تصویر: مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ
ارسلان صدیقی
پریاگ راج: اتر پردیش کے امداد یافتہ مدارس میں طویل عرصے سے جاری تنخواہوں کے تعطل اور الحاق کے تنازعات پر الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو دو ماہ کی حتمی مہلت دے دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ہدایت دی ہے کہ اساتذہ اور عملے کی رکی ہوئی تنخواہوں اور مدارس کی منظوری سے متعلق تمام زیرِ التوا مسائل پر ساٹھ دنوں کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ یہ حکم جسٹس دنیش پاٹھک نے بدر عالم اور 19 دیگر اساتذہ کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر دیا، جس میں جنوری 2026 کے اس حکومتی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت بعض مدارس کی منظوری عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی۔
سماعت کے دوران عدالت نے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو درپیش شدید مالی مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ خاص طور پر جامعہ اشرفیہ جیسے نامور اداروں کا تذکرہ ہوا جہاں عملہ کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہے۔ جسٹس دنیش پاٹھک نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے حساس معاملات کو بلاوجہ طول دینا کسی کے مفاد میں نہیں ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس تعطل کو ختم کرے۔ اگرچہ عدالت نے مقدمے کے قانونی میرٹ پر براہِ راست کوئی رائے قائم نہیں کی، تاہم انتظامیہ کو پابند کیا کہ وہ متاثرہ فریقین کا موقف سن کر ایک مدلل اور قانونی حکم جاری کرے۔
عدالت نے عرضی گزاروں کو یہ راستہ دکھایا کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے رجسٹرار انسپکٹر کے پاس نئی اور تفصیلی درخواست پیش کریں، جس کے ساتھ عدالتی حکم کی مصدقہ نقل بھی منسلک ہو۔ دوسری جانب، ریاستی حکومت اور مدرسہ بورڈ کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا کہ تنخواہوں کے بقایاجات اور الحاق جیسے انتظامی معاملات کو محکمہ جاتی سطح پر زیادہ بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے رجسٹرار کا دفتر موزوں ترین فورم ہے۔
اس عدالتی مداخلت کا ‘مدرسہ عربیہ ٹیچرس ایسوسی ایشن اتر پردیش’ نے بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری دیوان صاحب زمان خان کے مطابق، اساتذہ تنظیمیں پہلے ہی حکام کو اس سنگین صورتحال سے آگاہ کر چکی تھیں۔ انہیں امید ہے کہ مدرسہ بورڈ رولز 2016 کے فریم ورک کے تحت اب اساتذہ کے حقوق کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست کے 560 امداد یافتہ مدارس میں سے 15 اداروں کی منظوری فی الوقت معطل ہے، جن میں سے 4 اداروں کی تنخواہیں مبینہ مالی یا انتظامی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر روکی گئی ہیں۔
حکام نے اس تادیبی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وارانسی، اعظم گڑھ، علی گڑھ اور لکھنؤ جیسے اضلاع میں فنڈز کے درست استعمال اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ادائیگیاں روکنا ناگزیر تھا۔ تاہم، ہائی کورٹ کی دو ماہ کی ڈیڈ لائن نے اب گیند ریاستی حکومت کے پالے میں ڈال دی ہے۔ اتر پردیش کے تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے کو امید کی کرن دیکھا جا رہا ہے، اور اب سب کی نظریں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پر ہیں کہ وہ عدالتی حکم کی روشنی میں مالی استحکام کی بحالی کے لیے کیا عملی اقدامات کرتا ہے۔
