئے انتخابی منشور (سنکلپ پتر 2026) میں نہ صرف یکساں سول کوڈ (UCC) کے فوری نفاذ کا وعدہ کیا گیا ہے، بلکہ ان سازشی نظریات (لینڈ و لو جہاد) کے خلاف سخت قوانین وضع کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔ 4 مئی 2026 کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ آسام میں وہی حکومت اور وہی جبر کی پالیسی برقرار رہے گی، بلکہ اب وزیرِ اعلیٰ نے فتح کے بعد بنگالی نژاد مسلمانوں کی “ریڑھ کی ہڈی توڑنے” کا کھلا عہد کر لیا ہے ۔
جلیشور کے ملبے سے پائیکان کے قبرستان تک، آسام کا مسلمان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں اس کی زمین، اس کا خاندان اور اس کی مذہبی شناخت، سبھی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ایک ‘ارلی وارننگ’ ہے کہ آسام میں ‘نسل پرستانہ علیحدگی’ (Apartheid) اب محض سیاسی نعرہ ہے بجائے ایک باقاعدہ حکومتی لائحہ عمل بن چکی ہے، جسے ‘ترقی’ کے لبادے میں ایک پوری برادری کے وجود کو مٹانے کے لیے استعمال کیا جا
رہا ہے۔
اس رپورٹ کا
انگریزی متن ‘اسلاموفوبیا مانیٹر‘ پر ملاحظہ کریں۔
This story was produced in partnership with the Human Rights and Religious Freedom Journalism Grant Program
