ارسلان صدیقی
بھوپال/نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے کٹنی اور جبل پور ریلوے اسٹیشنوں پر ٹرین سے اتارے گئے مدرسے کے 163 طلبہ کی 14 روزہ آزمائش جمعہ کو اس وقت ختم ہوئی جب انتظامیہ نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تمام طلبہ، جن کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان ہیں، بہار کے ضلع ارریہ سے تعلق رکھتے ہیں اور پٹنہ جنکشن سے دیگر ریاستوں کے مدارس میں تعلیم کے حصول کے لیے جا رہے تھے۔ 10 اپریل کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کو موصول ہونے والی ایک شکایت پر پولیس نے ان بچوں اور ان کے ساتھ موجود آٹھ نگرانوں کو ‘غیر مجاز سفر’ کے شبہے میں حراست میں لے لیا تھا۔
اس معاملے میں اہم موڑ اس وقت آیا جب کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے متاثرہ طلبہ اور ان کے اساتذہ سے ملاقات کی اور ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ان کی رہائی کی تصدیق کی۔ عارف مسعود نے طلبہ کے نگرانوں سے بات چیت کی جنہوں نے بتایا کہ اب وہ واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ریلوے حکام نے کارروائی کے وقت یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ والدین کی عدم موجودگی میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا تعلیمی سفر ‘غیر معمولی’ ہے، جس کی وجہ سے معاملے کو جانچ کے لیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے سپرد کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران مدھیہ پردیش انتظامیہ کے حکم پر بہار پولیس نے بچوں کے آبائی گاؤں جوکی ہاٹ میں گھر گھر جا کر تصدیق کا عمل مکمل کیا۔ والدین کے بیانات اور دستاویزات کی جانچ کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ تمام بچے انسانی اسمگلنگ کے بجائے خالص تعلیمی مقصد کے لیے سفر کر رہے تھے اور انہیں والدین کی رضامندی سے ہی بھیجا گیا تھا۔ ان حقائق کی تصدیق کے بعد انتظامیہ نے بچوں کو ان کے نگرانوں کے حوالے کر دیا۔
اگرچہ حکام اس پوری کارروائی کو قانونی ضابطوں اور بچوں کے تحفظ کا حصہ قرار دے رہے ہیں، تاہم سماجی حلقوں میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس تعطل پر علمی بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی سفر کے دوران محض شک کی بنیاد پر ہونے والی ایسی طویل تحقیقات میں طریقہ کار کی درستی کے ساتھ ساتھ بچوں کے نفسیاتی اثرات کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اب جبکہ تمام طلبہ بے قصور ثابت ہو چکے ہیں، اس واقعے نے تعلیمی سفر کے ضوابط اور انتظامی طریقہ کار کے درمیان توازن کی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے
